کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ محکمہ موسمیات کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ برف گرے گی اور پھر واقعی برف باری ہوجاتی ہے۔ خبر آتی ہے کہ موسم صاف رہے گا اور واقعتا موسم خوشگوار رہتا ہے۔ موسمیات کے متعلق اس خبر رسانی کا اثر اب اتنا ہوگیا ہے کہ لوگ اپنے پروگرام اس کے مطابق بناتے ہیں۔ اگر پیشنگوئی اس طرح ہو کر موسم خراب ہوگا، برفباری ہوگی، بارشیں ہونگی تو بعض لوگ اپنا بنایا ہوا پروگرام ملتوی کر دیتے ہیں اور اگر آئندہ کوئی پروگرام رکھنا ہو تو پہلے انٹرنیٹ پر دیکھتے ہیں۔ اس صورتحال کو بعض لوگ شرک اور توہم پرستی قرار دیتے ہیں اور بعض لوگ اس پر اتنا اعتماد کرتے ہیں جیسے کوئی خدا ئی حکم کی طرح قطعی بات ہو۔ اس لئے اس بارے میں تفصیلی جواب کی ضرورت ہے۔
وسیم احمد 
موسمیات کے متعلق پیشن گوئیوں پر یقین اور عمل کرنے میں کوئی شرعی قباحت نہیں
جواب:۔ محکمہ موسمیات کی پیشنگوئی کو مان لینا شرک بھی نہیں اور اُس پر اس طرح یقین کرنا، جیسے کہ کسی قطعی بات پر جو اللہ رسول کی پیشنگوئی ہو اور جس پر یقین کرنا لازمی ہے ، درست نہیں۔ اس سلسلے میں افراط و تفریط دونوں غلط ہیں۔اعتدال کی راہ یہ ہے کہ پیشنگوئی پورا ہونا یقینی بھی نہیں اور اس لئے اس پر پختہ یقین کرنا بھی درست نہیں۔ اور اس کو شرک سمجھنا بھی صحیح نہیں ہے۔
دراصل اس کائنات میں اللہ نے ایک سلسلہ اسباب قائم فرمایا ہے۔ بھوک کو مٹانے کے لئے غذا، پیاس بجھانے کیلئے پانی، جسم کو راحت پہونچانے کیلئے نیند، بیماری کودور کرنے کیلئے دوا ئی اسی سلسلہ اسباب کی مثالیں ہیں۔ ٹھیک اسی طرح بچہ پیدا ہونے کیلئے مرد و عورت مخصوص ملاپ اور پھر ان کے جسم سے نکلنے والے مخصوص مادے کا اختلاط، زمین سے نباتات ، اناج، پھل سبزیاں اگانے کے لئے مخصوص طریقہ کار یہ سب بھی اسباب او روسائل کا ایک اظہارہے اس طرح بارش اُتارنے کیلئے اللہ نے ایک سلسلہ اسباب قائم فرمایا ہے۔ عام انسان اُن اسباب میں سے صرف بادل کو آنکھ سے دیکھ پاتا ہے ۔ لیکن بادل بننے سے پہلے فضائی احوال، مخصوص درجہ حرارت ، سمندروں سے ابھرنے والے پانی کے بخارات وغیرہ جو سائنسی تحقیقات و تجربات سے معلوم ہوتے ہیں وہ عام انسان کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ماہرین کوئی غیب دان نہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ اُن اسباب پر نظر رکھتے ہیں اور اُنہی کو دیکھ کر پیشن گوئی کرتے ہیں۔جیسے کینسر کا ماہر ڈاکٹر کسی مریض کو یہ کہے کہ تم چندہ ماہ کے مہمان اور کسی کو کہے بیماری ختم ہونے کے امکانات ہیں۔ ظاہر ہے یہ ایک علم و تجربہ کی بنا پر کہی ہوئی بات ہے۔ جو صحیح بھی ہوسکتی ہے غلط بھی ۔ اسلئے خود کوئی ڈاکٹر بھی اسے سو فیصد یقینی نہیں کہہ سکتا۔ بس ایسے ہی ان پیشنگوئیوں کا معاملہ ہے کہ یہ چونکہ ایک خاص علم و تجربہ اور سلسلہ اسباب کی گہری معلومات کی بنا پر ہوتی ہیں اس لئے عموماً صحیح ہو جاتی ہیں۔ مگر بار ہا ان کا غلط ہونے کا خوب مشاہدہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ خود محکمہ موسمیات کی طرف سے جب پیشنگوئی ہوتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ بارش کا امکان ، یا برف کا امکان یا موسم خشک رہنے کا امکان ہے گویا وہ خود اس پیشنگوئی کے حتمی اور یقینی ہونے کا دعویٰ نہ کرتے ہیں نہ کرسکتے ہیں۔
بچہ پیدا ہونے کے بعد اگر کوئی یہ کہے کہ اس بچے کے دانت نکل آئیں گے یا کسی صحت مند جوان کے متعلق کہا جائے کہ اس پر بڑھاپے کی ساری کمزوریاںمسلط ہونگی۔ تو ظاہر ہے یہ نہ کوئی غیب دانی کا دعویٰ ہے اورنہ کوئی پیشنگوئی ہے۔ جس کو ماننا شر ک ہو۔ اور نہ اس کیلئے احتیاطی تدابیر اختیارکرنا کوئی غیر شرعی بات ہے۔
اگر محکمہ موسمیات یہ کہے کہ فلاں دن برف یا بارش ہوگی اور اس کی بنا پر کوئی شخص اپنا کوئی پروگرام ترتیب دے یا تبدیل کرے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ۔ مگر یہ یقین رکھنا ضروری ہے کہ اس پیشنگوئی کے پورا ہونے کا صرف امکان ہے یہ حتمی نہیں ہے۔ انسان کا علم ظنی ہے۔ حتمی و قطعی علم صرف اللہ اور اس کے نبی اکرم ﷺ کا ہے…… عام انسانی پیشنگوئیوں کے صحیح اور غلط دونوں کی بڑی طویل تاریخ ہے۔ اس لئے یہ پیشنگوئی کوئی عجوبہ بھی نہیں۔ غیب دانی بھی نہیں اور اس کی وجہ سے کوئی شخص ، مافوق الفطرت بھی نہیں ہوسکتا ۔ دراصل موسمیات سے متعلق سائنس(Weather Scince) جو ان پیشنگوئیوں کی بنیاد ہے ،جو بھی پڑھے گا وہ اس طرح کی پیشنگوئی کرسکتا ہے ہاں فرق  اس سائنس میں کم یا زیادہ مہارت کا ہوسکتا ہے۔ گائے بیل کے درمیان مخصوص ملاپ دیکھ کر کوئی پیشنگوئی کرے کہ نوماہ کے بعد گائے کے پیٹ سے ایک بچہ باہر آئے گا اور اس کے خشک تھنوں سے دودھ کی نہر جاری ہوگی۔تو یہ عجوبہ نہیں، اسلئے کہ یہ سب کا مشاہدہ ہے ۔ بس اس طرح موسمیاتی سائنس جو بھی پڑھے گا اس کیلئے یہ پیشنگوئی کرنا اسی طرح کی خبریں دینا ہونگی۔
………٭٭…………
سوال:۔ بیٹی کا حصہ وراثت دین اسلام کے مطابق کیا ہے۔ کیا ایک باپ کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا حصہ وراثت کم کر دے ۔ یا بیٹی کو وراثت سے محروم کردے۔ ہماری نظروں میں ایک باپ اپنی بیٹی کو یا تو حصہ وراثت سے بہت کم دینا چاہتا ہے اور یا پھر محروم کرنے کا ادارہ رکھتا ہے۔ اب ہم اس بارے میں شرعی رہنمائی چاہتے ہیں۔
فقط
ایک خاتون از لالچوک سرینگر
بیٹی کو میراث سے محروم کرنا حدِ اختیار سے باہر
جواب:۔ اسلام نے بیٹے کو جس طرح اپنے والدین کا مالی وارث قرا ر دیا ہے۔ اسی طرح بیٹی کو بھی وارث مقرر کیا ہے۔ اس لئے جیسے بیٹا کسی بھی صورت میں باپ کی میراث سے محروم نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح بیٹی بھی محروم نہیں ہوسکتی ۔ دونوں وارث ہیں اور دنوں کا حصہ مقرر ہے۔ قرآن کریم نے جتنے اہتمام سے بیٹیوں کے حصۂ وراثت کو بیان کیا ہے اتنا اہتمام لڑکے کے متعلق نہیں کیا ہے۔ اور اس کی ایک وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ بیٹیوں کو محروم کرنے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں، بلکہ بکثرت اُن کو محروم کیا جاتا ہے۔… قرآن کے بیان کے مطابق اگر کسی باپ کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہو تو اُس شخص کی وراثت کے تین حصے ہونگے ان میں سے دو حصے بیٹے اور ایک حصہ بیٹی کو دیا جائے گا۔ دراصل قرآن کریم نے بیٹی کا حصہ وراثت میںبیٹے سے نصف مقرر کیا ہے ، یعنی جتنا دو بیٹیوں کا حصہ ہوگا اتنا ایک بیٹے کا حق ہے۔ اب کسی باپ نے اس مقررہ حصے میں کمی یا زیادتی کرنے کی وصیت کی تو وہ وصیت رد ہو جائے گی۔
مثلاً کسی کے باپ یہ وصیت کی کہ میرا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے میری تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد میں سے نصف بیٹے کو اور نصف میری بیٹی کو دیا جائے تویہ وصیت قرآن کے خلاف ہے۔ اسلئے کہ قرآن کریم کی رو سے بیٹی 2/3لینے کا حق ہے نہ کہ نصف کا۔
اسی طرح اگر کسی باپ نے یہ وصیت کی کہ میرا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے اس لئے کل جائیداد میں 75فیصد(3/4) میرے بیٹے کواور پچیس فیصد(1/4)میری بیٹی کو دیا جائے۔ تو یہ وصیت بھی مسترد ہو جائے گی ۔اسلئے کہ یہ بھی قرآن کیخلاف ہے اوراس میں بیٹی کی حق تلفی ہے ۔بہر حال اسلام نے بیٹے اور بیٹی کو حصہ وارث میں سے جو حصہ مقرر کیا ہے، اس میں رد و بدل کرنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے ۔اگر کوئی والدین اس طرح کی وصیت کریں تووہ شرعاً و قانوناً دونوں کے اعتبار سے باطل اور مسترد ہیں ۔ حضرت نبی علیہ السلام نے فرمایا اللہ نے ہر وارث کا حق مقرر کر دیا ہے ۔لہٰذا کسی وارث کیلئے کوئی وصیت نہیں۔
………٭٭…………
سوال:۔ فیملی پلانگ کے لئے نس بندی بھی کرائی جاتی ہے اور مختلف قسم کی ادویات بھی استعمال کی جاتی ہے۔ نسبندی سے بچہ کی پیدائش کا سلسلہ مکمل طور منقطع ہو جاتاہے اور دوائی کھانے سے وقتی طور پر حمل ٹھہرنا رُک جاتا ہے۔ کچھ، لوگ جو نسبندی اور ادویات کا استعمال نہیں کرتے، عزل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے۔ اب ان تمام صورتوں کے بارے میں شریعت کا حکم بیان فرمائے۔؟
ظہور احمد ملک
بچہ روکنے کی رخصت… چند صورتیں
جواب:۔ فیملی پلاننگ کا سارا تصور اسلام کے کلی متضاد ہے۔ اسلام تکثیر اولاد کا قائل ہی نہیں بلکہ اس کا داعی بھی ہے۔ چنانچہ حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایسی عورتوں سے نکاح کرو جو زیادہ اولاد پیدا کرسکیں۔ میں اپنی امت کی کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔ اس طرح کی اور بھی احادیث ہیں۔
گویا یہ طے ہے کہ اسلام تقلیل آبادی نہیں بلکہ تکثیرِ قوم ِمسلم کا علمبردار ہے اسلئے فیملی پلانگ کا سارا نظریہ تمام تر اسلام کے بالکل منافی ہے۔ لہٰذا نس بندی کرکے بچہ بند کرنا ہر گز جائز نہیں۔ بلکہ جب کچھ صحابہ نے عزل کرنا چاہا تو حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ خفیہ طور پر اپنے بچوں کو زندہ درگور کرنا ہے۔( ذالک الواد لخفی) لہٰذا اصولی طور پر آبادی کم کرنا اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔
اس اصول کے ساتھ یہ بھی طے ہے کہ اسلام ہر واقعی ضرورت کی مکمل رعایت کرتا ہے۔ چنانچہ اگر بچے کم کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ کسی اور حقیقی اور قابل اعتبار مجبوری کی بنا پر یہ کرنا پڑے تو اسلامی رعایت کے مطابق وقتی طور پر بچہ روکنے کی اجازت ہے۔ اور وہ واقعی ضرورت اور مجبوری مثلاً یہ ہے کہ عورت کو پہلے ہی دو تین مرتبہ جراحی(Scissor) آچکا ہے اور اب وہ مزید آپریشن برداشت نہیں کرسکتی۔ یا مثلاً اس کی بچہ دانی میںخرابی  پیدا ہوگئی ہے اسلئے وہ مزید حمل کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ یا مثلاً وہ امراض قلب میں مبتلا ہوگئی ہے اس لئے معالج کی تجویز یہ ہے کہ وہ مزید حمل کے قابل نہیں۔ اس طرح کی مجبوری کی حالتوں میں بچہ روکنے کی رخصت ہے۔ اور یہ ایسے ہی ہے کہ نماز میں قیام فرض ہے مگر جو شخص قیام پر قادر نہ ہو وہ بیٹھ کر یا کرسی پر نماز پڑھ سکتا ہے۔ غرض کہ جو میاں بیوی بلا ضرورت کے بچہ بندکریں یا محض کم اولاد کے فیشن کی وجہ سے مزید بچے پیدا کرنے کترا رہے ہوں تو اس طرح کی صورت میں فیملی پلاننگ شرعاً حرام ہے ۔ عزل کے معنی یہ ہیں کہ جماع میں نطفہ باہر گرایا جائے۔ اگر یہ عمل بلا ضرورت کے کیا جائے تو یہ غیر شرعی ہے اور اگر ضرورت کی وجہ سے کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔ ضرورت کن کن صورت میں ہے یہ اوپر نقل کر دیا گیا۔
٭٭٭٭٭