کرگل میں ہزاروں مرد و زن سڑکوں پر

کرگل//منفی8ڈگری سیلسیس درجہ حرارت کے باوجود کرگل میں 20ہزار سے زائدلوگوں نے گورنر کی طرف سے جاری ایس آر او110کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے آج سے غیر معینہ عرصہ تک ہڑتال کرنیکا فیصلہ کیا گیا۔کرگل کے عوام کرگل اور لیہہ میں صوبائی ہیڈ کوارٹر باری باری بنیادوں پر رکھنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ منگل کوایس آراو110کیخلاف  ہزاروں لوگوں کی قیادت مذہبی،سیاسی اور سماجی رہنما کررہے تھے، جن میں لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل کرگل کے کارگزار چیف ایگزیکیٹوکونسلربھی شامل تھے۔ضلع میں منگل کو تمام سرکاری دفاتر، جن میں لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل سیکریٹریٹ ،ڈی سی آفس اور عدالت بھی شامل ہیں،بند تھے ۔مظاہرین نے اسلامیہ اسکول چوک سے ڈپٹی کمشنر کرگل کے دفتر تک مارچ کیااور دن بھر وہاں احتجاج کرتے رہے ۔گزشتہ رات 3ہزار سے زائد لوگوں نے لارسی مسجد میں جمع ہوکر نیشنل ہائی وے کو بندکیا اور نئے صوبائی کمشنر کو واکھا سے واپس لیہہ جانے پر مجبور کیا۔احتجاج میں دوردراز علاقوں سے آئے لوگ بھی شامل ہوئے اور بارو کالونی کی خواتین نے اُن کے لئے چائے پانی کا انتظام کیا تھا۔اس موقعہ پر مقررین نے ایس آر او110کیخلاف مشترکہ مزاحمتی تحریک کی حمایت کرنے کیلئے کرگل کے عوام سمیت تاجروں ،ٹرانسپورٹروں ،ملازمین اور خواتین تنظیموں کا شکریہ اداکیا۔مقررین نے حکومت پرزوردیا کہ وہ کرگل کے عوام کے مطالبات کو فوری طور پورا کریں ۔ دریں اثناء کرگل میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ آج یعنی 13فروری سے غیر معینہ عرصہ کی ہڑتال کی جائیگی جس کی حمایت ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی کیا ہے۔اس دوران حکومت نے سیکریٹریوں کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو اس معاملے کا جائزہ لے کر رپورٹ گورنر کو پیش کرے گی ۔