کرنسی کریک ڈاؤن کا شاخسانہ

کپوارہ//نوٹوں کی تبدیلی کے نتیجے میںدردسن کرالہ پورہ کے شہری کی لاش گھر لانے کے لئے رقوم دستیاب نہ ہونے اور کپوارہ کے عوامی نمائندوں کی جھوٹی تسلیوں نے ورثاء لاش کو آ سام میں ہی دفنانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ایک ماہ قبل دردسن کرالہ پورہ کا 50سالہ شہری عبدالغنی میر ولد غلام محمد میر آ سام کے شہربالی پورہ میں شال پھیری کاکام کرنے گیا ۔تین روز قبل عبدالغنی میر اچانک بیمار ہوگیا جس کے بعد اس کی موت واقع ہوگئی ۔اس کے بھتیجے فیا ض احمد نے گھر والو ں کو عبدالغنی کے فوت ہونے کی اطلاع فراہم کی ۔عبدالغنی کا ایک بیٹا اندور میں اکنامکس کی تعلیم حاصل کر رہا ہے، چنانچہ باپ کے فوت ہونے کی خبر ملتے ہی وہ آ سام دو ڑ پڑا ۔لواحقین کا کہنا ہے کہ عبد الغنی میر کی لاش کو کشمیر لانے کے لئے نئی کرنسی نہیں تھی جبکہ وہا ں فوری طور پرانے نو ٹ بدلنے کے لئے بھی کسی نے ان کی مدد نہیں کی  کیونکہ اسکے لئے بنک شاخ میں اکونٹ کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔آ سام سے ان کے بھتیجے فیا ض احمد میر نے کشمیر عظمیٰ کو فون کر کے بتا یا کہ جب انہیں لاش کشمیر لانے کے لئے کوئی صورت نظر نہیں آ ئی تو انہو ں نے ریاستی سرکار سے مدد کے لئے رابطہ کیا جبکہ کپوارہ کے عوامی نمائندو ں کو بھی صورتحال سے با خبر کیا جس کے بعد انہیں یقین دلایا گیاکہ وہ عبدالغنی کی نعش کو کشمیر لانے کے لئے ضروری اقداما ت کریں گے ۔فیاض نے مزید بتا یا کہ 3روز تک ان کے ساتھ صرف مذاق کیا گیا اور  ان دنوںعبد الغنی کی لاش کو تین روز تک ان کے رہا ئشی کوارٹر پر رکھا گیا اور انہوں نے تین رو زاورتین راتیں میت کے ساتھ گزاری لیکن ہماری مدد کسی نے نہیں کی جس کے بعد بالی پورہ آ سام سے 3سو کلو میٹر دو ان میں لاش کو دفنایا گیا ۔اس دوران دردسن میں ان کی بزرگ ماں شہمالی بیگم اپنے بیٹے کے آ خری دیدار کے لئے ترس رہے ہیں اور ان کو یہی دلاسہ دیا جارہا ہے کہ کچھ روز میں نعش کو گھر لایا جائے گا ۔لواحقین نے بتا یا کہ کہ اگر ہمارے عوامی نمائندوں اور سرکار کو عبدالغنی کی نعش کشمیر لانے کی سکت نہیں تھی تو انہیں کیونکر جھوٹی تسلی دی گئی جس کے سبب عبدالغنی کی لاش کو تین روز تک دفن نہیں کیا گیا ۔