کشمیریوں کے ساتھ روا سلوک تشویشناک :صلاح الدین

مظفر آباد//حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کو نسل کے چیر مین سید صلاح الدین نے جموں و کشمیر اور بیرون ریاست کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جارہے سلوک کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے دو قومی نظرئیے کی حقانیت پر پھر مہر تصدیق ثبت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ فسطائی چہرے اب بے نقاب ہورہے ہیں ۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ انہیں مسئلہ کشمیر حل کرانے میں دیرنہیں کرنی چاہئے ۔صلاح الدین نے سکھ برادری کا کشمیری عوام کے تئیں کردار کو نا قابل فراموش قرار دیا۔ترجمان متحدہ جہاد کونسل سید صداقت حسین کی جانب سے موصولہ بیان کے مطابق صلاح الدین جہاد کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پلوامہ حملے کی آڑ میں کئی ریاستوں میں ہندو بلوائیوں کو کشمیریوں کے خلاف حملے کرنے ،ان پر تشدد کرنے اور ان کی زندگیوں کو منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت غیر محفوظ بنانے کی کو ششوں کا بھر پور مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔ایک طرف کشمیریوں کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جارہا ہے اور دوسری طرف عالمی برادری خاموشی سے یہ تماشادیکھ رہی ہے ۔جہاد کونسل چیئرمین نے کہا کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے اور مظلوم قوم کو احساس ہوجاتا ہے کہ ان کی جائز آواز سننے کے بجائے،اسے دبانے کے نیچ حربے اختیار کئے جاتے ہیں تو ان حالات میں ہی عادل ڈار جیسے نفوس جنم لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر پوری کشمیری قوم عادل ڈارکے نقش قدم پر جانے کا ارادہ رکھتی ہے تو یہ بلا جواز نہیں ۔ صلاح الدین نے واضح کیا کہ اگر مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں اور آرزئوں کے مطا بق نہ ہوا تو یہ چنگاری نہ صرف اس پورے خطے بلکہ پوری دنیا میںخرمن امن کو خا کستر کرسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور نہتے کشمیری عوام پر ظلم و تشدد کا نتیجہ ہی ہے کہ کشمیری عوام انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔حزب سربراہ نے سکھ برادری کاخراج تحسین پیش کیا جو اس وقت اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی اور بھائی چارے کی ایک نا قابل فراموش تاریخ رقم کررہے ہیں ۔انہوں نے اُن بھارتی رہنمائوں ،دانشوروں کا بھی شکریہ ادا کیا جو ان حالات میں بھی سرکار کو آئینہ دکھا رہے ہیں ۔سید صلاح الدین نے حکومت پاکستان کو بھی مشورہ دیا کہ وہ عالمی برادری کو کشمیریوں پر ہورہے بھارتی مظالم سے آگاہ کرے اور معذرت خواہانہ حکمت عملی کے بجائے ،ایک جارحانہ سیاسی و سفارتی حکمت عملی اختیار کرکے عالمی برادری کو یہ مسئلہ حل کرانے پر مجبور کرے ۔