کرتا ہوں جمع پھر جگرِ لخت لخت کو

اسے کہتے ہیں تنگ آمد بجنگ آمد۔روز روز کے این آئی اے چھاپوں کی خبریں ہیں۔اس پر الیکٹرانک مچھلی بازار پر زہر آلود تبصروں کی نہیں بلکہ گالی گلوچ کی بھرمار ہے۔ ہم جب جنگ لڑتے ہیں تو نعرہ مستانہ لگا کر لڑتے ہیں۔کتنا سنیں کتنا سہیں شاید اسی لئے اپنے ینگ مولوی صاحب نے فلک شگاف نعرہ لگایا اور پیر صاحب اور ملک صاحب نے بیک زبان جواباً کہا کہ آواز دو ہم ایک ہیں ۔داروغہ زندان ہوشیار باش ہم تو دلی آکر ہی تم سے دو دو ہاتھ کریں گے۔ قضیہ کشمیر تمہاری جیل کے اندر نپٹالیں گے۔ ہم تو سمجھے تھے اپنے ہل والے نیشنلی اور قلم دوات والے پیران کلیسا ہی پر فریب نعرے لگانے میں ماہر ہیں کہ ادھر نعرہ لگا اور اہل کشمیر نعرہ مستانہ کی دھن میں کھو جاتے ہیں ۔آج کی بات نہیں پچھلے ستر سال سے سن سن کر سُن ہوجاتے ہیں کہ پھر آزادی کیا، آ ٹونامی کیا ،سیلف رول کیا ،دفعہ ۳۷۰ کیا اور تازہ تازہ ۳۵۔اے کیا  اسی ادھیڑ بُن میں کھو جاتے ہیںمگر بات اتنی بھی نہیں بلکہ کشمیریت، جمہوریت او انسانیت بھی میدان عمل میں ہیں کہ اہل کشمیر کو بہلایا جائے، پھسلایا جائے،ٹرخایا جائے۔ہمیں تو سڑک ،چوک ،شہر، قصبہ ،گائوں میں کھڑے خوبصورت بورڈوں کے ساتھ اُلجھائے رکھا گیا کہ ان پر دلکش نعرے تحریر ہیں ۔جمہوریت انسانیت کشمیریت کی ایسی تشریح لکھی ہوئی ہے کہ ہم من و عن عمل کرنے پر راضی ہیں۔ جوان اور عوام  امن ہے مقام۔باریش شخص کو پانی پلاتے ہم سوچتے ہیں کہ کتنا پانی پلائے گا کہیں مسلسل پانی  پیتے ہوئے یہ بزرگ ۔۔۔۔۔۔ہم چونکہ اہل کشمیر ہیں اسلئے ان کی کہی لکھی بات پر بلا عذر بھروسہ کرتے ہی کہ ہم اپنوں پر ستر سال سے بھروسہ کرکے دھوکہ کھاتے رہے اور پھر بھروسہ کرنے نکلے کہ چلو دس بار ٹرخایا گیارویں بار ایسا نہیں کریں گے۔اسی لئے جب لسجن میں فوجی گاڑی حادثے کا شکار ہو ئی ہم فوراً مدد کرنے نکلتے ہیں کہ انسانیت میں یقین رکھتے ہیں۔پانتہ چھوک میں پولیس گاڑی پر حملہ ہو فوراً زخمی پولیس والوں کو ہسپتال پہنچاتے ہیں یہ بھول کر کہ کہیں سے بھی پیلٹ والی بندوق آگ اگل دے گی۔اور تازہ تازہ چاوڑورہ میں جب فوجی گاڑی الٹتی ہے تو فوجیوں کو نکالتے ہیں ،پانی پلاتے ہیں مرہم پٹی کرتے ہیں،کیونکہ ہم کشمیریت کے تابع ہیں۔یہ اور بات ہے کہ جوان اور عوام امن ہے مقام کا نعرہ تبدیل کرکے اسے قبر ہے مقام بنا دیا گیا کیونکہ وہ بھارت ورش کی جمہوریت کے دعویدار بھی ہیں اور ٹھیکیدار بھی۔اس لئے ہم نے زخموں پر مرہم رکھا انہوں نے کپوارہ میں نصراللہ کو زخم دئے ۔ہم نے زخمی فوجیوں کو پانی پلا یا انہوں نے کپوارا میں نصراللہ کے ساتھی منظور خان کو پانی کے لئے تڑپایا ۔اتنا تڑپایا کہ اس کا ابھی تک اتا پتا ہی معلوم نہیں ۔فی الحال انکوایری کا دلاسہ ہے ۔تحقیقات کا میٹھا منہ میں ٹھوسا ۔ملوث لوگوں کو سزا دینے کی چھڑی دکھائی ۔مگر ہم تو ملک کشمیر میں تیس سال سے انکویری کا قہوہ پیتے رہے ہیں اس میں اب اتنا شکر پروسا گیا ہے کہ ڈر ہے کہیں  زیابیطس کے شکار نہ ہو جائیں۔جیسے ہمیں معلوم نہیں کہ وردی پوشوں پر انکویری کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔کیونکہ انکویری اگر ایٹم بم ہے تو وردی پوش افسپا کے بنکر میں رہایش پذیر ہیں۔تحقیقات اگر میزایل ہے تو وردی پوش قومیت کا انٹی میزایل کندھے پر اٹھا کر چلتے ہیں۔چھان بین اگر چوہا ہے تو سپیشل پاور بلی ہے ۔جبھی تو چھان بین کرنے والے بلوں میں گھس جاتے ہیں کہ محفوظ رہیں ۔
زندگی کی کہانی کہاں کھو گئی مختصر سی جوانی کہاں کھو گئی
ہم تو خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے کہ کم از کم  ایک طرف اگر ہم خون کا نذرانہ دینے میں نمبر وَن ہیں تو دوسری طرف ملک کشمیر ایک چیز میں دوسرے نمبر پر بھی ہے ۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ہمیں کرپشن میں دوسرے نمبر پر لا کھڑا کیا تھا اور ہم تھے کہ اسی کامیابی کے سہارے دن گزارتے تھے کہ چلو کہیں نہ کہیں ہمارا نام بھی یاد کرنے کے لایق ہے ۔کام نہ کرنے کی تنخواہ لیتے تھے اور کرنے کے عوض حق زحمت یعنی چائے پانی  ہی نہیں پورا گوشتابہ منہ میں ٹھوس لیتے۔لیکن اب کی بار مودی سرکار نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا جو نعرہ دیا تو بھارت ورش نے یہ اعزاز بھی اپنے نام کرلیا ۔فوربس میگزین کی ایک سروے کے مطابق انڈیا ایشائی ممالک میں سب سے زیادہ کرپٹ دیش ہے۔اور بانوئے کشمیر اس کے سبب گھبرا گئی فوراً ضلعی کمشنروں کو ہدایت دی کی رشوت خوری کے خلاف صف آرا ہوجائیں ۔ہم تو  دن دھاڑے ٹھا ٹھا ہنس پڑے کہ کشمیری زیرکوں کی وہ بات یا د آئی ۔گلوانس گُر حوالہ(گھوڑا چوری کرنے والے کے ہاتھ اپنا گھوڑا تھما دیا کہ اس کی حفاظت کریں) کیونکہ رشوت خوری تو  سیاسی اور انتظامیہ سرشتوں میں موجود ہے اور انہی سے اس کا قلع قمع کرنے کی تجویز ہے۔بھلا کمشنر  بھاجپا اور کانگریس جیسی سیاسی پارٹیوں کا کیا بگاڑیں کہ بھاجپا نے ۲۰۱۵ ۔۱۶ میں اکیاسی فیصد یعنی ۴۶۱ کروڑ اور کانگریس نے ۷۱ فیصد یعنی ایک سو چھیاسی کروڑ بے نامی فنڈس وصول کئے جس کے دینے والوں کا کہیں نام ہی نہیں۔   
نام بھی بڑا دلچسپ ہے ۔اسے ہی اصل میں کہتے ہیںسب کا ساتھ ۔گرمیت سنگھ عرف رام رحیم یعنی کسی بھی ذات برادری مذہب کو اکیلا نہ چھوڑا بلکہ سب کو ساتھ لیکر چلنے کا اعلان کیا ، نام دیا اور کام بھی۔دروغ بر گردن من پریت کور جس نے الزام لگایا کہ ہریانہ کی کھٹر سرکار نے الیکشن میں مدد کے عوض زنا بالجبر کے وہ کیس واپس لینے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن کیا کریں سب کچھ بھاجپا سرکار کے ہاتھ میں نہیں کہ دو مضبوط ارادے والی خواتین نے ہمت اور پکا ارادہ کرکے ڈیرے میں سچ کا سچ اور جھوٹ کا جھوٹ الگ کردیا ۔پھر کیا تھا بابا بلک بلک کر رویا ۔کوئی مجھے بچا لو ۔رام رحیم دونوں کی قسمیں کھا کر آنسو بہائے کہ میں لڑکیاں چھیڑ کر کیا کروں گا، میں تو نامرد ہوں۔واہ کیا بات ہے ۔جب جان پر بن آئی تو اپنا کچھا چٹھا بیچ میدان میں رکھ دیا ۔ جن پر کبھی ناز کرتا تھا اپنے وہ اندرونی راز بھی افشا کر دئے۔
وہ جو نوٹ بندی کا فرمان جاری ہوا تھا ،ہمیں تو ڈر تھا کہیں کوئی الٹی سیدھی بات منہ سے نکلی جو سب کا ساتھ سب کا وکاس میں روڑے اٹکائے تو ہم کو دیش دروہی پکارا جا سکتا ہے یا پھر ہو نہ ہو ہمیں مملکت خداداد کے اس پار دھکیل دیا جاتا اور قلم دوات والے فتویٰ صادر کرتے کہ ہم ملک کشمیر میں رہایش کے قابل نہیں ۔کیونکہ کنول والے تو  پھول والے قلم والے سبحان اللہ۔مانا کہ ہم چپ رہے لیکن اپنے چچا غالب ،اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ،ہمارے دل و دماغ میں نئے طریقے سے شاعری کرنے لگے۔بنکوں کے باہر لمبی قطاروں میں انتظار کرنے والوں کو جان دیتے دیکھا تو بول پڑے  ؎
بنک کس منہ سے جائو گے غالب
لائن تم کو نظر نہیں آتی
شام ہوتے جو مئے خانہ یاد آیا تو نیا انداز اپنا لیا ۔ فوراً قلم دوات سنبھال کر تحریر کرگئے   ؎
قرض کی پیتے تھے مئے سمجھتے تھے ایک دن 
رنگ لائے گی  یہاں پر نوٹ بندی ایک دن 
اور جب رنگوں کی بات آگئی تو دیکھا کہ سب کچھ زعفرانی رنگ میں رنگا جا رہا ہے۔مودی جی کا مفلر کیا، یوگی جی کے دفتر کیا، الیکٹرانک صحافت کا شور کیا ،سرکاری بیانات کا زور کیا ،جنگلوں میں مور کیا، اقلیتوں کی گردنوں کے گرد ڈور کیا۔اس ساری رنگا رنگی میں ہمیں سمجھایا گیا کہ نوٹ بندی سے کشمیر میں سنگ بازی، نکسلی علاقوں میں نکسل واد، سیاسی اور عوامی کرپشن، جگہ جگہ پھیلا آتنک واد ختم ہوگا ۔معاشی ترقی کا دور دورہ ہوگا۔اب کسی فرہاد کی ضرورت نہیں رہے گی کہ نوٹ بندی سے ہی دودھ کی ندیاں بہیں گی۔ہمیں کیا پتا تھا کہ ابھی نومبر اگست جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہ گزریں گے کہ سر عام بانڈہ پھوٹ جائے گا ۔وہ جو بے زبان سابق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ نوٹ بندی سے دو فیصد جی ڈی پی کم ہوگا وہ زبان دراز وزیر اعظم کی سرکار میں سچ ثابت ہوگیا۔یہ کوئی غیر اہم معاملہ نہیں اسلئے بھاجپا  پارٹی اور سرکار کے ذمہ داران اس مسلے پر غور کرنے لگے ۔پھر بڑی اہم اور رازدارانہ بات ہم تک پہنچی ۔دروغ بر گردن راوی جس نے پارٹی مشاورت کی اندرونی بات پہنچائی۔مجلس مشاورت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ نوٹ بندی مودی سرکار کا اہم فیصلہ تھا لیکن اس کے سبب دو فیصد جی ڈی پی کم نہ ہوا بلکہ اس کی تمام تر ذمہ داری بابر پر عائد ہوتی ہے ۔وہ یہاں آکر بابری مسجد نہ بناتا تو یہ کمی کبھی نہ ہوتی،پھر رہی سہی کسر اورنگ زیب نے پوری کی اور اگر کچھ رہا  تو شاہ رخ خان نے اپنی کمزور فلم شایقین کے لئے ریلیز کردی جو  جی ڈی پی میں کمی کا موجب بنی۔ 
یوگی راج میں بچے آکسیجن کی کمی سے مر رہے ہیں۔آنگ سان سو چی راج میں روہنگیا بچے جل رہے ہیں کٹ رہے ہیں ،بھاگ رہے ہیں ۔خبر ہے دو دن میں تین ہزار مارے گئے۔ ادھر چھوٹی بچی ملالہ یوسف زئی جو نوبل انعام یافتہ ہے نے کہا روہنگیا حالت دیکھ کر دل ٹوٹ گیا لیکن ادھر آنگ سان سو چی جو امن کا نوبل انعام گلے میں لٹکائے پھرتی ہے اس کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔بچوں کا خون دیکھ کر اور سونگھ کر کچھ اثر نہیں ہو رہا۔مودی مہاراج سے مل کر شکایت کردی کہ دہشت گردی سے نمٹ رہی ہوں۔واہ کیا بات ہے ہمارے یہاں تو پٹھانی سوٹ والوں کو آتنکی کہا جاتا ہے وہاں تو پانچ چھ سال کے بچے بھی دہشت گردی کرتے ہیں۔جو بچے مرے ہوئی مائوں کے پستان چوس رہے ہیں، لگتا ہے ان کے پیٹ میں بھلے دودھ کا قطرہ نہ پہنچے لیکن ہاتھوں میں پیکا گن اور تلواریں پہنچ رہی ہیں۔جو لرزتی ٹانگوں سے چل پھر نہیں سکتے وہ برمی فوج سے مقابلہ آرائی میں مشغول ہیں۔ہو نہ ہو ان روہنگائی بچوں کے منہ سے جو رال ٹپک رہی ہے اس میں کوئی ایسا زہر ملا ہو کہ اکثریتی بودھ آبادی کے جان کے لالے پڑے ہیں ۔ جبھی تو برمی فوج لائو لشکر لیکر ان کی مدد کو آتی ہے تاکہ ان روتے بلکتے بچوں اور بھاگتی ہوئی مائوں کا مقابلہ کیا جائے۔یو پی میں بچوں کی موت کوئی مسلہ نہیں ،برما میں روہنگیائی مسلمان بچوں پر دلسوز کاروائی دفاعی کاروائی ہے لیکن گو ماتاوں کی گوشالوں میں موت کا پتہ لگانے کے لئے چھتیس گڈھ سرکار نے عدالتی کمیشن قایم کیا۔خیر گئو ماتا تو اہم ہے حالانکہ ممبئی فسادات کی چھان بین کے لئے بھی سری کرشنا کمیشن قائم ہوگیا ،رپورٹ بھی آئی۔اس دوران کوئی ایک ہزار نو سو مارے گئے تھے۔ایک سال بعد بم دھماکے ہوئے جن میں دو سو ستاون مارے گئے ۔انہیں عدالت نے انصاف دیا کہ اس میں ملوث افراد کو موت یا عمر قید کی سزا سنائی۔سری کرشناکمیشن کو کسی نے پوچھا نہیں،ایک ہزار نو سو کی کسی نے پرواہ نہ کی ۔
سیاست تھی میری قسمت میں جو دی ہے یہ خو مجھ کو
جہاں جوتے کو دیکھا جھکا دیتا ہوں گردن کو
رابط[email protected]/9419009169  
�����