کرناہ کے پہاڑی گائوں نزدیک ہو کر بھی بہت دور مشکلات کم کرنے کیلئے گنڈولہ سروس شروع کرنا انتہائی ضروری

اشفاق سعید

کرناہ //کرناہ سب ڈویژن کے بیسوں ایسے پہاڑی گائوں ہیں، جہاں کے لوگ سڑک رابطہ ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے سے بہت نزدیک ہونے کے باوجود بھی بہت دور ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق ایسے گائوںکے لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ آسان بنانے کیلئے حکام کو پڑوسی ملک پاکستان کی طرز پر کرناہ کے ان گائوں میں گنڈولہ سروس شروع کرنے کا ایک منصوبہ بنانا چاہئے تاکہ یہاں کے لوگوں کا رابطہ آسان بن سکے۔ کرناہ میں سیاحتی شعبہ کو فروغ کیلئے گزشتہ کئی ماہ سے وسیع پیمانے پر تشہیر کی جا رہی ہے اور سیاحوں کو کرناہ کی طرف راغب کرنے کیلئے بھی ضلع انتظامیہ اور محکمہ سیاحت کی کوششیں جاری ہیں ،تاہم یہ کوششیں تب تک بے سود ہیں جب تک نہ یہاں کے پہاڑی گائوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں ہوں گی۔ کرناہ سب ڈویژن میں کوئی گائوں ایسا نہیں ہے جہاں سڑک رابطے نہیں ،تاہم پہاڑی گائوں تک لمبا سفر نہ صرف مسافروں بلکہ سکولی بچوں اور مریضوں کیلئے انتہائی پریشان کن بن رہا ہے، اور معمولی سا سفر ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی تک کرنے میں پورا دن ضائع ہو جاتا ہے ،ایسے میں اگر محکمہ سیاحت ان گائوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملانے اور وقت کو بچانے کیلئے گنڈلہ سروس پروجیکٹ کا کوئی منصوبہ بناتی ہے تو اس سے ایک تو سرکار کو فائدہ ہو گا، وہیں لوگوں کی مشکلات بھی کسی حد تک کم ہو سکتی ہیں۔ کرناہ کے کئی ایک ایسے پہاڑی گائوں ہیں جہاں گنڈولہ سروس سے لوگوں کو نہ صرف کئی کلو میٹر کا سفر آسان ہو سکتا ہے بلکہ ان گائوں میں سیاحتی سرگرمیاں بڑھنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقعے بھی فراہم ہوں گے ۔ماہرین کے مطابق پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے کئی ایک پہاڑی علاقوں میں وہاں کی سرکار نے لوگوں کیلئے گنڈولہ سروس شروع کی ہے جہاں پر لوگ آسانی سے کرایہ دے کر اپنے گھنٹوں کے کام منٹوں میں نمٹا دیتے ہیں۔ ایسے منصوبے پر ایک تو لاگت کم آتی ہے، وہیں لوگوں کیلئے بھی آسانی پیدا ہوتی ہے ۔کرناہ کے کڑھامہ گائوں میں ابھی تک سڑک رابط نہیں ہے اور اس گائوں کو سیماری سے آسانی کے ساتھ گنڈولہ کے ذریعے جوڑا جا سکتا ہے ۔اسی طرح ہیبکوٹ اور بادرکوٹ گائوں کو تھلہ چترکوٹ کے ساتھ جوڑنے کیلئے یہ منصوبہ کافی فائدہ مند ثابت ہو گا کیونکہ چترکوٹ سے ہیبکوٹ اور بادرکوٹ گائوں چند گز کے فاصلے پر ہیں اور یہاں کا زمینی رابطہ کئی کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ،اتنا ہی نہیں بلکہ ٹیٹوال کو بیاڑی کے ساتھ بھی گنڈولہ کے ذریعے آسانی سے جوڑا جا سکتا ہے جبکہ پنگلہ ہری ڈل کو چترکوٹ اور سرما پڑی کو چھمکوٹ کے ساتھ بھی جوڑنے کیلئے گنڈلہ سروس کی اشد ضرورت ہے ۔چھمکوٹ سے مقام کا سفر بھی قریب 4کلو میٹرکا ہے لیکن گنڈولہ سروس سے یہ سفر گھٹ کر صرف 2منٹ کا رہ جائے گا ۔گھنڈی گجراں گائوں سے درگڑ گائوں کو بھی گنڈولہ سروس کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے ،جبکہ ٹاد گائوں پراڑہ کے ساتھ بھی گنڈولہ کے ذریعے جڑ سکتا ہے، اسی طرح پورے پہاڑی سب ڈویژن میں بیسوں ایسے گائوں ہیں جو پہاڑیوں پر آباد ہیں جہاں کے لوگوں کو اب سڑک رابطہ ہونے کے باوجود بھی منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے اور یہاں کے مریض ، طلاب اور عام شہری اس وجہ سے بے حد پریشان رہتے ہیں ۔مقامی لوگوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ترقی کے اس دور میں کرناہ میں بھی گنڈولہ سروس کیلئے ایک منصوبہ بنایا جائے تاکہ ایک اس علاقے کی خوبصوتی میں اضافہ ہو اور دوسرا لوگوں کا سفر اسان بن سکے ۔