کردارِبَدر کرپیدا ،فرشتےمدد کو آئیں گے

عاقب شاہین
ہر رمضان کی ۱۷ تاریخ ہمیں ہجرت کے دوسرے سال کے دن کی یاد دلا دیتی ہے، جس روز حق وباطل کا پہلا فیصلہ کن معرکہ غزوہ بدر ہوا۔ جوکہ مسلمانوں کے لیے صرف ایک گزرتا ہوا تاریخی واقعہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسا تعلیمی مرکز ہے، جس سے مسلمان ہمیشہ اپنا مقام ،شان وشوکت ،باوقار زندگی اور حالات کا سبق حاصل کرتے ہیں یا تو جنگ ظلم کے خلاف اور انصاف کی بالادستی کی لیے ہوگی یا حق وباطل کے امتیاز کی خاطر ہوگی۔

روز اول سے ہی حق و باطل کے درمیان مختلف صورتوں میںجنگیں چلی آرہی ہیںاور اس وقت دنیاکے کئی حصوںمیں جاری ہیں ۔ کفار اور مسلمانوں کے درمیان اسلامی تاریخ کاسب سے اولین غزوہ،جنگِ بدر ہے ۔ جس میں تائید ِ ربّ تبارک تعالیٰ کی بدولت مسلمانوں کو کامیابی و کامرانی کے ساتھ ہمکنار کیا گیا ۔ غزوہ بدر مسلمانوں کو کامیابی کے راستے کی طرف سب سے اہم اور متاثرکن واقعہ ہے ۔ کیونکہ یہ مومنین کے دلوں میں تحریک پیدا کرتی ہے ،اسلام کے دشمنوں پر فتح اور طاقت کی اُمید دلاتی ہے ۔ غزوہ بدر توحید اور شرک کے درمیاں امتیازی فرق کرتی ہے ۔کیونکہ یہ بہادری اور نجات کی سب سے اہم اور نمایاں مہاکاوی تھی ، مشرکین کے ساتھ پہلا فوجی تصادم تھا، اسلامی فتوحات کا آغاز ہوا اور قوم کو شرک و بت پرستی سے نجات ملی ۔

غزوہ بدر اس حقیقت پر مضمر ہے کہ لوگوں کی بندگی خواہشات روایات ،رسم و رواج سے چھٹکارا پاکر ایک معبود برحق ک طرف لوٹنے کاذریعہ بن گیا ۔

غزوہ بدر کو اُن روزے داروں اور صبر کرنے والے مسلمانوں کی ایک مثال سمجھی جاتی ہیں جو رضائے الٰہی کی خاطر جدوجہد اور اپنے دین حق کا دفاع کررہے تھے۔

رمضان کے مقدس مہینے اور ہجرت کے دوسرے سال ہی میں یہ واقعہ پیش آیا جبکہ روزہ بھی اسی سال مسلمانوں پر فرض کیا گیا تھا ۔ مسلمان بدر کی اس عظیم جنگ سے پہلے اقلیت کے طور پر محدود طریقے سے رہتے تھے ، اور غزوہ بدر کے بعد ہی اس عظیم تحریک نے ایک نیا رخ موڑ لیا۔ مسلمانوں نے اپنی کمزوریوں ،ظلم و ستم کو بھلا کر ایک نئی زندگی کاآغاز کیا ۔ چنانچہ آج بھی اسلام دشمن لوگ ایک ہی پلیٹ فارم پہ جمع ہوکر ہر سطح پر قیادت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں ۔ چاہے وہ سیاسی ہو یا سماجی، معاشی ہو یا معاشرتی یا اقتصادی تمام امور پر مکمل حاوی ہوچکے ہیں ۔جبکہ غزوہ بدر نے مسلمانوں کو غیروں کے اس تسلط سے آزاد کیا تھا ۔بد راتحاد کی دعوت دیتا ہے اور اللہ پر توکل کرنا سکھاتا ہے اور تاریخ گواہ ہے ،اللہ پر بھروسہ کرنا ہی فتح و نصرت حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے ۔ یعنی جب تک مسلمان صبر ،تقویٰ ،قوتِ ایمانی جذبہ شہادت سے آراستہ نہیں ہونگے تب تک باطل قوتوں پر ہرگز فتح یاب نہیں ہونگے۔ لیکن اگر آج کا مسلمان فضائے بدر پیدا کریں، جذبۂ جہاد، شوقِ شہادت ،صبر ،تقویٰ اور قوتِ ایمانی کی صفات سے منصف ہوجائیں تو دنیا کا کوئی بھی نظام ِکفر اور باطل طاقت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔ اور جب یہ اوصاف مسلمانوں میں پیدا ہونگے تو پھرفرشتے بھی مسلمانوں کی مدد کو گردوں میں اُتر سکتے ہیں ۔

 چنانچہ یہی اوصاف دین ِاسلام کے اُن ۳۱۳جانثاروں اورمحمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے وفاداروں و وفاشعاروں کے اندر موجود تھے، جنہوں نے قائد اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں مدینہ سے بدر کی جانب رُخ کیا ۔ اس عظیم بدر میں ۷۷مہاجرین اور دوسو چھتیس ۲۳۶انصار شامل تھے ۔

اس بدرِ غزوہ میں مسلمانوں کے پاس صرف دو گھوڑے اور ۷۰اونٹ کا زراور ۸ شمشیریں تھیں ۔ایک ایک اونٹ پر باری باری تین مسلمان سوار ہوتے تھے۔

قائد اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،مسلم فوج کے سپہ سالار خود حضرت علی اور حضرت مرثد غنوی رضہ اللہ عنہما ایک اونٹ پر سواری کرتے تھےاور 8 صحابہ کرام ایسے بھی، جو کسی عذر کی بنا پر میدان بدر میں حاضر نہ ہو سکے ۔اس کے مقابلہ میں کفاری لشکر کے پاس تقریباً 100 فوجی گھوڑے اور 170 اونٹ اور بے شمار حرب و ضرب کے اوزارموجود تھے مگر پھر بھی شکست اُس کا مقدر بن گئی۔ وجہ صرف یہی تھی کہ مسلمانوں کے پاس جذبۂ ایمان سمیت وہ سارے اوصاف موجود تھے جو اوپر بیان کئےگئےہیں۔

علماکرام نے اس جنگ عظیم کی خلاصہ یہ بیان کیا ہے کہ کسی قوم کی دشمنوں پر فتح اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتی ہےاور مسلمانوں کو چاہیے ،اللہ پر اپنا ایمان و یقین پختہ کریں اور اللہ کے بھیجے ہوئے شریعتِ کے مطابق اپنی زندگی گزاریں تو اللہ تعالیٰ کی فتح و نصرت ایسے ہی باایمان لوگوں کے ساتھ ہیں ۔

 ایک اور نقطہ یہ بھی نکلتا ہے کہ حق کے راستے میں کوئی بھی رُکاوٹ پیش آئے تو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے بلکہ ہمیشہ حق پر قائم رہنا چاہئے اور حق کا ہی ساتھ کا ساتھ دینا چاہیے۔ اگر راہ حق میں کانٹے بچھانے والے اپنے رشتہ دار کیوں نہ ہو۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں نے حق کے لیے اپنے رشتہ داروں کو ترک کرکے اللہ کی راہ میں اپنا خون بہایا اور زندگی سے زیادہ موت کو ترجیح دی۔ اسلام کی خاطر مسلمانوں کو بلند حوصلے کے ساتھ اپنے جامع اور مکمل صفوں میں جتنی قوت ہوسکے ، حاصل کر لینی چاہئے ۔ اُمید اور یقین کے مستحکم جذبے کے ساتھ ایمان کی مضبوطی کے ساتھ سچائی، حق پرستی اور اسلام کی سربلندی کے خاطر جدوجہد کرنی چاہئے اور ایسے ہی لوگوں کے لیے پھر اللہ نے وعدہ فرمایا ہےکہ فرشتے بھی اُن کی مدد کے لیے آجاتے ہیں ۔

بقول مولانا ظفر علی خان ؎

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

[email protected]