کسانوں کی بہبود کیلئے چند سکیمیں | کسان حضرات ان سکیموں کا فائدہ اٹھائیں زراعت

سہیل بشیر کار، بارہمولہ کشمیر

یہاں پر کسانوں کی بہبود کے لئے چند اسکیموں کا تعارف دیا جا رہا ہے تاکہ کسان حضرات ان اسکیموں سے مستفید ہوں:
(1)پردھان منتری کسان سمّان ندھی۔
:وہ کسان جن کے نام 2019 سے پہلے زمین درج ہے؛کسانوں کے ایسے تمام پریواروں کو سالانہ 6ہزار روپے کی مالی معاونت ملتی ہے ۔ مذکورہ امداد ہر چار ماہ کے بعد دو دو ہزار کی صورت میں براہِ راست کسانوں کے بنک خاطے میں جمع ہوگی۔ کسانوں کو اپنے ایگریکلچر آفس میں ایک فارم بھرنا ہوتا ہے، جس پر پٹواری یہ لکھ کر دیتا ہے کہ مذکورہ کسان کے پاس زمین درج ہے، ساتھ ہی ہر کسان کو کسی بھی خدمت سینٹر پر ekyc کرنا پڑتا ہے۔اس سکیم کی خصوصیت یہ ہے کہ رقم پی ایم آفس سے ڈائریکٹ کسانوں کے کھاتے میں جمع ہوتی ہے۔صرف ایک زمینداد کو اپنے آپ کو رجسٹر کرانا پڑتا ہے، اگر کسان یا کسان کے گھر کا کوئی فرد ملازم ہے تو وہ اس اسکیم کے لیے eligible نہیں ہے۔اس وقت PM kissan کے تحت جموں و کشمیر میں 6 لاکھ سے زائد افراد اس اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
(2)پردھان منتری کسان مان دھن یوجنا:۔
ہر وہ فرد جس کی عمر 18 سال سے 40 سال کے بیچ ہو پردھان منتری کسان مان دھان میں رجسٹر کر سکتا ہے۔ ماہانہ قسط پریمیم ۵۵ سے دوسو روپے کے بیچ رہتا ہے ،جس کی عمر زیادہ ہو،اس کو زیادہ پریمیم جبکہ جس کی عمر کم ہو، اس کا پریمیم کم رہتا ہے۔اگر کوئی اٹھارہ سال کی عمر میں خود کو رجسٹر کرتا ہے تو اس کا پریمیم صرف 55 روپے ماہانہ کٹتا ہے اور جس کی عمر 40 سال ہو اس کا پریمیم 200 روپے رہتا ہے۔ اس یوجنا کے تحت چھوٹے اور کمزور درجے کے کسانوں کو پینشن اسکیم کے ذریعے سماجی تحفظ ملتا ہے ۔ اس یوجنا کے تحت ہر وہ کسان جس کی عمر 60 سال پہنچتی ہے، اس پنشن اسکیم کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مذکورہ اسکیم رضاکارانہ نوعیت کی ہے۔
(3)پردھان منتری فصل بیما یوجنا:۔
اس یوجنا کا مقصد ایسے کسانوں کو مالی امداد فراہم کرنا ہے جن کو غیر متوقع حالات کی وجہ سے فصل کی پیداوار میں نقصان اُٹھانا پڑا ۔ کشمیر میں اس اسکیم کو خریف 2023 میں مکی اور دھان کی فصل پر لاگو کیا گیا،جبکہ ربی کے لیے سرسوں کو رکھا گیا ہے۔اس فصل بیما میں معمولی پریمیم رہتا ہے،دھان کے لیے 85 روپے ایک کنال پر پریمیم رہتا ہے۔نقصان ہونے کی صورت میں زمینداد کو مبلغ 4200 تک کی مدد ملتی ہے۔مکی کا پریمیم 60 روپے فی کنال ہے۔نقصان ہونے کی صورت میں ایک کنال میں 3000 روپے تک کی مدد ملتی ہے ،سرسوں کا پریمیم صرف 37 روپے ہے جبکہ نقصان ہونے کی صورت میں کسان کو 2400 روپے تک کی مدد ملتی ہے۔
(4)پردھان منتری جیون جیوتی بیما یوجنا:۔
یہ یوجنا 18 سال سے لے کر 50 سال تک کے لوگوں کو حاصل رہے گی، جس کے تحت یکم جون سے 31 مئی تک سالانہ 2 لاکھ کا لائف کوَرحاصل رہے گا،جسے بعد میں ہرسال 436روپے جمع کرکے توسیع دلائی جاسکتی ہے۔ یعنی اگر کوئی کسان یہ انشورنس کرتا ہے اور اگر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے تو اس کے افراد خانہ کو دو لاکھ روپے ملیں گے۔ہر سال جون کے ماہ میں اس انشورنس کو کیا جاسکتا ہے،کسی بھی بنک میں اس اسکیم کے لیے خود کو رجسٹر کیا جا سکتا ہے۔
(5)پردھان منتری سرکشا بیما یوجنا:۔
یہ انشورنس کسی بھی حادثہ میں ہونے والی موت کے وقت افراد خانہ کو دو لاکھ روپے کی مالی امداد دی جاتی ہے۔اس یوجنا کا پریمم صرف 20 روپے سالانہ رہتا ہے۔اس یوجنا کے تحت accident میں ہونے والی موت پر دولاکھ روپے کی انشورنس اسکیم مہیا رکھی گئی ہے ۔ اس اسکیم کی مدت ایک سال تک ہے جو بعد میں 20 روپے جمع کرکے ہرسال بڑھائی جاسکتی ہے۔
(6) کسان کریڈٹ کارڈ:۔
کسان کو پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے، ایسے میں کسان بھائیوں کے لئے کم انٹرسٹ پر قرضہ مل سکتا ہے۔اس اسکیم کے تحت کسان تین لاکھ تک کا قرضہ کم سود کی شرح پر اُٹھاسکتے ہیں۔اس کے علاوہ کسان قرضے کی رقم تین سال کے لئے بھی لے سکتے ہیں جس کی بھرپائی انہیں تبھی کرنی ہوگی، جب فصل کی کٹائی مکمل ہوجائے۔ ایک لاکھ ساٹھ ہزار تک کے قرضوں کے لئے کسی بھی ضمانت کی ضرورت نہیں ہوگی۔اگر کوئی قسط وقت پر بھی ادا کریں تو شرح سود میں اور کمی کی جاتی ہے۔
رابطہ 9906653927