کشتواڑ میں جنگجو کی 2بہنوں کی گرفتاری

سرینگر//حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی نے کشتواڑ میں پولیس کی جانب سے ایک جنگجو کی ماں اور دو بہنوں کو گرفتار کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں صنف نازک کو جنگی ہتھیار کے طور استعمال کیا جاتا ہے۔ حریت بیان میں کہا گیا کہ کشتواڑ میں گزشتہ ماہ بے جے پی لیڈرا ور اس کے بھائی کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہوئی ہلاکت کے بعد پولیس نے ایک مقامی جنگجوکی ماں اور اس کی دو بہنوں تحمین جاوید اور تحمیمہ جاوید ساکن دچھن کشتواڑ کو 3؍نومبر کو گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے بعد اگرچہ ان کی ماں کو رہا کردیا گیا، مگر ان دو بہنوں کو بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے کردیا گیا جنہوں نے ان کو دہلی لے لیا۔گیلانی نے ان معصوم بچیوں کو دہلی لے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اہل خانہ خصوصاً صنفِ نازک سے انتقام لینا غیر انسانی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بار بار کہا ہے اور ہماری غیر مبہم پالیسی رہی ہے کہ سیاسی بنیاد پر کسی بھی شخص کو قتل کرنا جائز نہیں ہے چاہے اس کے نظریات اور خیالات مختلف کیوں نہ ہوں۔حریت راہنما نے کہا کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ ان افراد کی ہلاکت کے پیچھے کسی عسکریت پسند کا ہاتھ ہوسکتا ہے تو اس کے بدلے اس کی ماں اور بہنوں کو انتقام کا نشانہ بنانے کا کیا جواز ہے؟  اگر جرم کسی اور نے کیا ہے تو اس کی سزا کسی اور کو دینا قانون اور انصاف کا خون ہے۔ اس دوران گیلانی نے معراج الدین سوپور کی نماز جنازہ میں شامل لوگوں پر طاقت کے بے تحاشا استعمال کے نتیجے میں درجنوں لوگوں کو زخمی کرنے کی فورسز کی کارروائی کو سرکاری دہشت گردی قرار دیا ۔