کشمیر:برف باراں کے بیچ 8 جنوری کو بھاری برف باری کی پیش گوئی، اورینج الرٹ جاری

سری نگر//شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ ، پہلگام اور دیگر بالائی علاوں میں برف باری اور میدانی علاقوں میں بارشوں کے بیچ محکمہ موسمیات نے بھاری برف کی پیش گوئی کرتے ہوئے ’اورینج‘ الرٹ جاری کر دیا ہے۔
 
متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی کشمیر میں 7 جنوری کو دن گذرنے کے ساتھ ساتھ موسم کڑا رخ اختیار کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 7 جنوری کی شام سے برف باری شروع ہوگی جو 8 جنوری کو بھی جاری رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد وادی میں 9 جنوری سے موسم میں بہتری واقع ہونے کا امکان ہے۔
 
محکمہ موسمیات نے موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر ’اورینج‘ الرٹ جاری کرتے ہوئے ان علاقے کے لوگوں جہاں برفانی تودے گر آنے کے خطرات لاحق رہتے ہیں، سے گھروں سے باہر نکلنے سے احتراز کرنے کی اپیل کی ہے۔
 
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ خراب موسمی صورتحال سے آٹھ جنوری کو فضائی و زمینی ٹرانسپورٹ ایک بار پھر متاثر ہوسکتا ہے۔لوگوں سے تاکید کی گئی ہے کہ وہ ایڈوائزری پر عملدر آمد کو یقینی بنائیں۔
 
 
ادھر گرمائی دارلحکومت سری نگر میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 3.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ شب 0.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔سری نگر میں 18 دسمبر کو رواں موسم کی سردترین رات درج ہوئی تھی جب کم سےکم درجہ حرارت منفی6.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام گلمرگ، جہاں تازہ برف باری کا سلسلہ جاری ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت منفی5.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ شب منفی3.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام جہاں جمعے کی صبح تک 0.4 ملی میٹر تازہ برف ریکارڈ ہوئی ہے، میں کم سے کم رجہ حرارت منفی0.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ منفی0.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کم سے کم درجہ حرارت 0.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ جہاں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 4.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت 0.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
 
لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی1.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی9.8 ڈگری سینٹی گریڈ اور قصبہ دراس میں کم سے کم درجہ حرارت منفی12.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
 
قابل ذکر ہے کہ سردیوں کا بادشاہ ’چلہ کلان‘اکیس دسمبر سے اپنے چالیس روزہ مسند اقتدار پر پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ افروز ہوگیا۔
 
چلہ کلان جو ’شہنشہاہ زمستان‘ کے نام سے بھی وادی کے قرب وجوار میں مشہور ہے،21 دسمبر سے شروع ہو کر31 جنوری کو اختتام پذیر ہوتا ہے۔اس کے اختتام کے بعد بیس روزہ چلہ خورد تخت نشین ہوجاتا ہے تاہم اس کی حکومت کے دوران سردی کی شدت میں بتدریج کمی واقع ہونے لگتی ہے تاہم بھاری برف باری کو کارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔