کرتار پور راہداری کھولنا بجا فیصلہ: ریاست کے آر پار 9نئے راہداری پوائنٹ بھی کھولیں جائیں

سرینگر //1947کی جبری تقسیم کے بعد منقسم ہوئے خاندانوں کیلئے نئے 9راہداری پوائنٹ کھولنے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہونے سے رہ گیا ہے کرتار پور راہداری پوائنٹ کھولنے کے بعد منقسم خاندانوں میں بھی یہ مانگ زور پکڑتی جا رہی ہے کہ انہیں بھی صدیوں سے بچھڑے اپنے عزیز واقارب سے ملنے کا موقعہ آسانی سے فراہم کیا جائے ۔معلوم رہے کہ پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے دوران اپنے ایجنڈا آف الائنس میں جموں سیالکوٹ ، چھمب میرپور ، گریز استور گلگت ، نوشہرہ میر پور ،کوٹلی ترتوک ، ترتوک کھپلو،کرگل اسکردو ، ٹیٹوال چلہانہ راہداری پوائنٹ کھولنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم نہ سرکار کے ہوتے ہوئے ان معاملات پر کوئی پیشرفت ہوئی اور نہ سرکار گرنے کے بعد کوئی پیشرفت ہونے کا کوئی امکان ہے۔منقسم خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان راہداری پوائنٹوں کے کھلنے سے صدریوں سے بچھڑے لوگ نہ صرف ایک دوسرے سے ملتے بلکہ آر پار تجارت بھی ہوتی ۔حال ہی میں بھارت نے سکھ یاتریوں کیلئے باضابطہ طور پر کرتارپور صاحب راہداری تعمیر کرنے کے لئے سنگ بنیاد رکھ دیا ہے اس دوران یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس راہ داری پوائنٹ پر تمام قسم کی سہولتیں موجود ہوں گی۔ یہاں تک کہ ویزا اور کسٹم کی سہولت بھی ہوگی۔کشمیر کے منقسم خاندانوں میں بھی یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ ریاست کے آر پار بھی 9راہداری پوائنٹوں کو کھولا جائے اور ساتھ ہی 13سال قبل کھولے گئے راہداری مقامات سے آواجاہی کو آسان کیا جائے ۔اس میں کوئی دوہرائے نہیں کہ سال 2002میں جب ریاست میں پی ڈی پی سرکار تھی اور پاکستان میں جنرل پرویز مشروف نظام سنبھال رہے تھے تو اُس وقت سال2005میں سرحد کے آر پار 5مقامات سے راہداری پوائنٹ کھولے گئے تھے اس دوران ہزاروں کی تعداد میں لوگ برسوں بعد اپنے بچھڑوںسے ملے لیکن اس سب کے بیچ ہزاروں لوگوں کا یہ خواب پورا نہیں ہو سکا ہے۔