کرونا وائرس کا خوف: کشمیر میں منہ ڈھانپنے والے ماسکوں کی مصنوعی قلت

سرینگر //کرو نا وائرس کے پھیلتے خوف کے نتیجے میں وادی کشمیر میںمختلف اقسام کی ماسکس کی مصنوعی قلت پیدا ہوگئی ہے اور ماسکوں کیلئے لوگوں سے 5 گنا اضافی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں۔محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ چیزوں کی قیمتیں اعتدال پر کھنے کا کام محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کا ہے۔ بھارت کے کئی علاقوں میں کرونا وائرس مریضوں کی تصدیق اور جموں و کشمیر میں سکرینگ میں اضافے کی وجہ سے لوگوں نے خودہی احتیاطی تدابیر پر عمل کرناشروع کردیا ہے۔لوگوں کوبازاروں میں مختلف اقسام کی ماسکس تلاش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے تاکہ وہ اپنا مُنہ اور ناک ڈھانپ سکیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اُن کی طرف سے ڈھونڈی جارہی ماسکوں کی مصنوعی قلت پیدا ہوگئی ہے اور متعلقہ تاجر مجبور عوام سے ماسکوں کی اضافی قیمتیں وصول کررہے ہیں۔جموں و کشمیر کمسٹس اینڈ ڈرگسٹس ایسوسی ایشن کے صدر ارشد حسین نے بتایا’’ یہ غیر متوقع طورپر ہوا ہے اور کشمیر میں نہ تو زیادہ Sanitizerاور نہ ماسکس موجود ہوتی ہیں کیونکہ لوگ ان کا بہت کم استعمال کرتے ہیں‘‘۔ ارشد نے مزید کہا کہ مختلف کمپنیوں کے sanitizerاور ماسکس دوا فروشوں بیچتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جمعرات کو ڈپٹی ڈرگ کنٹرولر کشمیر نے ایک میٹنگ بھی طلب کی تھی اور کشمیر میں ماسکس اور sanitizersکی سٹاک پوزیشن حاصل کی تھی مگر’’ ہم نے واضح کردیا ہے کہ اس وقت دلی میں 4روپے کا ماسک ہمیں 20روپے میں مل رہا ہے اور اسی وجہ سے ہم نے کوئی آرڈر نہیں دیا ہے کیونکہ وائرس کا اثر ختم ہوتے ہی یہ ساری چیزیں بے کار ہونے والی ہیں‘‘۔ ارشد نے کہا کہ ملکی سطح پر ہی ماسکس اور sanitizersکی کمی محسوس کی جارہی ہے مگر اس کے بائوجود بھی ’’ہم نے پنجاب کی کچھ کمپنیوں کو آرڈر دیا ہے تاہم سپلائی کی کوئی یقین دہانی نہیں ہوئی ہے‘‘۔ ادھر محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ قیمتوں کو اعتدال پر رکھنا محکمہ امورصارفین کا کام ہے۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر سمیر احمد متو نے کہا ’’ ماسکس اور sanitizersکی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنا محکمہ امور صارفین کا کام ہے اور وہی اس پر قابو پاسکتے ہیں۔