کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ 
سوال:۔ عام طور پر مسجدوں میں اقامت کہنے پر جھگڑا ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جو اذان کہے وہ تکبیر بھی کہئے گا کیا ایسا کرنا درست ہے؟
سوال:۔ بیک وقت کئی اذانوں کا جواب کس طرح دیاجائے اگر کسی نماز کے وقت کئی مسجدوں سے ایک ساتھ اذان کی آواز آنے لگے تو ایسی صورت میں کس مسجد کی اذان کا جواب دیا جائیگا؟
سوال: اگر کوئی شخص اکیلے نماز پڑھے تو کیا ایسے شخص کیلئے اذان اور اقامت کہنا درست ہے یا نہیں؟
سوال: اگر وقت سے پہلے اذان دی جائے تو کیا اذان کا اعادہ کرنا دست ہے یا نہیں کیونکہ اکثر جگہ میں نے ایسا ہی پایا ہے کہ وقت سے پہلے اذان دے دیتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا صحیح ہے ؟
سوال: کیا بغیر وضو کے اذان دے سکتے ہیں۔ اگر دی جائے تو درست ہے یا نہیں؟
سوال:۔ ایک موذن کا دومسجدوں میں الگ الگ اذان پڑھنا کیسا ہے؟ برائے کرم ان تمام سوالات کا مفصل جواب دیا جائے کیونکہ اکثر لوگوں میں یہ تمام چیزیں پائی جاتی ہیں؟
نعیم احمد راتھر
اذان اور اقامت کے مسائل
سوالات کی ترتیب کے مطابق جوابات درج ہیں
جواب:  (۱) حضرت رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو اذان پڑھے وہی اقامت پڑھے۔ ترمذی۔ اس حدیث کی بنا پر مسئلہ یہ ہے  جس نے اذان پڑھی ہواقامت پڑھنے کا حق اُسی کا ہے اُس کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا اقامت پڑھے تو یہ مکروہ ہے مگر اقامت ادا ہو جاتی ہے اگر وہ موجودنہ ہو تو پھر کسی دوسرے شخص کا اقامت پڑھنا جائز ہے۔ اگر وہ کسی اور کو اقامت پڑھنے کی اجازت دے تو پھر اس میں نہ کوئی کراہت ہے اور نہ کسی کو اعتراض کرنے کا حق ہے۔
جواب:  (۲) جس مسجد میں انسان کو نماز پڑھنی ہو اُس کی مسجد کی اذان کا جواب دینا کافی ہے دوسری مساجد کی اذان کا جواب دینا لازم نہیں ہے۔
جواب:(۳) جو شخص اکیلے نماز پڑھے اُس کو اقامت پڑھنا لازم نہیں۔ اگر اقامت پڑھے تو بہتر ہے اگر بغیر اقامت کے نما زپڑھے تو بھی نماز دوست ہے۔
جواب:(۴) جو اذان وقت سے پہلے پڑھی جائے۔ اُس اذان کا اعادہ لازم ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ ایسے مؤذن کو تنبہیہ کی جائے جو وقت سے پہلے اذان پڑھتا ہو ۔ہر نماز کا جو وقت اوقات الصلوۃ کے مستند کلینڈر سے معلوم ہو اُس کے مطابق اذان پڑھی جائے۔ صبح صادق پر اذان فجر پڑھی جائے۔نہ اُس سے پہلے اور نہ اُس کے بعد ۔نمازظہر اور نماز جمعہ کی اذان زوال آفتاب کے بعد پڑھی جائے۔ اگر شروع ظہر سے پہلے ظہر یا جمعہ کی اذان پڑھی گئی تو وہ اذان ادا نہ ہوئی۔ اسی طرح مغرب کی اذان غروب آفتاب کے بعد ہو۔ اس سے پہلے اذان پڑھی تویہ اذان دوبارہ پڑھنا لازم ہے۔ اسی طرح نماز عشاء کی اذان وقت ِعشاء شروع ہونے کے بعد پڑھنا لازم ہے۔
جواب(۵) بغیر وضوع اذان پڑھنا حدیث کی روسے منع ہے۔ چنانچہ حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ باوضو شخص ہی اذان پڑھے اور ایک حدیث میں ہے نہ اذان پڑھے مگر باوضوشخص۔ ترمذی۔ اسلئے بغیر وضو ہر گز اذان نہ پڑھی جائے۔ایک مؤزن جب ایک مسجد میں اذان پڑھے تو اب اُس مسجد سے نماز پڑھے بغیر باہر نکلنا منع ہے۔ اب اگر وہ نما زپڑھ کر نکلے اور پھر دوسری مسجد میں اذان پڑھے تو وہ خود جو نماز پڑھ چکا ہے اُس کی طرف دوسروں کو دعوت دینے والا ہوگا۔ اس لئے ایک مؤزن ایک ہی مسجد میں اذان پڑھے۔ دراصل اسلام کا نظام عبادت و نظام مساجد یہ ہے کہ ہر مسجد کا امام اور موزن الگ الگ ہو۔
جب ایک ہی موزن کئی کئی مساجد میں اذان دینے لگیں تو اس کے معنیٰ یہ ہونگے کہ مسلمان موزن بننے کو تیار نہیں، اسی لئے ایک ہی شخص کو کئی کئی جگہ موزن بنایا جا رہا ہے۔ یہ طر زعمل تعامل امت کے بھی خلاف ہے۔ اور دین سے دوری، اعمال دینی کے انجام دینے سے تساہل و اعراض کا غما ز ہے۔ بہر حال ایک موزن ایک ہی مسجد میں اذان پڑھے۔
 
 سوال:۔ میں نے اپنی بیٹی کا نکاح کر کروایا تھا۔ رخصتی کے بعد کچھ عرسہ تعلقات ٹھیک رہے مگر پھر بدقسمتی سے میاںبیوی کے اختلافات بڑھ گئے نتیجتاً رشتہ ختم ہوگیا۔ اور میری بیٹی اپنے ساتھ ایک چھوٹی بیٹی کو لے کر میرے گھرواپس آگئی۔ اِدھر میرے گھر میںمیری دو بہو ئیںہیں جنہیں میری بیٹی بوجھ لگتی ہے اس لئے میں سخت ذہنی انتشار کا شکار ہوگیا ہوں۔ اس صورت حال میں مجھے کیا کرنا چاہئے۔ بیٹی کو گھر سے نکالوں، تو وہ کہاں جائے گی۔ اُدھر گھر میں امن و سکوںکے حالات برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے اس پوری صورتحال کا حل کیا ہے؟
غلام حسن خان
مائکے لوٹ آئی بیٹی کی کفالت کرنا بہترین صدقہ 
جواب:۔ حدیث کی اہم اور عظیم کتابوں میں سے ایک کتاب سنن ابن ماجہ ہے۔ اُس میںحدیث ہے حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تم کو صدقہ کا بہترین مصرف بتائوں؟ پھر ارشاد فرمایا وہ بیٹی صدقہ کا سب سے بہترین محل ہے جوواپس لوٹ کر تیرے پاس آگئی ہو۔ اور اُس کے لئے تیرے سوا کمانے والا کوئی نہ ہو۔ اُس پر اپنا مال خرچ کرنا بہترین صدقہ ہے۔ اس حدیث میں واپس لوٹ کر آنے کا مطلب یہ ہے کہ رشتہ نکاح کے بعد وہ بیٹی اس وجہ سے کہ یا تو اس کا شوہر فوت ہو جائے یا وہ اُسے طلاق دے یا کوئی وجہ ہو کہ وہ واپس میکے آگئی ہو۔
حضرت مولانا زکریاؒ نے اس حدیث کے ذیل میں واپس آنے والی بیٹی پر صدقہ کرنے اُس کی خبر گیری کرنے اور اس کو پناہ دینے پر متعدد اجرو ثواب کی تفصیل یوں بیان فرمائی۔ اس میں ایک تو صدقہ کا ثواب ہے۔ دوسرے اس میں مصیبت زدہ کی امداد کرنے کا ثواب ہے۔ تیسرے اس میں صلہ رحمی ہے۔ چوتھے اس میں اولاد کی خبر گیری ہے۔ پانچویں ایک غم زدہ کی دلدادی ہے۔ اس لئے کہ اولاد کو پالنا پوسنا ابتداء میں باعث فرحت و مسرت ہوتا ہے۔ لیکن اپنا گھر بسانے کے بعد پھر اگر وہ اُجڑ کر واپس والدین کے سر پڑ جائیں تو یہ باعث رنج و دکھ ہوتا ہے۔ حضر ت نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے جو شخص کسی مصیبت زدہ کی فریاد رسی کرے اُس کے لئے تہتر(73) درجے مغفرت کے لکھے جاتے ہیں۔ ایک درجہ دنیاوی امور کے صلاح وفلاح کے لئے اور بہتر درجے(72) آخرت میں ترقیات کا سبب ہونگے۔( فضائل صدقات)
لہٰذا زیر نظر سوال میں باپ پر لازم ہے کہ وہ یہ ذہن میں بٹھائے کہ واپس آنے والی بیٹی کے ساتھ بہت زیادہ شفقت و محبت کامعاملہ کرنا شریعت کا بھی حکم ہے۔ اور عقل و اخلاق کا بھی تقاضا ہے ۔ رہی یہ بات کہ گھر کی بہواس بیٹی کو بوجھ سمجھتی ہے تو نسوانی نقائص کا عمومی مشاہدہ جن باتوں میں ہوتا ہے اُن میں یہ بھی یہ عام مزاج ہے کہ عورت اپنی ساس سے یا ساس اپنی بہو سے اسی طرح بھابھی اپنی نند سے پوری طرح انسانیت نوازی کا سلوک نہیںکر پاتی۔ جس باپ یا بھائی کو یہ صورتحال درپیش ہو کہ اس کی بیٹی یا بہن واپس آگئی ہو وہ اپنے گھر کی عورتوں مثلاً بہو سے صاف صاف کہہ دے کہ اس واپس آنے والی بیٹی کی خبر گیری اور اُس کے تمام خرچے پورے کرنا ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ اس لئے اس پر گھر کا کوئی بھی فرد نہ زبان پر حرف شکایت لاے اور نہ دل میں تنگی محسوس کرے۔ اس کے ساتھ ہی اپنی واپس آنے والی بیٹی سے بھی یہ کہنا ضروری ہے کہ وہ گھر کے تمام معاملات میں ہر گز مداخلت نہ کرے۔ اوراپنا رویہ ایسارکھے کہ گھر کی خواتین اُس کو بوجھ نہ سمجھنے لگیں۔ وہ اپنا اخلاق ومزاج ایسا بنائے کہ گھر والے اُس پر رحم کھائیں ۔اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ واپس آنے والی بیٹی کے نکاح ثانی کی پوری کوشش کی جائے۔ اور اس کے ساتھ جو بچی ہے وہ باپ کے حوالے کر دی جائے۔ شریعت کا قانون یہی ہے۔ ہاں اگر باپ کے متعلق یہ خطرہ ہو کہ وہ اس بچی کے ساتھ حق تلفی کا معاملہ کرے گا تو پھر اس طرح کو بچی کو محبت وشفقت سے پالنا عظیم ترین اجر کا ذریعہ بھی ہے اور دنیا و آخرت کی بے شمار نعمتوں کا دروازہ کھولنے کا سبب بھی ہے۔
سوال:۔ ننگے سر نماز سے بچنے کیلئے مساجدوں میں جو ٹوپیاں ہوتی ہیں کیا انکو استعمال کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں؟
محمد مظفر بن حاجی خضر محمد میر 
ننگے سر نماز پڑھنا
جواب: ننگے سر نما زپڑھنا مکروہ تحریمی ہے ۔ حضرت نبی کریم ﷺ نے کبھی بھی کوئی نماز ننگے سر نہیں پڑھائی۔ نہ حضرات صحابہ نے کبھی کوئی نماز ننگے سر پڑھی ہے۔ ننگے سر نما زپڑھانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص پاجامہ پہن لے مگر اوپر کا سارا جسم ننگا ہو۔اب اس ناپسندیدہ طر زعمل سے بچنے کیلئے مسجدوں میں ٹوپیاں رکھی جاتی ہیں۔جب تک یہ ٹوپیاں عمدہ صاف اور قابل استعمال ہوں تو ان کو استعمال کرنا درست ہے لیکن جوں ہی یہ پُرانی ہو جائیں ۔ میلی کچیلی ہو جائیں تو ان ٹوپیوں کو سر پر رکھ کر نماز پڑھنا مکروہ اور سخت ناپسندیدہ ہے۔ اس لئے جو ٹوپی سر پر رکھ کر انسان کسی تقریب میں نہ جاسکے، کسی شادی میں شرکت کرنا معیوب سمجھے ، ایسی ٹوپی پہن کر اللہ کے سامنے کھڑا ہونے کے لئے طبیعت میں کوئی افسوس اور تکدر نہ ہو یہ عجیب ہے ۔ بہر حال ایسی میلی کچیلی ، پھٹی پرانی ٹوپیاں سر پر رکھ کر نماز پڑھنا بھی مکروہ ہی ہوگا۔ گویا یہ ایک کراہت سے بچنا اور دوسری کراہت کا ارتکاب کرنا ہے اس کا ایک ہی حل ہے کہ عمدہ اور صاف ستھری ٹوپی اپنے پاس موجود رکھی جائے۔ یا عمامہ جو سنت ہے استعمال کیا جائے۔ 
سوال:۱-چست لباس پہننے کا رجحان عام ہورہاہے ، خاص کر زین پینٹ،جس میں بیٹھ کر پیشاب پھیرنا مشکل ہوتاہے تو لوگ کھڑے ہو کر پیشاب پھیرتے ہیں ۔ اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟
فاروق احمد خان
چست لباس کے بارے میں شرعی حکم 
جواب:۱-ایسا تنگ لباس جس میں جسم کا حجم خاص کر ران اور سرین کا پورا نشیب وفراز ظاہر ہو یہ لباس غیر شرعی ہے۔اس غیر شرعی لباس کا ایک خطرناک نقصان یہ ہے کہ جب پیشاب کرنا ہو تو چونکہ سخت چست ہونے کی وجہ سے بیٹھنا مشکل ہوتاہے اس لئے کھڑے ہوکر ہی پیشاب پھیرنا پڑتاہے ۔ اب دیکھئے حدیث میں کیا ہے ۔
بخاری شریف میں حدیث ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوقبروں کے پاس سے گزرے۔ پھر آپ نے ان دونوں قبروالوں کے متعلق فرمایا ان کوعذاب ہورہاہے۔ایک کو اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا ۔
کھڑے ہوکر پیشاب کرنے پر لازماً کپڑوں اور پائوں پر چھینٹیں آتی ہیں اور اس طرح وہ عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے۔
دوسری حدیث جو ترمذی میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے روایت کی کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جناب رسول اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر پیشاب کرتے تھے تو ہرگز یہ بات مت ماننا۔
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے ۔ 
حضرت علامہ انورشاہ نے فرمایا کھڑے ہو کرپیشاب کرنا کفار کا شعارہے ۔ اس لئے مسلمانوں کے لئے  ہرگز یہ جائز نہیں کہ وہ دوسری قوموں کا شعار اختیار کرکے کھڑے ہوکرپیشاب کریں۔
 
 
 مفتی نذیر احمد قاسمی
صدر مفتی دارالافتاء