کرناہ علاقہ میں سڑکوں کا بُرا حال

سرینگر // بیکن کی نااہلی اور آر اینڈ بی کی لاپرواہی کے سبب ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہوئی کپوارہ کرناہ کی سڑکیں مکینوں کیلئے پریشانی کا سبب بن رہی ہیں بیکن محکمہ کی ناقص کارکردگی کے سبب کرناہ کپوارہ شاہراہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے، اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شاہراہ پر اس وقت محکمہ کی کوئی بھی مشینری موجود نہیں ہے۔ نستہ چھن گلی سے لیکر ٹیٹوال تک سڑک اس قدر خستہ حال ہے کہ مسافر اس پر جان جوکھم میں ڈال کر چلتے ہیں ۔دو برس قبل محکمہ بیکن نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ نستہ چھن گلی سے ٹیٹوال تک قریب 60کلو میٹر سڑک پر تارکول بچھانے اور اُس کو کشادہ کرنے کا کام مکمل کیا جائے گا لیکن سڑک پر بیکن کی سرگرمی کہیں پر بھی دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔سادھنا گلی ، ڈنہ ،زرلہ ، تار ، مڑ موڑ ، کھتوڑہ ،نیچیاں تک سڑک اس قدر خستہ حالت میں ہے کہ وہاں گہرے کھڈے پیدا ہوئے ہیں ۔ٹرانسپورٹ یونین کرناہ کا کہنا ہے کہ سڑک کی مرمت کے حوالے سے انہوں نے کئی بار احتجاج بھی کیا لیکن بیکن کوئی اقدامات نہیں کر رہا ہے۔ یونین کے صدر عبدالمجید میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ روزانہ سڑک پر 300چھوٹی بڑی مال بردار گاڑیاں سفر کرتی ہیںجہیں خستہ حال سڑک کی وجہ سے نقصان ہوتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ روانہ گاڑیوں کی مرمت پر انہیں ہزاروں روپے کا خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے ۔تاجر برادری نے بھی سڑک کی خستہ حالی کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ محکمہ نے لوگوں کو خدا کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے ۔بیوپار منڈل کے صدر عبدالرحیم میر نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نستہ چھن گلی سے ٹیٹوال تک سڑک انسانوں کے چلنے کے لائق نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے نالہ بتہ موجی کے اوپر تعمیر دو پل ڈھہ گئے تھے اور سڑک کو بھی نقصان پہنچا تھا لیکن اُس کے بعد نہ ہی پلوں کی تعمیر کا کام محکمہ بیکن نے ہاتھ میں لیا اور نہ ہی سڑک کی مرمت کی جا سکی ۔ تاجر ریاض احمد شیخ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ٹنگڈا ر مارکیٹ، جس پر کرناہ کی 80ہزار آبادی کا دارو مدار ہے ،  پرگردوغبار کے بادل چھائے رہتے ہیں جس سے دکانوں میں پڑا مال تباہ ہو رہا ہے جبکہ بارشوں میں یہ سڑک پانی کی ایک گندی نالی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور پھر راہگیروں کا چلنا پھرنا انتہائی مشکل بن جاتا ہے ۔ایسی ہی حالت ٹنگڈار ٹیٹوال سڑک کی ہے۔مین مارکیٹ ٹنگڈار ، کنڈی ، دلدار ، بٹ پورہ ، چھمکوٹ ، چترکوٹ ، سکھ بریج ، درنگلا ، اور ٹیٹوال میںسڑک کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے ۔علاقے میں ایسی ہی حالت بی ایم جی ایس وائی اور آر اینڈ بی محکمہ کے تحت آنے والی سڑکوں کی بھی ہے۔ ٹنگڈار جاڈہ ، ٹنگڈار گبرہ ، ٹنگڈار سلمان ، ٹنگڈار ٹاڈ ، ٹنگڈار چرکونجی ، ٹنگڈار کونہ گبرہ ، ٹنگڈار جبڑی ،سکھ بریچ باردکوٹ ، چترکوٹ گھنڈی گجرہ ، گھنڈی سیدیاں ، کے علاوہ پراڑہ اور دھنی سڑکیں چلنے کے قابل نہیں ہیں۔ صرف پہاڑوں کو چیر پھاڑ کر سڑکیں نکالی گئیں ہیں لیکن نہ انکی کشادگی کی گی اور نہ میکڈم بچھایا گیا ہے۔