کشمیریوں پر حملے مذموم

سرینگر//بھارت کی مختلف ریاستوں میں کشمیریوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے کی جاری کاروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے بیرون ریاست کشمیری طلاب اور تاجروں کی مدد کرنے اور انہیں فرقہ پرستوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کیلئے سکھ برادری اور دیگر انسانیت دوست حلقوںکے کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔ آغا حسن نے کہا کہ کشمیری طلاب کو ان کے والدین نے بیرون ریاست کسی سیاسی مشن کی آبیاری کیلئے نہیں بلکہ حصول تعلیم کیلے بھیجا ہے۔ان طلاب کو سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنانا بلاجواز اور انسانیت سوز ہے۔ مرکزی امام باڑہ بڈگام میں جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ بیرون ریاست کشمیری طلاب، تاجر اور دیگر پیشوں سے وابستہ کشمیریوں کو تحفظ اور قیام و طعام کی سہولیات فراہم کرکے سکھ برادری نے احترام انسانیت کی ایک مثال قائم کی ۔ اس بے بدل احسان کو کشمیری قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سکھ برادری نے ایک نازک مرحلے پر کشمیریوں کے ساتھ انسانی بنیادوں پر یکجہتی اور ہمدردی کا مظاہرہ کرکے دنیا کو دکھلادیا کہ وہ گرونانگ جی کے احترام انسانیت کے فکرو پیغام کی لاج رکھنے کیلئے کسی بھی قوت سے ٹکرانے کی ہمت رکھتے ہیں۔ اس موقعہ پر آغا حسن نے عالمی سطح پر مسٔلہ کشمیر کے حل کیلئے اٹھ رہی آوازوں کا خیر مقدم کرتے ہوے کئی ممالک کی طرف سے بھارت اور پاکستان کو تنازعہ کشمیر حل کرنے کیلئے مذاکرات کا مشورہ جنوب ایشائی خطے کے امن و استحکام کیلئے عالمی برادری کی فکرمندی کی عکاسی کرتا ہے اور اگر بھارت واقعی خطے میں دیر پا امن و استحکام کا متمنی ہے تو اسے پاکستان کو دھونس دھمکیوں کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ آغا حسن نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے عوام دو ممالک کے درمیان کسی اور عسکری تصادم کے متحمل نہیں ہوسکتے۔اس صورتحال میں عالمی برادری کو دو ممالک کے درمیان بڑھ رہی کشیدگی کے سدباب کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔