کسِ کسِ کا ذکر کیجئے کسِ کسِ کو روئیے

آہ ! یہ میرا ملک کن راہوں پر گامزن ہو گیا ہے ؟ جن پر چل کر سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ نظر نہیں آ رہا ۔ہمارا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے اس ماحول میں جہاں زمانہ طفل سے ہی" ہندو مسلم سکھ عیسائی ، آپس میں ہیں بھائی بھائی " کے نعرے سنتے رہے تھے ،وہیں آج ہندستان کی فضاء میں ہندو ،ہندوتو، اور ہندو ازم کے نعرے بلند ہیں ۔ ہندستان جسے ہمیشہ رنگ برنگے پھولوں کے گلدستے سے تشبیہ دی جاتی رہی ہے ،اس گلدستے سے تمام رنگوں کے پھولوں کو نوچ کر صرف بھگوا پھولوں سے سجانے کی پرزور کوشش کی جا رہی ہے ،اس ملک میں روز ہی کوئی نہ کوئی ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن کو سن کر دل تڑپ اٹھتا ہے ۔ع
         کس کس کو یاد کیجیے کس کس کو روئیے
          دن رات لوٹ مار ہے مزہب کے نام پر  
جو ملک ہمیشہ سے سیکولرزم کی مثال تھا آج اسی ملک میں سیکولرزم کی بات کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔اس خوف نے کہ کہیں لب کشائی کی سزا مہنگی نہ پڑ جائے ،آج نہ معلوم کتنے ہی لبوں پر قفل لگا دیے ہیں ۔لیکن موجودہ دور میں وطن عزیز میں روزانہ کچھ نہ کچھ ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن پر چپ رہنا مردہ ضمیر کی علامت ہے اور ایک ذی فہم طبقہ ،چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو ،اسے برداشت نہیں کر سکتا ۔یہ صرف چند مٹھی بھر افراد ہیں جو اپنی عدم فہمی کے سبب سارے ملک کی فضاء کو آلودہ کرنے پر آمادہ ہیں ۔یہ فرقہ پرست طبقہ کہیں کھلے میں نماز ادا کرنے پر شور برپا کرتا ہے ، تو کہیں مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کے نعرے بلند کرتا ہے ، ہندو ازم کا کیڑا اس قدر اِن کے دماغ میں بیٹھ گیا ہے کہ پارلیمینٹ کی ایک اسٹننگ کمیٹی نے اسکولی کتابوں کے نصاب میں اصلاح کے لیے سفارشات پیش کرتے ہوئے چاروں ویدوں اور بھگوت گیتا کو نصاب میں شامل کرنے کی تجویز دے ڈالی ۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی، یہ بھی کہا گیا کہ تاریخی شخصیات اور مجاہدین آزادی کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ اسی لیے این سی آر ٹی کی تاریخی کتابوں میں تبدیلیاں کی جائیں جبکہ انڈین ہسٹری کانگریس نے پہلے ہی ان سفارشات کی مخالفت کر دی ہے ۔
  ایک اور خبر یو ٹیوب اور سوشل میڈیا پر سننے اور دیکھنے میں آئی، جسے سن کر روح تار تار ہو گئ اور ملک کا تاریک مستقبل نظروں کے سامنے رونما ہو گیا ،کچھ فرقہ پرست افراد جو اپنے آپ کو دھرم گرو کہتے ہیں انہوں نے ہری دوار میں تین دن کا اجلاس کیا اور اس اجلاس میں مذہب خاص کے لیے ایسی زہر میں بجھی ہوئی اور اشتعال انگیز تقریریں اور بیانات سننے میں آے ،جنہیں رقم کرنے سے ہمارے قلم نے انکار کر دیا ۔وہ نہ صرف خود نفرت کی آگ میں جھلس رہے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی تشددکے لیے اکسا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے ملک میں مسلمانوں کا اسی طرح خاتمہ کر دو جس طرح روہنگیا مسلمانوں کا کیا گیا ہے ۔ یقیناً اس طرح کے بیانات ملک کی تباہی اور بربادی کا سگنل ہیںکیونکہ ملک میں کسی بھی ایک طبقہ کو جس تناور درخت کی جڑیں اس مٹی میں دور تک پھیلی ہوئی ہیں اکھاڑ کر پھینکنا اتنا آسان نہیں ہے ۔یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ مٹھی بھر لوگ پورا ملک ہیں۔ تو یہ ان کی کم فہمی ہے کیونکہ یہ چند فرقہ پرستوں کی سوچ ہے ۔ملک کی اکثریت اس سے متفق نہیں ، زمینی حقیقت یہی ہے کہ یہ صرف سیاست کے جال ہیں جو اقتدار میں بنے رہنے کے لئے ملک کی اکثریت پر پھینکے جا رہے ہیں تاکہ ان کے عقل و فہم پر مذہب کی چادر ڈال کر ان تمام موضوعات سے بھٹکا دیا جائے، جن پر آج گفتگو کی سخت ضرورت ہے۔ظاہر ہے جب سیاست کی منڈی میں صرف نفرت تعصب اور فرقہ پرستی فروخت کرے گی تو کون صحت ،تعلیم روزگار اور قومی سلامتی کی بات کرے گا ۔تاریخ شاہد ہے جس ملک اور معاشرے میں ظلم ،تشدد اور فرقہ وارانہ فسادات عام ہو جاتے ہیں وہاں کی تمام ترقیاتی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر ملک تباہی اور بربادی کی طرف گامزن ہو جاتا ہے ۔ایسے میں صحیح سوچ رکھنے والے تمام ہندوستانیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ۔ وہ اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت کے لیے آگے آئیں اور ان فرقہ پرست طاقتوں کو منھ توڑ جواب دیں ۔اگر اس کام کو وقت رہتے انجام نہیں دیا گیا تو ملک میں اس کے بہت منفی نتائج سامنے آئیں گے۔نفرت کی یہ آگ سارے ملک کو جلا کر بھسم کر دیگی ۔ہم اپنے ملک کے تمام باشندگان سے التماس کرتے ہیں خدارا ہوش کے ناخون لیں اور مذہب اور نفرت کی اس چادر سے باہر نکل کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت کریں اور قوم و ملک کے روشن مستقبل کی طرف اقدامات اٹھائیں۔