کشمیری ’ احتجاج پسند ہیں نہ بھکاری‘

سرینگر //مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ریاستی وزیراعلیٰ کی جانب سے کشمیری عوام کیخلاف ہرزہ سرائی کو پوری کشمیری قوم کی تذلیل کے مترادف قرار دیکر اس پر اپنے شدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار کے نشے میں  موصوفہ نے جس قوم کو احتجاجی اور بھکاری کہہ کر پکارا ہے ،اسکو معلوم ہونا چاہئے کہ جو قوم روزانہ اپنے بچوں کی قربانیاں پیش کرتی ہو جو روز اپنے عزیزوں کے جنازے اٹھاتی ہو اُس قوم کو نہ تو نفع نقصان کا پاٹھ پڑھایا جاسکتا ہے اور نہ حقیر مفادات کے عوض جابر قوتوں کے آگے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا اقتدار کی لالچ اور اس کی حکومت میں ان کے ساتھی بی جے پی نے موصوفہ کو حواس باختہ کردیا ہے ۔ انہوں نے کہاموصوفہ کی سربراہی میں مختلف ایجنسیاں آئے روز نت نئے حربوں سے کشمیری عوام کے عزم کو توڑنے کی کوششیں کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کرسی کی خاطر بار بار دھوکہ دہی سے آج اس قدر حالات پیدا ہوگئے ہے کہ دفعہ370 اور35-A کو منسوخ کرنے کی باتیں کی جاتی ہے تاکہ ہندوستان کے ساتھ کشمیر کو پوری طرح ضم کیا جائے۔انہوں نے کہا کشمیری عوام کی تحریک کو کمزور کرنے کی خاطر ایک منصوبہ بند سازش کے تحت پی ڈی پی کے ساتھ اتحادی حکومت عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے کہا یہ وہی پی ڈی پی ہے جس کے سربراہ مفتی محمد سعید نے بطور بھارت کے وزیر داخلہ یہاں افسپا نافذ کیا جس کے تحت فوج کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی من مرضی کے مطابق کسی کو بھی گولی کا نشانہ بنائیں۔ دوسری طرف کشمیری عوام کو  سیاحت یا دہشت گردی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا نعرہ لگا کر اور دفعہ 370 کے خلاف GST کے اطلاق سے کشمیری معیشت اور سیاحت کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کیا گیا۔کشمیری معیشت کو مزید زک پہنچانے کی خاطر زلف تراشی کے گھناونے واقعات کو عملا کر اسے محض hysteriaکا نام دیا گیا۔ انہوں نے کہا کشمیرمیں ہرشعبہ سے تعلق رکھنے والے بشمول تاجر برادری نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں لہذا ان کا تحفظ کشمیریوں کا قومی فریضہ ہے۔