کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 مصنوعی بالوں اور نیل پالش کا استعمال 

خواتین کے وضو اور غسل کے مسائل

سوال :۱بہت ساری خواتین اپنے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال جوڑتی ہیں ۔اب جب وہ وضو کرتے ہوئے اپنے سَر پر مسح کرتی ہیں تو کیا اُن مصنوعی بالوں پر  مسح ہوتا ہےاور بعض خواتین اپنے فطری بالوں پر مسح کرتی ہیں ۔ہماراسوال یہ ہے کہ اگر کسی نے اُن مصنوعی بالوں پر مسح کیا تو کیا مسح ادا ہوجاتا ہے یا نہیں؟
سوال ۲: ۔کیا عورتوں کو بھی پورے سَر کا مسح کرنا اُسی طرح سنت ہے کہ جیسے مَردوں کو ؟عورتوں کو بالوں کا وہ حصہ جو پیچھے سے لٹکا ہوا ہوتا ہے ،کیا اُس حصے پر بھی مسح لازم ہے؟
سوال:۳۔بہت ساری خواتین آرائش کے لئے اپنے ناخن پر نیل پالش لگاتی ہیں ،جو عموماً بہت گاڑھا لیکوڈ ہوتا ہے ۔یہ پینٹ کی طرح ہوتا ہے ۔کیا ناخن پالش پر وضو ہوجاتا ہے۔اس طرح اگر ہاتھوں یا بالوں پر مہندی لگی ہوئی ہو تو کیا وضو ہوجاتا ہے؟
مریم سُلطان ۔سرینگر
جواب۱ :خواتین کے جو فطری بال ہوتے ہیں اُن بالوں پر اس طرح مسح کیا جائے کہ بھیگے ہوئے ہاتھ پورے سَر پر گذر جائیں۔مسح کے معنیٰ یہی ہیں کہ بھیگا ہوا ہاتھ کسی عضو پر گذار دیا جائے۔اب اگر کسی عورت نے’’وِگ‘‘ استعمال کیا ہواہو تو اس میں دو خرابیاں ہیں ۔ایک یہ کہ ایسے مصنوعی بال استعمال کرنا جائز نہیں اور اگر ان مصنوعی بالوں پر مسح کیا جائے تو یہ مسح بھی ادا نہ ہوگا ۔یہ بال چونکہ جسم کاِ فطری حصہ نہیں ہوتے ہیں،اسلئے اُن پر مسح گویا اپنے جسم پر مسح نہ ہوگا۔
جواب۲۔ پورے سَر کا مسح کرنا سنت ہے اور اس سنت پر پورے اہتمام سے عمل کرنا چاہئے۔  پورے سَر کا مسح جس طرح مَردوں کے لئے سنت ہے ،اُسی طرح عورتوں کے لئے بھی سنت ہے۔،البتہ خواتین کے سَر کے پیچھے جو لٹکے ہوئے بال ہوتے ہیں اُن پر مسح نہیں کرنا ہے۔سَر کے پیچھے اُس حصہ جہاں بال نیچے کی طرف لٹکے ہوئے ہوتے ہیں ،وہاں تک مسح کرکے پھر لٹکے ہوئے بالوں کے نیچے گردن پر مسح کرکے پھر کانوں پر مسح کرنا چاہئے۔
جواب۳۔ ناخن پر نیل پالش ہوتو اس پر نہ غسل ہوتا ہے اور نہ وضو ہوتا ہے،دراصل نیل پالش ایک گاڑھا پینٹ ہے جو پانی کو ناخن تک نہیں پہنچنے دیتا ،اس لئے جس خاتون کے ناخن پر یہ پینٹ لگا ہوا ہو وہ اگر غسل کرے گی اور نیل پالش لگا رہ گیا تو غسل ادا نہ ہوگااور وضو کرے تو وہ بھی ادا نہ ہوگا ۔اس لئےکہ اُس کے ناخن در حقیقت خشک رہ گئے ۔یہ ایسے ہی ہے جیسے تنگ انگوٹھی لگی ہوئی ہو تو نہ غسل ہوگا اور نہ وضو ہوگا ۔ 
����������������

سوتے وقت دعائیں پڑھنااوروضو کا مسئلہ

سوال : سونے کے وقت کیا کیا دعائیں پڑھ سکتے ہیںاور وہ دعائیں بغیر وضو پڑھنا جائز ہےیا نہیں؟
غلام محی الدین وانی ۔ترال
جواب:سونے کے وقت سورہ فاتحہ ،آیت الکرسی ،سورہ ملک ،چار قل ،تسبیح فاطمہ پڑھنا مسنون ہے ۔احادیث میں ان کے پڑھنے کی ترغیب بھی ہے اور فضیلت بھی ہے۔لہٰذا یہ سب پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مزید یہ کہ بخاری و مسلم میں حدیث ہے ۔حضرت برأبن عاذب کہتے ہیںکہ۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سونے کا ارادہ کرو تو پھر دائیں کروٹ لیٹ کر یہ دعا پڑھو ’’اَللّھُم اَسلمُت نفسی۔۔۔۔ الخ ۔یہ دعا مکمل بخاری شریف میں وضو کے بیان میں موجود ہے۔اس لئےکوشش کی جائے کہ باوضو سوئیں۔ تاہم اگر کوئی بے وضو سوئے تو یہ بھی جائز ہے اور اوپر کی ساری دعائیں بے وضو پڑھنا بھی جائز ہے۔سورہ الم سجدہ پڑھنےکی تاکید بھی احادیث میں آتی ہے ۔سونے کے وقت کی اوربھی دعائیں ہیں،جودعائوں کی کتاب مثلاً حصن المسلم اور مسنون دعائیں میں موجود ہیں۔
����������������

ٹیلفون رابطہ، سلام اور جوابِ سلام کا طریقہ

سوال:پہلے ٹیلی فون اور اب موبائیل فون کا استعمال زندگی کا لازمی حصہ بن گیا ہے۔اس کے بہت سارے مسائل میں سے ایک مسئلہ سلام کا بھی ہے۔برائے کرم فون پر سلام کے متعلق ضروری مسائل تحریر فرمائیں۔
بشیر احمد ۔بھدرواہ
جواب:سلام مسلمانوں کا شعار ہے۔ اس لئے فون پر پہلے سلام کیا جائے پھر بات کی جائے۔جب فون سے رابطہ کیا جائے تو رابطہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ ہیلو کیا جائے ،جب جواب میں ہیلو آجائے تو یہ رابطہ ہونے کی علامت ہے۔اب سلام کیا جائے ،یہ اُس وقت ہے جب یہ یقین ہو کہ اگلا شخص مسلمان ہے ۔اگر انجانے میں کسی غیر مسلم کو السلام علیکم کہا گیا تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ہاں! جب یہ معلوم ہوکہ میں جس سے بات کرنا چاہتا ہوں ،وہ غیر مسلم ہے تو پھریہاں سے آداب کہیںیا گُڈ مارننگ ،گڈ آفٹر نون یا گُڈنائٹ جیسے الفاظ کہیں،السلام علیکم نہ کہیں۔یہ مسلمان کے ساتھ مخصوص ہے۔فون پر اگر کوئی خاتون ہو تو چونکہ عموماً فتنہ کا خطرہ نہیں ہوتا ،اس لئے سلام کرنے اور سلام کا جواب دینے میںکوئی حرج نہیں ۔لیکن اگر فتنہ کا خطرہ ہو ،مثلاً یہی سلام و کلام غلط روابط قائم ہوجانے کا سبب بنے تو یہ سلام کرنا بھی منع ہےاور سلام کا جواب دینا بھی منع ہے،یہ مردوں کے لئے بھی ہے اور،عورتوں کے لئے بھی۔آج کل غیر محرم کے ساتھ غلط روابط کا بڑا ذریعہ یہ فون ہی ہے۔
با ت چیت ختم کر کے پھر سلام کرنا بھی حدیث سے ثابت ہے۔ لہٰذا جیسے ملاقات کرکے رخصت ہوتے وقت سلام کرنا سنت ہے ،ایسے ہی فون پر بات چیت ختم کرکے سلام پر اختتام کرنا سنت ہوگا ۔اس طرح ہر شخص کے لئے سلام کے الفاظ کا درست کرنا بہت ضروری ہے۔بہت سارے لوگ سلام تو کرتے ہیں مگر الفاظ میں سخت غلطیاں ہوتی ہیں۔مثلاًسلام علیکم ،یا ساں ولیم ،یا سا علیکم یا سا ملیکم وغیرہ ۔یہ سب غلط ہیں ۔اس طرح کے غلط کلمات سلام کے نام پر غیر سلام ہے۔صحیح یہ ہے ’’السلام علیکم ‘‘۔اس کو انگریزی میں یوں لکھا جائے۔ASSA-LAMU.ALAIKUM۔بہت سارے لوگ سلام کے جواب میں بھی سلام ہی کرتے ہیں ۔یاد رہے سلام کرنا سنت اور جواب دینا واجب ہے۔سلام کے الفاظ یہ ہیں ’’السلام علیکم‘‘۔۔۔ا سکا جواب یہ ہے ’’وعلیکم السلام ‘‘اگر سلام یا جواب ِسلام میں یہ اضافہ کیا جائےتو بہتر ہے۔ورحمتہ اللہ و بر کا تہٗ 
������������������

کپڑوں پر پیشاب کی چھینٹوں کا مسئلہ

سوال :پیشاب کرتے ہوئے کبھی چھینٹیں جسم یا کپڑوں پر گرتی ہیں ،کبھی یہ چھینٹیں معلوم ہوتی نظر آتی ہیں اور کبھی بہت چھوٹی ہوتی ہیں کہ نظر بھی نہیں آتیں ۔اب سوال یہ ہے کہ ایسے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
محمد حسین خان ۔اسلام آباد
جواب :جسم یا کپڑوں پر ایسی چھوٹی چھوٹی چھینٹیں جو نظر نہیں آتی ،وہ معاف ہیں ۔ایسے کپڑوں میں نماز پڑھی جائے تو ادا ہوجاتی ہے ۔ملاخطہ ہو فتاویٰ دارالعلوم دیو بند جلد اول۔اور جسم یا کپڑوں پر وہ چھینٹیں جو نظر آتی ہیں اُن کا پاک کرنا ضروری ہے بشرطیکہ یہ پیشاب کی چھینٹیں ہوں ۔اگر وضو کی چھینٹیں ہو تو اُن میں کوئی حرج نہیں۔