کر گل کی فریاد!

   تین سال قبل ریاست میں فوڈ سیکورٹی قانون نافذالعمل کیا گیا ۔ریاست کے دیگر حصوں کی طرح کرگل میںمتعلقہ محکمہ نے سرکاری راشن گھاٹوں میں اس قانون کو من و عن عملانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی لیکن بد قسمتی سے اس قانون کے تحت جو پورے جموں و کشمیر میں جو یکسانیت برتی جا رہی ہے ،اس سے کرگل میں لوگوں کو بہت ساری مشکلات پیش آرہی ہیں کیونکہ اس قانون کے مطابق اے۔پی ۔ایل اور بی ۔پی ۔ایل زمروں میں آنے والے کنبوں کو فی کس تین کلو آٹا اوردو کلو چاول راشن ماہانہ دیا جاتا ہے ۔ یہ مقدار روزمرہ ضرورت کے لحاظ سے مقامی صارفین کے لئے بہت ہی ناکافی ہے ۔اس لئے راشن کی کمی پورراکرنے کے لئے صارفین مجبوراً کھلے بازار سے چاول آٹااور چینی خریدنے کے لئے مجبور ہیں ۔ ظاہر ہے بازار کا یہ راشن مقامی آبادی کو سرکاری نرخوں کے مقابلے میں مہنگے داموں خرید نا پڑتا ہے جب کہ یہ مالی بوجھ ان کی قوت خرید سے ماوراء ہونا قدرتی بات ہے ۔نتیجہ یہ کہ ایک طرف ناداری اور دوسری طرف مہنگائی عوام کا کچومر نکالتی جارہی ہے ۔
 یہ امرذہن نشین رہے کہ لداخ خطے میں کھیتی باڑی کے لئے صرف پانچ ماہ کا قلیل عرصہ ملتا ہے ،اس میں بڑی مشکل سے صرف ایک مرتبہ کھیتی بوائی کا موقع ملتا ہے ، جب کہ پہاڑوں میں گھرا ہونے کے سبب پورا خطہ کھیتی کے لئے درکار رزخیز زمین سے تہی دامن ہے ۔ کا شت کاری کے لئے زمین کی قلت کا عالم یہ ہے کہ آپ کو بڑی مشکل سے کسی زمین دارکے پاس دو تین کھیت ملیں گے ۔ نیز یہاں ٹھنڈا ور شدید برف باری سے بھی آب و ہوا بہت متاثر رہتی ہے ۔ اس لئے جو بھی فصل یہاں اُگائی جائے اس پر خرچہ اخراجات جب آمدن سے زیادہ ہو تو کسی بھی کاشت کار کو پریشانیاں لاحق ہونا قابل فہم بات ہے۔اس وجہ سے لوگوں کی اکثریت اب کھیتی باڑی سے دور ہو تی جارہی ہے ۔ سردیوں میں شاہراہ سات ماہ تک بند ہوجانے سے خطے کا زمینی رابطہ دنیا سے مکمل طور سے کٹا رہتاہے اور خطے میں اشیائے خوردو نوش کی قیمتیں آسمان  چھو جاتی ہیں ۔ لہٰذا علاقہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں پسماندہ بھی ہے اور اَن گنت مصیبتوں سے دوچار بھی ۔ ایسے میں فوڈ سیکورٹی نظام نے غرباء کی زندگیاں اور بھی اجیرن کر کر کے رکھ چھوڑدی ہیں ۔ یہ ایک کھلاراز ہے کہ کرگلی لوگوں کے پاس اپنا کوئی آزادانہ ذریعہ معاش نہیں ،  یہاںکوئی کارخانہ یا فیکٹریاں بھی نہیں ،کوئی کمپنی علاقہ میں سرمایہ کاری نہیں کر رہی،آرمی میں پورٹر کا کام بھی بڑی مشکل سے صرف چند لوگوں کو قرعہ اندازی سے ملے توملے ، کوئی نفع بخش کھیتی باڑی بھی نہیں ہوتی ۔ ایسے میں جب ایک سرکاری ملازم اپنی روزمرہ ضروریات کی پوری کفالت سے کرنا معذور ہوتو بے روز گار طبقے پر کیا گزرتی ہے ؟اس کا شاید کسی کواندازہ بھی نہیں ۔ ان تمام مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے  انتظام وانصرام کے ایوان میں بیٹھے ذمہ داروںسے عوام الناس مستدعی ہیں کہ اس پسماندہ علاقے کے عوامی مسائل اور علاقے کی زمینی حقیقتوںکو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ انہیں یہ تلخ حقیقت بھی سمجھنی چاہیے کہ دیگر اشیائے ضروریہ کی مانند اگر چاول کے دانوں کے لئے بھی عام لوگ مارکیٹ پر انحصار کر نے پر مجبور ہوجائیں تو یہ لوگوں کو گویا جینے کے حق سے محروم کرنے کے برابر عمل ہوگا اور اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے تو کرگل میں خوراک کا بحران پیدا ہونا کوئی حیران کن بات نہیں ہوگی ۔ لہٰذا غریب کر گلی عوام کی اربابِ حل وعقد سے مودبانہ اپیل ہے کہ خطے کی مجموعی معاشی کمزوریوں اور دیگرزمینی حقیقتوں کو مدنظر رکھ کر صارفین کے ماہانہ راشن کوٹے میں مزید اضافہ کیا جائے اورصارفین کو مارکیٹ میں راشن خریدنے کی مجبوری سے گلو خلاصی دلائی جائے۔
رابطہ 8082713692