کریووں سے غیر قانون طور مٹی نکالنے کا عمل جاری

 سرینگر// انتظامی پابندی کے باوجود بڈگام کے کئی علاقوں میں غیر قانونی طریقے سے مٹی نکالنے کا سلسلہ جاری ہے،جبکہ مقامی لوگوں نے اس عمل کو علاقائی بقاءکیلئے ایک بڑا خطرہ قرار یا ہے،تاہم مقامی ممبر اسمبلی نے براہ راست پولیس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔بڈگام کے مختلف کریوں میں ناجائز طریقے سے مٹی نکالنے سے نہ صرف ان علاقوں کے ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں،بلکہ مقامی لوگوں کیلئے بھی یہ عمل سوہان روح بن چکا ہے۔ریاستی اراضی مالیات قانون133-Aکے تحت پابندی کے باوجود کئی علاقہ میں مٹی مافیا کی سر گرمیاں جاری ہے،جبکہ مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ برس کی ایجی ٹیشن کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔پالر بڈگام سے آئے ہوئے ایک وفد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اگر چہ غیر قانونی طریقے سے مٹی اٹھانے کی شکایات انتظامیہ اور پولیس کے علاوہ صوبائی کمشنر تک کو کی گئی،تاہم ابھی تک عملی طور پر اس کو روکنے کیلئے کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ مٹی اٹھانے کی وجہ سے یہ علاقے پسماندہ ہوگئے ہیں،اور گزشتہ برس جو سڑک تعمیر کی گئی تھی،وہ بھی خستہ ہوچکی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ ماہ22نومبر کو کو صوابائی کمشنر کشمیر نے ایک حکم نامہ زیر نمبرDiv.Com/ps/Misc/2017/4936-39جاری کیا،جس میں اسسٹنٹ کمشنر(مال) کو3دنوں کے اندر اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ہدایت دی گئی،کہ انہوں نے کس طرح پالر علاقے میں مٹی اٹھانے کی اجازت دی ہے،جبکہ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر نے کوئی بھی جواب نہیں دیا۔مذکورہ حکم نامہ میں مذکورہ افسر کو وجہ بتاﺅ نوٹس جاری کی گئی کہ انکے سالانہ ترقی رپورٹ(ائے پی آر) میں منفی اندراج کیوں نہیں کیا جائے،اور قانون کے تحت دیگر کاروائی کیوں عمل میں نہیں لائی جائے۔اسسٹنٹ کمشنر بڈگام کو مزید2دنوں کا وقت دیا گیا تھا کہ وہ اپنے موقف کو واضح کریں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود بھی پالر اور دیگر علاقوں سے ناجائز طریقے سے مٹی کو اٹھایا جا رہا ہے۔اس سے قبل ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام نے بھی2نومبر کو ایک حکم نامہ زیر نمبرDCB/SQ117/Mis/1473-78جاری کیا ،جس میں کہا گیا کہ اسسٹنٹ کمشنر مال بڈگام کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے،تاکہ ضلع بڈگام میں مٹی اٹھانے کے سلسلے کو بند کیا جائے۔اس حکم نامہ میں مزید کہا گیا کہ کمیٹی اس کام پر لگائے گئے ٹیپر اور دیگر ساز و سامان کو بھی ضبط کر کے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کریں۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے اپنے حکم نامہ میں کمیٹی کو مزید اختیارات دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضروری ہو تو وہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے لوگوں کی گرفتاری بھی عمل میں لاسکتے ہیں،تاکہ ناجائز طریقے سے مٹی اٹھانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ محکمہ جیالوجی اینڈ مائنگ کے ضلع مینرل آفسر بڈگام نے بھی23نومبر2017کو ایک حکم نامہ زیر نمبرDNO/Bud/DGM/F-9/1298-1304جاری کیا جس میں کہا گیا’‘ صوبائی کمشنر کی ہدایات کے مطابق پالر بڈگام سے مٹی اٹھانے اور اس کو دوسرے جگہ پہنچانے کی اجازت کو فوری طور کالعدم کیا جاتا ہے،کیونکہ اس سلسلے میں صوبائی کمشنر کشمیر کو کئی شکایات موصول ہوئیں ہیں“۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے باوجود بھی ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے،اور ناجائز طریقے سے مٹی اٹھانے کا سلسلہ بند نہیں کیا گیا۔مقامی ممبر اسمبلی آغا روح اللہ نے پولیس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ سنجیدگی سے حکم نامے کو عملانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔آغا سید روح اللہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ کام10برسوں سے ہو رہا تھا،اور ہم نے اپنے وقت بند کرایا تھا“۔انہوں نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر اور صوبائی کمشنر کی طرف سے پابندی عائد کرنے باوجود بھی اگر یہ سلسلہ جا ری ہے تو اس پولیس اس کیلئے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا ” یہ کام رات کے وقت ہوتا ہے،اور اگر پولیس انکی پشت پناہی نہیں کرتی تو انکے حوصلے نہیں ہوتے،اور یہ سلسلہ بند ہوا ہوتا“۔روح اللہ نے کہا دال میں کچھ کالا ہے اور سیاسی اثر رسوخ اور عمل دخل کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے سڑکوں کی حالت بھی نا گفتہ بہہ ہوچکی ہے،اور ان سڑکوں پر حد سے زیادہ دباﺅ ہے،جبکہ ماحولیات بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔