کرناہ میں بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگ پریشان

سرینگر//محکمہ بجلی نے دعویٰ کیا تھا کہ یکم مارچ سے بجلی شیڈول میں بہتری لاکر لوگوں کو بلا خلل بجلی سپلائی فراہم کی جا ئے گی ،لیکن کرناہ میں نومبر میں جاری کیا گیا بجلی کا شیڈول اپریل میں بھی لاگو ہے اور گھنٹوں بجلی غائب رکھی جاتی ہے جس کے نتیجے میں صارفین سخت پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ سحری اور افطاری کے وقت بھی انہیں بجلی دستیاب نہیں رکھی جاتی اور محکمہ بجلی کرناہ کے صارفین کو شیڈول کے مطابق اور بلا خلل بجلی سپلائی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے ۔کرناہ کے نہچیاں ، شمس پورہ ، کچاڑیاں ، باغ بالا ، گومل ، نوپورہ ، ٹنگڈار ، سلمان ، کھوڑپارہ ، لونٹھا ، شاٹھ پلہ ، کنڈی ، دلدار ، بٹ پورہ ، چنی پورہ ، تربونی ، مقام ، ٹاڈ گبرہ اور ٹیٹوال کے متعدد علاقوں کے لوگوں کے مطابق انہیں اُمید تھی کہ بجلی سپلائی میں بہتری آئے گی لیکن ماہ رمضان میں بھی انہیں گھنٹوں بجلی سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں ان کا کام کاج مکمل طور پر متاثر ہو گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے یہ معلوم ہوتا تھا کہ ان اوقات کے دوران بجلی آئے گی لیکن انتظار کرنے کے باجود بھی بجلی وقت پر دستیاب نہیں ہوتی ہے ۔اسی طرح سکولی بچے بھی بجلی کی بہتر سپلائی نہ ملنے کے سب اپنی تعلیم پڑھنے سے قاصر ہیں ۔ اکثر جگہوں پر اگر کبھی کبھار بجلی آبھی جاتی ہے تو اس کی وولٹیج اتنی کم ہوتی ہے کہ شمع جلا کر دیکھنا پڑتا ہے کہ بجلی جل رہی ہے یا نہیں کیونکہ برسوں سے ان علاقوں کے بجلی ٹرانسفامروں کی صلاحیت نہیں بڑھائی گئی ہے جبکہ آبادی میں کئی گنا کا اضافہ ہوا ہے ۔مقامی لوگوں نے محکمہ بجلی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی سپلائی میں بہتری لانے کیلئے اقدمات کئے جائیں تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔