کرناہ کو دو لخت کرنا منظور نہیں: سیول سوسائٹی

کرناہ //کرناہ سیول سوسائٹی سمیت سیاسی جماعتوں نے حدبندی کمیشن کی اس تجویز کو یکسر مسترد کیا ہے جس میں کرناہ کو دو لخت کردیا گیا ہے۔انہوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ کرالپورہ کے کچھ ایک علاقوں کو کرناہ اور کیرن کو ترہگام حلقہ انتخاب کیساتھ جوڑنا بہت بڑیناانصافی ہے اور اسکے خلاف بڑے پیمانے پر ایجی ٹیشن شروع کرنے پر مشاورت کی جائیگی۔ ۔سیول سوسائٹی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اعجاز احمد نے کہا کہ کرناہ کی اپنی ایک تہذیب ہے، کلچر ہے جو وادی کے دیگر میدانی علاقوں سے تو دور کی بات ہے کپوارہ کیساتھ بھی نہیں ملتے۔انہوں نے بیان میں کہا کہ کرنا ہ برصغیر کی تقسیم کے وقت ایک تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا اور حد بندی کمیشن نے اب اسکی مرکزیت کو کٹم کرنے کی کوشش کی ہے لہٰذا کرناہ اور کیرن کی آبادی اس نا انصافی کو آسانی کیساتھ نہیں سہہ سکتی۔انہوں نے کہا کہ کرناہ اور کیرن کی آبادی اتنی زیادہ نہیں لیکن دور درواز اور دشوار گذار علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں ہونی والی تعمیری سرگرمیاں خالصتاً یہاں کیلئے ہی مرکوز رہتی ہیں لیکن اب اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے اسکی مرکزیت کو ختم کرنے کی پالیسی بنائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کرالپورہ ، کپوارہ ضلع حدود سے بالکل قریب ہے اور اسی طرح ترہگام بہت بڑا شہری قصبہ ہے۔ ان دونوں شہری علاقوں کو پہاڑی علاقوں کرناہ اور کیرن سے ملانا انتہائی نافص سوچ  اور منفی پالیسی کا عکاس ہے۔