کشمیرمیں ابتک کا وسیع ترین کریک ڈائون

 
سرینگر //کشمیر میں دہائیوں کے بعد عام شہریوں کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا کریک ڈائون کیا جارہا ہے۔بھارت مخالف احتجاج کی لہرجس کے100دن آج پورے ہوئے، کو کچلنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اب تک قریب8000لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے۔شبانہ چھاپے، گرفتاریوں کرنے، مکانوں کی توڑ پھوڑ کرنے، گھریو املاک کو تباہ کرنے، گاڑیوں کی توڑ پھوڑ، عام شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ ، پیلٹ گن کا بے تحاشا استعمال اور بیک وقت دیگر کارروائیاں کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ہورہی ہیں۔1990کے بعد فورسز کی جانب سے جنگجو مخالف کارروائیوں کے دوران بھی پچھلے26برسوں کے دوران اتنی تعداد میں تین ماہ کے اندر نہ ہلاکتیں ہوئیں، نہ زخمی ہوئے نہ گرفتاریاں ہوئیں اور نہ سیفٹی ایکٹ کا اطلاق عمل میں لایا گیا۔ابھی تک100روز کے دوران قریب600افراد کے خلاف سیفٹی ایکٹ کا اطلاق عمل میں لایا جاچکا ہے اور ان میں سے بیشتر بیرون وادی جیلوں میں منتقل کرئے گئے ہیں۔بڑے پیمانے پر شہریوں کے خلاف کریک ڈائون کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف پچھلے ہفتے400نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی جاچکی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی1500مزید نوجوانوں کی گرفتاریاں عمل میں لانی ہیں۔100روز کی ایجی ٹیشن کے دوران سرسری اعدادوشمار کے مطابق 2000رہائشی مکانوں کی توڑ پھوڑ کی جاچکی ہے،400سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں فورسز کی جانب سے تباہ کی گئیں اور 190سکوٹر اور موٹر سائیکل یا تو جلائے گئے یا مکمل طور پر ناکارہ بنائے گئے۔6 لاکھ روپے کا میوہ جنوبی اور شمالی کشمیر میں برباد کیا گیا۔قریب150بجلی ٹرانسفارمر بھی ناکارہ بنائے گئے۔شہری آبادی میں اس طرح کی کارروائیاں کشمیر کی تاریخ میں اس سے قبل کبھی دیکھنے کو نہیں ملتی ہیں۔1953میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں تھیں جن کی صحیح تعداد کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا جاسکتا، لیکن اس طرح بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کرنے اور اندھا دھند طریقے سے سیفٹی ایکٹ کا اطلاق اور شہری املاک کی توڑ پھوڑ کشمیر کی نئی تاریخ رقم کررہی ہے۔100دن کی ایجی ٹیشن کا یہ آپریشن ستمبر کے دوسرے ہفتے سے شروع ہوا جو ابھی بھی جاری ہے۔وادی کا ایسا کوئی گائوں نہیں، کوئی بستی نہیں، کوئی قصبہ نہیں، کوئی محلہ نہیں جہاں اس قسم کا آپریشن نہیں کیا گیا ہو۔غور طلب بات یہ ہے کہ پچھلے ماہ ریاستی حکومت نے وادی کی مساجد کے اماموں کی فہسرت مرتب کی تھی جس پر عمل کرتے ہوئے ابھی تک 100مساجد کے اماموں کو پابند سلاسل کیا جاچکا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ عمر رسیدہ افراد کے علاوہ نابالغ بچوں کو بھی تھانوں میں بند کردیا گیا ہے۔داخلی سلامتی کے لئے ریاستی پولیس کو حکومت کی جانب سے یہ مکمل چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ جسے چاہے گرفتار کرے، جہاں چاہے توڑ پھوڑ کرے ،جسے چاہے سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کرے اور اسی ہدایت پر پولیس عمل پیرا ہے۔100دن کی دھماکہ خیز صورتحال میں فورسز کی فائرنگ سے96ہلاکتیں ہوئیں،14000 کے قریب زخمی ہوئے ،800سے زائد کی آنکھوں کو پیلٹ گن کا براہ راست نشانہ بنایا گیا اور70کے قریب نوجوان یا تو ایک آنکھ یا پھر دونوں آنکھوں کی بینائی سے متاثر ہوئے۔