کرکٹ کے تینوں فارمیٹ میں کھیلنا جاری رکھنا ناممکن:ثاقب

ڈھاکہ//بنگلہ دیش کے اسٹار آل راونڈر ثاقب الحسن نے کہاکہ کورونا وبا کے سبب نافذ کورینٹائن قواعد اور ان کے کنبہ کے لحاظ سے آگے چل کر کرکٹ کے تینوں فارمیٹ (ون ڈے ، ٹیسٹ، ٹی۔20) میں کھیلنا جاری رکھنا ان کے لئے تقریباّ ناممکن ہے ۔ نجی اسباب سے نیوزی لینڈ کے خلاف دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز سے باہر ہونے والے ثاقب نے انکشاف کیا کہ اپنے ٹیسٹ مستقبل پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ ثاقب نے جمعرات کو بنگلہ دیش کے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے بیان میں کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ میرے لئے کون سا فارمیٹ اہم ہے اور مجھے پتہ ہے کہ کس فارمیٹ کو ترجیح ملنی چاہئے ۔ اب وہ وقت آگیا ہے جب میں ٹیسٹ کرکٹ کے بارے میں سوچ رہا ہوں کہ کیا میں پھر سے ٹیسٹ کھیلوں گا یا پھر کبھی کھیلوں گا اور کھیلوں گا تو کیسے کھیلوں گا۔ اسٹار آل راونڈر نے کہاکہ جب آپ 40سے 42دنوں میں دو ٹیسٹ کھیلتے ہیں تو یہ فائدہ مند نہیں ہوسکتا ہے اس لئے یقیناّ یہ سلیکٹیو میچ کھیلنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ؟ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ لے لوں گا لیکن ایسا ہوسکتا ہے کہ میں 2022 عالمی کپ کے بعد ٹی۔20نہیں کھیلوں اور اس وقت میں ون ڈے اور ٹیسٹ کھیل سکتا ہوں، پر یہ سچ ہے کہ تینوں فارمیٹ کو ایک ساتھ جاری رکھنا تقریباّ ناممکن ہے ۔ 34سالہ ثاقب نے کہاکہ سال کے آخر میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ساتھ بیٹھیں گے اور اپنا مستقبل کا منصوبہ تیار کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ مجھے بی سی بی کے ساتھ اس کے بارے میں اچھی طرح سے منصوبہ بنانا ہوگا اور ایسا کرنے کے بعد آگے بڑھنا ایک عقلمندی ولا قدم ہوگا۔ اگر میں جنوری تک منصوبہ بنا سکتا ہوں تو مجھے پتہ چلے گا کہ پورے سال کیا ہورہا ہے ۔ ثاقب نے ،جو باقاعدہ طورپر مختلف فرینچائزی پر مبنی ٹی۔20 ٹورنامنٹوں میں حصہ لیتے ہیں، کورینٹائن اور بایو ببل ان پر بھاری پڑرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کورینٹائن میں رہنا جیل میں رہنے جیسا ہے لیکن جیل میں کم از کم آپ کسی سے بات تو کرہی سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ کھلاڑی بہت گھومتے ہیں جیسے شاپنگ مال یا سنیما ہال میں باہر جانا۔