کرنسی کریک ڈائون کے بعد بنکوں میں کہرام

سرینگر// جمعرات کو وادی کے شہر ودیہات میں بنکوں کے اندر پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹوں کو اپنے بنک کھاتوں میں جمع کرنے کیلئے مرد وخواتین کا جم غفیر امڈ پڑا ۔جمعرات کو اگرچہ وادی بھر میں اے ٹی ایم بند تھے تاہم کچھ صارفین نے بنکوں سے ہی معمولی رقم حاصل کی ہے اوران صارفین کا کہنا ہے کہ اس پیسے سے اُن کے روز مرہ کے خرچے پورے نہیں ہو سکتے ہیں ۔وزیر عظم ہند کی جانب سے پانچ سو اور ایک ہزار کے کرنسی نوٹوں پر حکومتی پابندی لگائے جانے کے 36گھنٹے بعدجمعرات کو جیسے ہی بنک کھلے توبھارت کی دیگر ریاستوں کے ساتھ ساتھ وادی میں بھی ہزاروں لوگ صبح ہی ان نوٹوں کو تبدیل کرنے کیلئے بینکوں تک پہنچے اور اس طرح وادی بھر کی تقریباً سبھی بینکوں میں گاہکوں کی زبردست بھیڑ بھاڑ دیکھنے کو ملی جبکہ کئی ایک لوگوں کو لائینوں میں بھی کھڑا دیکھا گیااور اس طرح جمعرات کو صافین نے مختلف بنکوں میں کروڑوں روپے جمع کرائے ۔ بنکوں میں لائینوں میں کھڑے ہو کر پانچ سو اور ایک ہزار کی کرنسی نوٹ اپنی اکاونٹوں میں جمع کرانے والے لوگوں نے بتایا کہ مودی سرکار نے صارفین کیلئے ایک نئی مصیبت کھڑی کر دی ہے ،اب تو انہیں اپنے پیسے بھی واپس بنکوں میں جمع کرانے میں دقتیں پیش آر رہی ہیں کیونکہ اب انہیں ایک تو اس کیلئے فارم بھرنا ہے اور دوسرا آدھار کارڈ اور الیکشن کارڈ بھی چک کئے جارہے ہیں ۔جمعرات کو دوسرے روز بھی شہر میں پیسوں کو لیکر لوگوں کو بے حد پریشانی میں دیکھا گیا۔ ایسے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس 100اور سو سے نیچے کی کرنسی نوٹوں کی کمی ہے جس سے ان کے گھر کا نظام نہیں چل سکتا ہے ۔اس دوران بنک حکام نے لوگوں سے کہا کہ کرنسی نوٹ تبدیل کرنے کے لئے 30 دسمبر کا وقت ہے، اس لئے انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ادھر جمعرات کی صبح بھی لوگوں کو روز مرہ کی چیزیں ،جن میں دودھ ، نمک ،چائے ، روٹی خریدنے میں سخت دقتوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس طرح شہر میں دوسرے روز بھی افراتفری کا ماحول دیکھا گیا ۔بنکوں میں پانچ سو اور ایک ہزار روپے کی کرنسی جمع کرانے والے کئی ایک مرد زن نے بتایا کہ انہیں پیسے جمع کرانے میں کافی دقتیں پیش آرہی ہیں کیونکہ وہاں سے آدھار کارڈ اور الیکشن کارڈ کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے جبکہ اکثر بنک صارفین ایسے ہیں جن کے پاس یہ دونوں کارڈ نہیں ہیں ایسے میں ان کو پیسے جمع کرنے میں سخت دقتوں کا سامنا ہے ۔منصور نامی ایک صارف نے کہا کہ گھر میں جتنے 100روپے کے نوٹ اور اس سے نیچے کے نوٹ تھے، وہ خرچ ہو چکے ہیں اور اب لوگوں سے ادھار لیکر گذاراکر رہا ہوں اور اے ٹی ایم کھلنے کا انتظار کر رہا ہوں ۔ بمنہ کے ظفر احمد نامی ایک نوجوان ،جس کی شادی کچھ دن بعد ہو رہی ہے ،کا کہنا ہے کہ اُس نے کچھ دن قبل شادی کے خرچے کیلئے پیسے نکالے تھے اور ان روپیوں میں سے زیادہ تر نوٹ پانچ سو اور ایک ہزار کے ہیں،وہ بے حد پریشان ہے کہ اگر یہ پیسے میں دوبارہ بنک میں جمع کرائوں گا تو وہاں سے جو رقم ملے گی، اُس سے شادی کا خرچہ نہیں نکل سکتا ہے اور نہ ہی یہ پیسے اب دکاندار لینے کیلئے تیار ہیں۔