کرتار پورہ کے بعد شاردا پیٹھ راستہ کھولا جائے

سرینگر //لائن آف کنٹرول کے آر پارپنڈتوں کے مذہبی مقام شاردا پیٹھ کو دونوں اطراف سے کھولنے کی وکالت کرتے ہوئے ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب بھیجا ہے ۔انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ یہ مقام کشمیری پنڈتوں کیلئے ایک اہم مقام ہے اور اس کو کھولنے کی اجازت دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ کرتار پور راہداری کھلنے کے بعد لوگوں میں ایک نئی اُمید پیدا ہو گئی ہے کہ اس مذہبی مقام کو بھی آر پار لوگوں کی آمد ورفت کیلئے بحال کیا جائے ۔پی ڈی پی صدر نے خط میں کہا کہ اُن کی جماعت نے ہمیشہ ہند پاک کے درمیان تال میل بہتر بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ آر پار لوگ آسانی سے ایک دوسرے سے مل سکیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کیلئے شاردا پیٹھ ایک اہم جگہ ہے جہاں وہ اپنے مذہبی فرائض انجام دے سکتے ہیں ۔ یہ اُن کا مطالبہ بھی ہے کہ اس مقام کو پنڈت یاتریوں کیلئے کھولا جائے ۔انہوں نے کہا کہ سرینگر مظفرآباد شاہراہ کی طرز پر اُس مذہبی مقام کو بھی کھولا جائے ۔انہوں نے خط میں کہا ہے کہ کشمیری پنڈتوں نے کرتار پور راہداری کے کھلنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اب یہ اُمید بھی ظاہر کی ہے کہ اس مذہبی مقام کو بھی کھول کر اُن کو وہاں جانے کا موقعہ فراہم کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ پنڈتوں کو پاکستانی وزیر اعظم کے بیان، جس میں انہوں نے اس مقام کو کھولنے کی پیشکش بھی کی ہے، سے کافی خوشی ہوئی ہے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی کئی تنظیموں نے اُن کے ساتھ اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا  ہے جس میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مذہبی مقام کو بھی کھول کر پنڈتوں کی برسوں کی مانگ پوری کی جائے ۔محبوبہ نے خط میں لکھا ہے کہ اُنہیں یقین ہے کہ وہ اس درخواست پر ترجہی بنیادوں پر غور کریں گے ۔انہوں نے کہا ہے کہ مجھے پوری اُمید ہے کہ اس فیصلے کا ریاستی عوام خیر مقدم کرے گی ۔