کشتواڑ کے متعدد علاقے بنیادی طبی و سڑک سہولیات سے محروم

کشتواڑ// کشتواڑ کے کئی پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر لوگ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ دورافتادہ علاقہ جات میں بنیادی سہولیات کا فقدان پایا جا رہا ہے۔بالائی علاقہ جات مڑواہ، واڑوان، دچھن، مچیل، اشتاری،بونجواہ و کنتواڑہ علاقہ جات ایسے ہیں جہاں اس آج بھی سڑک جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ان علاقہ جات میں اگرکوئی شخص زیادہ علیل ہوتو اسے چارپائی یا مقامی سطح پر تیار کے گے لکڑی کے کھمبوں کے بناے عارضی سٹریچر پر بھاند کر انہیں اسپتال منتقل کرتے ہیں۔ علاقہ دچھن سے چند روز قبل دوخواتین کو زیادہ تکلیف کے بعد جب مزید علاج و معالجے کیلئے ضلع ہسپتال منتقل کیا گیا تو انھیں مقامی لوگوں کی مدد سے چارپائی پر اٹھائی کر کی گھنٹوں کا سفرطے کرنے کے بعد سڑک تک پہنچایاگیا جسکے بعڈ انھیں ضلع ہسپتال منتقل کیا گیا۔ مقامی نوجوان عرفان نے بتایا کہ علاقہ کی عوام کیلئے یہ معمول کا حصہ ہے جب کبھی مرد یا خواتین کو تکلیف ہوتی ہے تو مقامی لوگوں کی مدد سے اسے چارپائی پر اٹھاکر رسی سے باندھ کر نزدیکی ہیلتھ سینٹر یاپھر ضلع ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔ علاقہ میں سڑک کی سہولیات دستیاب نہیں اور دشوار راستے سے گزرنا پڑتاہے۔ان علاقہ جات میں آج تک نہ سڑک اور نہ بہتر طبی نظام ممکن ہوسکا۔ جس سے مریضوں کو بہتر علاج دستیاب ہوسکے۔ 15ہزار سے زائد آبادی والے علاقہ میں چند ڈاکٹر تعینات تو کے گئے ہیں جو پورے علاقے کو چلاتے ہیں لیکن طبی مرکز میں سہولیات نہ ہونے کے سبب عوام معمولی ٹیسٹ و دیگر علاج کیلئے دور کے ہسپتالوں میںجانے کیلئے مجبور ہوجاتی ہے۔ جبکہ متعدد مرتبہ وقت پر علاج میسر نہ ہونے کے سبب مریض کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔ اگر علاقہ میں بہتر طبی سہولیات ہوتی تو عوام دردر کی ٹھوکریں نہ کھاتی،سات دہائیوں بعد بھی علاقہ کے حالات نہ بدل سکے اور ہم اج بھی قدیم دور کی زندگی بسر کرنے پر مجبور  ہیں۔ وقت کے حکمرانوں نے صرف ہمارا استعمال کیا اور اب امیدیں مرکزی سرکار سے جٹی ہوئی ہے۔ضلع کشتواڑ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن نے بتایا کہ ضلع کے اندر طبی سہولیات کی حالت انتہائی ناقص ہے۔ جہاں ڈاکٹروں طبی عملے کا فقدان ایک سنجیدہ مسئلہ ہے وہیں قائم کئے گئے ہیلتھ مراکز کے اندر سہولیات بھی دستیاب نہیں ہوتی جبکہ ہرسال کروڑوں روپے کی ادویات و دیگر چیزیوں کی میعاد ختم ہوجاتی ہے لیکن انھیں ضرورت مند کو فراہم نہیں کیاجاتاہے۔وہیں مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے کیلئے ایمولینس بھی وقت پر نہیں میسر ہوتی۔انتظامیہ کو ضلع کے اندر دورافتادہ علاقہ جات کی عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئے تاکہ لوگوں کی مشکلات کابروقت ازالہ ممکن ہوسکے۔