کرکٹ ایسوسی ایشن منی لانڈرنگ کیس

نئی دہلی//انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کہا ہے کہ اس نے جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے سابق عہدیداروں کے ذریعہ مبینہ منی لانڈرنگ کے جاری کیس میں احسن احمد مرزا کی 7.25 کروڑ روپے کی غیر منقولہ جائیدادوں کو "عارضی طور پر ضبط" کر لیا ہے۔ یہ کیس میں تیسرا اٹیچمنٹ آرڈر ہے۔جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ کی جائیداد دسمبر 2020 میں عارضی طور پر ضبط کی گئی تھی اور اسے جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔عبداللہ 2001 سے 2012 تک جے کے سی اے کے صدر تھے اور سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی کے ذریعہ اس گھوٹالے کی تحقیقات 2004 اور 2009 کے درمیان مبینہ مالی بدعنوانی سے متعلق ہے۔ایک بیان میں ای ڈی نے کہا کہ اس معاملے میں، پہلے ہی 14.32 کروڑ روپے کی جائیدادیں ضبط کی جا چکی ہیں جن میں مزا اور میر منظور غضنفر کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کے 2.46 کروڑ روپے، اور عبداللہ کے غیر منقولہ اثاثوں کے 11.86 کروڑ روپے شامل ہیں۔ای ڈی نے دعوی کیا کہ اس کی جانب سے اب تک کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ احسن احمد مرزا نے جے کے سی اے کے دیگر عہدیداروں کے ساتھ مل کر 51.90 کروڑ روپے کے جے کے سی اے فنڈز کا غلط استعمال کیا اور اپنی ذاتی اور کاروباری ذمہ داریوں کو طے کرنے کے لیے جرم کی رقم کا استعمال کیا۔ "اس نے سرینگر کے رام منشی باغ پولیس اسٹیشن میں درج ایک کیس کی بنیاد پر جے کے سی اے کے عہدیداروں کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کیں۔بعد میں ہائی کورٹ کی ہدایت پر کیس سی بی آئی کو منتقل کر دیا گیا۔سی بی آئی نے جے کے سی اے کے سابق عہدیداروں کے خلاف 43.69 کروڑ روپے کے فنڈز کے غلط استعمال کے معاملے میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ای ڈی کی طرف سے یکم نومبر 2019 کو مرزا کے خلاف پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، سرینگر خصوصی پی ایم ایل اے کورٹ کی عدالت میں اسے گرفتار کرنے کے بعد استغاثہ کی شکایت بھی درج کی گئی۔