کرفیو اور مظاہروںکے دوران انتظامیہ کا رول افسوسناک: پیپلز مومنٹ

جموں//جموں کشمیر پیپلز مومنٹ نے گورنر انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کرفیو اور مظاہروں کے دوران جموں کے مختلف علاقوں میں مقیم کشمیری عوام اور مسافروں کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے جس کے باعث انہیں ہر طرح کے آلام و مصائب سے دوچار ہونا پڑا۔یہاں جاری پریس بیان کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور پیپلز مومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم کی قیادت میں پیپلز مونٹ کے ایک وفد نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے درماندہ کشمیری مسافرین کو درپیش مشکلات اور پریشانیوں کا جائزہ لیا۔درماندہ وفد نے پیپلز مومنٹ کے وفد کو بتایا کہ گزشتہ چھ روز سے کرفیو اور ہڑتال کی وجہ سے خوفزدہ اور حراساں کئے جانے کے علاوہ انہیں اشیائِ خوردونوش کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔میر شاہد سلیم نے جموں شہر اور اس کے مضافات میں آبات مسلم آبادی کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے بحران کی اس گھڑی میں ہزاروں درماندہ مسافرین کے لئے مفت قیام و طعام کا انتظام کیا ۔ موصوف نے کہا کہ جمعرات کو عسکریت پسندوں کی جانب سے پلوامہ میں پیرا ملٹری فورسز پر حملے اور ہلاکتوں کی کے بعد جس طریقے سے ملک کے مختلف حصوں کے ساتھ ساتھ جموں میں کشمیریوں کے خلاف فرقہ پرست بلوائیوں نے حملے کرنے شروع کئے ،اس سے جموں میں مقیم ہزاروں کشمیریوں میں خوف و حراس کی لہر دوڑ گئی اور وہ جائے پناہ کی تلاش میں جگہ جگہ بھٹکنے لگے۔انہوں نے کہا کہ ایسے میں انتظامیہ کی جانب سے نہ کوئی امدادی کاروائی شروع کی گئی اورنہ ہی محصور مسافرین اور دوسرے لوگوں کو بحفاظت محفوظ مقامات تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ۔پیپلز مومنٹ کے چیئرمین نے افراتفری کے اس ماحول میں جموں شہر کی مختلف مساجد کی جانب سے محصور مسافرین کے لئے کئے گئے قیام اور طعام کے انتظام کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ ان مساجد میں ہزاروں لوگوں کے لئے مفت کھانے اور رہائش کی سہولیات فراہم کی گئی ۔ حریّت رہنما نے کہاکہ امن و قانون کی بگڑتی صورتِ حال کے دوران مظاہرین کی جانب سے مسلم بستیوں کو نشانہ بنائے جانے کی کوشش کی گئی جس دوران پولیس اور پیرا ملٹری اہلکاروں کا دور دور تک نام و نشان نظر نہیں آیا اور ایسا معلوم ہوتا تھا گویا اس سارے ہنگامے کے دوران انتظامیہ نے مظاہرین کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا ہواور اس ساری صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مظاہرین نے چن چن کر مسلمانوں کی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور نذرِ آتش کرنا شروع کیا ۔انہوں نے کہا کہ جمعرات کو پلوامہ میں پیش آئے اس واقعے کے بعد انتظامیہ نے مجرمانہ غفلت شعاری اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں مظاہرین نے ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا شروع کیا اور یہ ڈرامہ جمعہ کی سہ پہر تک جاری رہا اور جب بلوائیوں نے کئی درجن گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے بعد مساجد کا رخ کرنا شروع کیا تب جاکر انتظامیہ حرکت میں آئی اور فورسزکو تعینات کرنے کا عمل شروع کیاجس کے بعد حالت پر قابو پایا جا سکا ۔ان کاکہناتھاکہ اگر گورنر انتظامیہ کی جانب سے یہ سب انتظامات پہلے کئے جاتے شائد کروڑوں روپے کی مالیت کی گاڑیوں کو نذر آتش ہونے سے پچایا جا سکتا تھا۔ حریت رہنما نے کہا کہ حکومت کی نا اہلی کی اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ سکریٹریٹ ملازمین کو بھی مظاہرین کے حملوں سے محفوظ نہ رکھ سکے جنہیں مظاہرین نے کھلے عام اپنے نفرت انگیر یز حملوں کا شکار بنایا۔حریت رہنما نے جموں کی سول سائٹی سے پر زور اپیل کی کہ وہ شہر میں امن و آشتی کا ماحول ہر گز بگڑنے نہ دے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ فرقہ پرست عناصر انتخابی فائدے کے لئے فرقہ پرستی کا رنگ دے رہے ہیں جو کہ ہر طرح سے قابلِ مذمّت ہے ۔