کریم آباد پلوامہ کا محاصرہ،مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیں

 پلوامہ //کریم آباد پلوامہ جنگجو مخالف آپریشن کے دوران فوج اور دیگر فورسز کو اس وقت زبردست مزاحمت کے سامنے بے بس ہوکر واپس لوٹنا پڑا جب علاقہ کا محاصرہ کرنے کے دوران مقامی لوگوں نے ان پر شدید پتھرائو کیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فورسز نے لاٹھی چارج اور شلنگ کی ۔فوج کی 55آر آر،جموں کشمیر پولس کے اسپیشل آپریشنز گروپ(ایس او جی)اور سی آر پی ایف نے جمعہ کی صبح جنگجوؤں کی موجودگی کے شُبہ میں کریم آباد پلوامہ کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی لینا شروع کی ۔اس موقعہ پرسینکڑوں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔فورسز نے احتجاجی مظاہرین سے نپٹنا چاہا تاہم اُنہوں نے زبردست مزاحمت کرتے ہوئے شدید سنگباری شروع کردی ۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فورسز نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔سنگباری اور پھر فورسز کی جانب سے کی گئی شلنگ کی وجہ سے قصبہ میں اتھل پتھل مچ گئی اور اسکے ساتھ ہی محاصرہ ختم ہوگیا۔تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تلاشی کارروائی کے بعد محاصرہ ختم کیا گیا۔اس دوران پلوامہ کے ہی چرسو نامی گائوںکو محاصرے میں لیکر تلاشی کاروائی عمل میں لائی گئی۔ادھر دربہ گام پلوامہ میں تلاشی کارروائی کے دوران مقامی لوگوں کے مطابق فوج کی55راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف نے کل رات دیر گئی وہاں تلاشی کاروائی شروع کی جس دوران چن چن کر مکانوں کی تلاشی لی گئی جبکہ مکینوں کے شناختی کارڈ  چیک کرنے کے علاوہ ان سے پوچھ تاچھ کی گئی اگرچہ رات ساڑھے بارہ بجے تک فوج کو جنگجووں کے مطلق کوئی سراغ نہ ملا تاہم فورسز نے دربگام پلوامہ سے تعلق رکھنے طارق احمد نامی ایک مہمان کو رفتار کیا گیا۔دوران شب ہی پلوامہ کے زائی گام نامی دیہات کو محاصرے میں لیا۔یہاں بھی رات بھر تلاشی کارروائی جاری رکھی گئی۔ اس دوران فوج کی44راشٹریہ رائفلز کے علاوہ پولیس ٹاسک فورس نے کل رات دیر گئے کیلر شوپیاں کو محاصرے میں لیکر جنگجوؤں مخالف آپریشن شروع کیا ۔مردوں کے ٹھہرتی سردی میں  شناختی کارڈ چیک کئے گئے ۔فوج کی50راشٹریہ رائفلز نے کل رات دیر گئے سامبورہ پامپور کو دوبارہ محاصرے میں لیا ۔تاہم محاصرہ پر امن طور پر ختم ہوا۔