کرۂ ارض اور انسانیت تباہی کے دہانے پر

یہ گزشتہ سال کی روداد تھی۔ سال 2021ء گزرے سال سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ گزشتہ سال ماحولیات اور موسمی تغیرات کے حوالےسے معروف غیر سرکاری تنظیموں نے جو مشترکہ طور پر جامع رپورٹ تیار کی تھی ،اس میں انکشاف کیا گیا کہ گلوبل وارمنگ جتنا بڑا خطرہ ہے اسی طرح گلوبل کولنگ بھی اتنی خطرناک اور تشویشناک ہے۔ گلوبل کولنگ نے اس کرہ ارض پر جو تباہی پھیلائی اس کا مکمل جائزہ رپورٹ میں شامل ہے کہ کب کیسے کہاں گلوبل کولنگ سے سمندری طوفان آئے، شدید برفباری ہوئی جس سے بڑی پیمانے پر فصلیں تباہ ہوئیں بیشتر ممالک خاص طور پر شمالی قطبی اور جنوبی قطبی خطے کے قریب واقع ممالک میں درجہ حرارت منفی چالیس تا پچپن تک گرا۔
ترقی پذیر ممالک کے معاشروں میں غربت پسماندگی ،خواندگی میں کمی اور اس کے علاوہ فکری پسماندگی بھی ہے۔ ابھی تک بیشتر ترقی پذیر ممالک ماحولیات، موسمی تغیرات اور آلودگی میں اضافہ کے حوالے سے مکمل معلومات آگاہ بھی نہیں، کیونکہ ان معاشروں کے غریب عوام اپنی معاشی پریشانیوں سمیت مہنگائی، بیماری، ناانصافی اور دیگر مسائل میں الجھے رہتے ہیں انہیں ہوش کہاں کہ اپنے اطراف پر نظر ڈالیں اور زمین و آسمان کی بھی خبر رکھیں۔
دوسری جانب نظر ڈالیں تو نقشہ اس کے برعکس ہے۔ معاشروں کا بالائی طبقہ اور اس سے آگے دنیا کا خوشحال ترین مٹھی بھر طبقہ جس کو عام فہم زبان میں اجارہ دار سرمایہ دار طبقہ کہا جاتاہے اس کے پاس سرمایہ کی فراوانی ہے جودنیا کی مجموعی دولت کے 64؍ فیصد حصہ پر قبضہ جمائے بیٹھا ہےجبکہ 34؍ فیصد سرمایہ پر آٹھ ارب سے زائد آبادی کا دارومدارہے۔ ماحولیات میں بگاڑ اور موسمی تغیرات کے حوالےسے جو رپورٹس حال ہی میں سامنے آئی ہیں ان میں بھی جو خبریں شائع ہوئی ہیں وہ کسی طور مثبت اور خوش آئند نہیں ہیں۔ 
کیلی فورنیا کے جنگلات میں لگنےو الی آگ اور آسٹریلیا کے جنگلات کو تباہ کرنے والی آگ گلوبل وارمنگ کا سبب تھی پھر بھی بعض حلقے اس حقیقت سےا نکاری ہیں کہ گلوبل وارمنگ دنیا کے لئے گمبھیر مسئلہ ہے۔ وہ اس کو صدیوں سے چلا آرہا قدرتی نظام اس کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں موسمی تغیرات میں انسانی ہاتھوں کا کوئی دخل نہیں ہے۔ بعض حلقے اس پروپیگنڈہ کو عام کرتے رہےہیں درحقیقت ملٹی نیشنل ادارے جس روش پر اپنی ترقی مسابقت اور مزید مناقع کے حصول کے لئے اپنے گھوڑے دوڑارہے ہیں اس روش کو ہر گز ترک نہیں کریں گے۔ٔ
ماحول دوست معاشرہ کی تعمیر کرنے اور آلودگی کم کرنے کے لئے دنیا کو اپنی آسائشات میں کمی کرنی ہوگی طرز زندگی میں بدلائو لانا پڑے گا۔ گزشتہ پچاس برسوں میں دنیا میں کاروں، ریفریجریٹرز، ایئر کنڈیشنز اور دیگر برقی آلات کے استعمال میں پانچ گنا اضافہ ہوا۔ ضنعتی کارخانوں، ریلوے اور ہوائی جہازوں میں قدرتی ایندھن کے استعمال میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوتا رہا جبکہ دوسری طرف دہشتگردی غیر منطقی مہم جوئیوں نے انسانیت کو بے شمار زخم لگائے ہیں ۔
اس پر ستم یہ کہ دنیا کی آبادی میں بے ہنگم اور بے تحاشہ اضافے نے نوبت یہاں تک پہنچائی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا نوالہ چھیننے لگے ہیں۔ بتایا جاتا ہےکہ افریقا، لاطینی امریکہ اور ایشیا کےبیشتر ممالک خوراک کی کمی سے شدید متاثر ہورہے ہیں اس حوالے سے فصلیں اگانے اور پیداوار میں اضافہ کے لئے جو کیمیائی کھاد استعمال ہورہی ہے وہ جانداروں کی صحت کو متاثر اور مختلف بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔ حالیہ جائزوں میں بھی اس جانب توجہ دلائی گئی ۔ صنعتی کارخانوں اور بحری جہازوں کا استعمال شدہ آلودہ پانی اور کوڑا کرکٹ سمندروں میں بہائے جانے سے آبی حیات کو شدید خطرات لاحق ہورہے ہیں ۔ 
ماہرین کے مطابق دنیا کے سمندروں سے آدھی آبی حیات معدوم ہوچکی ہیں جن میں بعض قیمتی اور کمیاب آبی حیات کی اقسام بھی شامل ہیں، جو اب ناپید ہیں۔ ایسے میں یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انسانی طمع خود غرضی اور ناعاقبت اندیشی نے زمین، سمندر اور فضا کو بھی نہ بخشا ہر طرف آلودگی پھیلانے ، اپنی جائز و ناجائز خواہشات اور ضروریات کی تکمیل میں پیہم سرگرداں ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی صحت کے ادارے نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا کہ سال 2005ء میں بھارت کو خبردار کیا تھا کہ بھارت میں آلودگی میں اضافہ کی وجہ سے سالانہ پچاس سے ساٹھ لاکھ بچے قبل از پیدائش ہلاک ہوجاتے ہیں اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ بھارت میں تمباکونوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور غیر معیاری خوراک کی وجہ سے مختلف بیماریاں عام ہورہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے ایک اور جائزےمیں بتایا ہے کہ یورپی ممالک سمیت بیشتر دیگر ممالک میں آلودگی میں اضافہ خاص طور پر فضائی آلودگی کی وجہ سے لوگوں کی اوسط عمرمیں پانچ سے سات سال کی کمی ہورہی ہے۔ یورپی یونین کے ماحولیات کے ادارے نے عالمی ادارہ صحت کو تجویز دی ہے کہ یورپ میں طیاروں پر خصوصی ٹیکس نافذکیا جائے۔
دوسری جانب افریقی ممالک سوڈان اور ایتھوپیا میں خانہ جنگی اور جنگ و جدل ایک عرصے سے جاری ہے۔ سوڈان میں سیاسی ابتری اور لسانی، علاقائی گروہوں کے مابین فسادات ہورہے ہیں۔ حال ہی میں سوڈان کی مسلح افواج نے ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کااعلان کیا مگر ہزاروں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور ملک میں بڑے تصادم اور خونریزی کا خطرہ پیدا ہوگیا اس طرح یہ مارشل لاء ناکام ہوا۔ لسانی اور علاقائی تقسیم نے سوڈان میں شدید سیاسی اور معاشی ابتری پیدا کررکھی ہے۔ 
سوڈان پہلے ہی دو حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے اس کے اثرات اطرف کے ممالک ایتھوپیا اور سب صحارا ممالک پر مثبت ہورہے ہیں۔ اس ضمن میں حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے خبر دار کیا کہ اگر افریقی یونین اوردیگر ادارے سوڈان میں جاری خانہ جنگی اور سیاسی ابتری کا تدارک نہ کرپائے تو اس خطے میں بڑا انسانی المیہ رونما ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مزیدکہا کہ اگرہم نے امن اعتدال پسندی اور افہام و تفہیم کادامن چھوڑ دیا تو کچھ بھی ہوسکتاہےاور جو ہوگا وہ پوری انسانیت کے لئے برا ہوگا۔
دراصل اب جتنے جائزے اور رپورٹس سامنے آرہی ہیں ان سب میں دنیا کو ہوشیار ہوجانے اور آلودگی میں کمی لانے کے لئے زور دیا جارہا ہےا ور ہر رپورٹ میں بتایا جارہا ہے کہ ’’ڈومس کلاک‘‘ نے بھی وارننگ جاری کردی ہے کہ دنیا کے پاس مزیدکوتاہیوں، بے راہ روی اور لاپروائی کی گنجائش نہیں ہے۔ماحولیات میں بہتری لانے اورموسمی تغیرات سے بچائو کے لئے آلودگی میں کمی کے لئے فوری اقدام کی ضرورت ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے کئی اراکین اور سربراہ مملکت نے اپنی تقاریر میں کہی ہیں۔ 
انہوں نے تسلیم کیا ہےکہ دنیا اور پوری انسانیت کو گمبھیر معرکوں کا سامنا ہے جو انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں تھا اور سب نے ان مسائل پر اپنی گہری تشویش ظاہر کی۔ آخر میں اقوام متحدہ کی 76؍ ویں سالانہ تقریب کے اختتام پر عالمی ادارے کے سربراہ صدر محمد صالح نے اپنے خطاب میں کہا، تقاریر، بحث مباحث اور مذاکرے، سیمینار وغیرہ بہت ہوچکے، اب عمل کی ضرورت ہے جیسا کہ کہا گیا کہ دنیا کے پاس انسانیت کو بچانے کے لئے زیادہ وقت نہیں ہے، اب صرف عمل کی ضرورت ہے۔
ماحولیات کی امریکی سائنس داں مشرلے جونزن نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ آج کی پولرائز دنیا کو یک جا کرنے اور مشترکہ پلیٹ فارم پر آنے کی ضرورت ہےمگر بیش تر ممالک کے عوام غیر جمہوری حکومتوں یا نیم جمہوری حکمرانوں کے تسلط میں ہیں ایسے میں عوام کو حقیقی جمہوری عمل کی شدید ضرورت ہے۔ جمہورت کے بغیر آج کے دور میں کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ درحقیقت آج دنیا جن گوناگوں مسائل کا شکار ہے اس میں سب سے بڑا ہاتھ مطلق العنان حکمرانوں اور ان کے حواریوں کا ہے۔ دنیا کو آج جو مسائل درپیش ہیں ان کا سدباب جمہوری حکومتیں عوام کی جدوجہ سے حل کرسکتی ہیں۔
������