کشمیریوں کا لہو سستا نہیں

 سرینگر//صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکز کو خبردار کیا ہے کہ وادی میں طاقت کے بے تحاشہ استعمال اور لوگوں کو دبانے سے حالات کو پٹری پر نہیں لایا جاسکتا اس لئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کی حقیقت کو تسلیم کرکے اس دیرینہ اور پیچیدہ مسئلے کے حل کیلئے تمام فریقوں کیساتھ بات چیت کا عمل شروع کیا جائے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے بڈگام میں چنائوی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لئے ٹھوس اور معنی خیز پالیسی مرتب نہیں کی جائے تب تک امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے اور اس کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لئے تمام فریقین بشمول کشمیری عوام کیساتھ بات چیت شروع کرنی چاہئے تاکہ اس کا قابل قبول حل نکلا جاسکے۔انہوں نے افسوس ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کے سینے دن دھاڑے گولیوں سے چھلنی کئے جارہے ہیں، جس سے انسانیت لرزاُٹھتی ہے اور حقوق بشری کے تمام حقوق پامال ہوتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ طاقت کے بے تحاشہ استعمال سے امن لوٹ آنا ناممکن ہے،نوجوانوںکا لہو گرم ہوتا ہے،اس لئے ان کے جذبات اور احساسات کی قدر کرتے ہوئے ان کے ساتھ انصاف اور ان کے امنگوں اور تمناؤںکوپورا کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے مرکز میں موجودہ قیادت اس غلط فہمی کی شکار ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر اور دہشت کے ماحول میں برپا کرنے کرنے سے امن و امان کا فضاء لوٹ آئے گی۔ اگر مرکزی سرکار یہ سوچتی ہے کہ پیلٹ گنوں اور گولیوں کے دہانے کھولنے سے حالات ٹھیک ہونگے تو ان کی غلط فہمی ہے۔ نئی دلی کو براہ راست کشمیر کے حالات خراب کرنے کیلئے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ اگر بھارت کی متواتر حکومتوں نے ہمارے ساتھ بار بار وعدہ شکنی نہ کی ہوتی اور اہل کشمیر کے ساتھ تحریری معاہدوں اور وعدوں کو نظر انداز نہ کیا ہوتا تو ریاست میں آج بد امنی ، خون خرابہ، اقتصادی بدحالی ، سیاسی انتشار اور خلفشار نہ ہوتا۔ پی ڈی پی وزیر اعلیٰ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ وہی محبوبہ مفتی ہے جو ملی ٹنٹوں اور عام شہریوں کے جاں بحق ہونے پر سبز پوشاک میں نکل کر سینہ کوبی کرتی تھی ،مگر مچھ کے آنسوں بہاتی تھیں اور سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے کرتی تھی لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد موصوفہ کو کسی کی بھی ہلاکت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آج موصوفہ معصوم بچوں کی ہلاکتوں کیلئے خود انہیں اور ان کے والدین کو ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی بھاجپا حکومت کے قیام کے ساتھ ہی ریاست بدامنی کی شکار ہوگئی، یہ مخلوط اتحاد، سیاسی، سیکورٹی او ر انتظامی سطح پر بری طرح ناکام ثابت ہوا۔