کشمیریت کا جذبہ ابھی زندہ

سرینگر// وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ یاتریوں کی ہلاکت پر بڑے پیمانے پر ریاست کے عوام کی طرف سے مذمت کئے جانے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیریت کا جذبہ ابھی زندہ ہے اور ریاست کے عوام دہائیوں سے تشدد کا شکار ہونے کے باوجود بھی ایسے بیہمانہ حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جس طر ح سے سماج کے ہر طبقے نے بلا لحاظ نظریات کے اس حملے کی مذمت کی ہے اس سے کشمیر کی یگانگت کی عکاسی ہوتی ہے جس کے لئے ریاست جانی جاتی ہے۔انہوںنے کہا کہ زخمیوں کو خون کا عطیہ فراہم کرنے کی مقامی نوجوانوں کی کوششوں ،مقامی دیہاتیوں کی بازا ٓباد کاری اوپریشنوں میں مدد کرنے یا سول سوسائٹی ممبران ، طلباء ، تاجران ، وکلاء ،کارکنان ،ادباء اور دیگر افراد کی طرف سے ہلاکتو ںکی مذمت پر دھرنا کرنے سے اُن افراد کو سخت جواب ملا ہے جو ریاست کے عوام کو مسلکی اور ریجنل خطوں پر تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ امرناتھ یاترا صدیوں پرانی روایت ہے جس میں مقامی مسلمان برادری کا فی مدد فراہم کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کشمیر یت کی ہی شان ہے کہ پوتر گپھا کی کھوج ایک مقامی مسلمان نے ہی کی تھی ۔محبوبہ مفتی نے ملک کے عوام کی دانشمندی کو سلام پیش کیا جنہوں نے اس حملے کو مسلکی رنگ دینے والے عناصر کی سازشو ں کو ناکام بنادیا۔