کشمیرمیں چہار سو کشت و خون کا سلسلہ جاری: میرواعظ

 سرینگر// حریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے نہتے کشمیری عوام کے خلاف جاری فورسز کی پُر تشدد کارروائیوں کو نا قابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت اور فوجی قوت کے بل پر یہاں کے عوام کو بے بس بنا دیا گیا ہے۔افسپا اور دیگر کالے قوانین کے ذریعے فوج اور فورسز کو لوگوں کے قتل و غارت کا لائسنس دیا گیا ہے اور یہاں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو طاقت کے بل پر پشت بہ دیوار کرکے ان کو زبردستی تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے کیونکہ یہاں سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لئے سیاسی مکانیت (Political Space) کو مسدود کردیا گیا ہے۔ محبوس میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ کشمیر میں ہر چار سو کشت وخون کا سلسلہ جاری ہے اور شوپیاں کا حالیہ سانحہ جہاں ہمارے لئے کافی تکلیف دہ ہے وہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کوئی پہلا سانحہ نہیں ہے اوریہاں اس سے قبل بھی متعدد خونی سانحات رونما ہوتے رہے ہیں، یہاں ہر روز کشمیری عوام کو اپنے عزیزوں کے جنازے اٹھانے پڑ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی اس طرح کا کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو حکومت سب سے پہلے مزاحمتی قیادت کو گھروں اور تھانوں میں مقید کر دیتی ہے، شہر میں کرفیو، بندشوں اور قدغنوں کا نفاذ عمل میں لایا جاتا ہے۔ انٹرنیت اور موبائیل سروس بند کردی جاتی ہے ۔ آخر کب تک بندشوں ، رکاوٹوں اور قدغنوں کا یہ سلسلہ جاری رہیگا۔ میرواعظ نے کہا کہ مزاحمتی قیادت کی پُر امن سیاسی سرگرمیوں پر طاقت کے بل پر پابندیاں عائد کی جاتی ہے ، شوپیاں جیسے سانحات پر احتجاج کرنا تو دور کی بات ہمیں متاثرہ خاندانوں اورشہداکے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے شوپیاں سانحہ کے حوالے سے حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن بٹھائے جانے کے اعلان کو محض خانہ پری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی یہاں متعد د خونین سانحات کی تحقیقات کیلئے کمیشن بٹھائے گئے ان کا کیا حشر ہواآج تک کسی بھی ملوث مجرم کو نہ تو گرفتار کیا گیا اور نہ سزا دی گئی۔ ان حالات میں حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کیا جواز بنتا ہے۔