کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: ٹریفک پریشانی ہماری عوامی زندگی کی بہت بڑی پریشانی ہے۔ اس کا ایک بڑا سبب ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔ بہت سارے لوگ صرف اپنی خود غرضی کیلئے( Over Taking) کرتے ہیں اور اپنے اصل( Side) کوچھوڑ کر مخالف سمت سے آنے والے راستے پر آگے نکلنے کی کوشش کرتے ۔ عموماً اس سے ٹریفک جام ہو جاتا ہے مگر خود غرضی کی وجہ سے لوگ اس کی پروا نہیں کرتے اور اپنے لئے بھی دوسروں کیلئے بھی پریشانیاں کھڑی کرتے ہیں کیا یہ حقوق العباد کی حق تلفی میں نہیںآتا ہے؟
فیضان
باغ مہتاب سرینگر
ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی حقوق العباد کا اتلاف 
جواب: ٹریفک قوانین کی پابندی ہر مسلمان شہری کالازمی فریضہ ہے اسلئے کہ اسلام کے احکام کے مطا بق سڑکوں کا ایسا استعمال جس سے دوسرے کو اذیت ہو سراسر گناہ ہے اور بلا شبہ یہ حقوق العباد کی خلاف ورزی ہے لہٰذ ا سڑک کی وہ سائیڈ جو آنے والی گاڑیوں کے لئے ہو، اُس پر جانے والے کا گاڑی دوڑانا حق تلفی ہے سڑک میں جس جگہ گاڑیاں رک گئی ہوں وہاں اپنی جلدی کے لئے مخالف سمت سے آنے والی سائیڈ پر گاڑی چلانا آنے والے ٹریفک کیلئے رکاوٹ بڑ ی وجہ موجود سڑکوں کا غلط استعمال ہے۔ اگر سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی نہ کی جائیں ۔ اگر فٹ پاتھ پر دکان دار اپنا سامان نہ رکھیں ۔ اگر سڑکوں پر ریڑھی والے اپنے ٹھیلے نہ لگائیں ۔ اگر ہر گاڑی چلانے والا صرف اپنی سائیڈ پر چلنے کی پابندی کر ے۔ اگر لوگ گاڑیاں سڑک پر روک کر خریداری کرنے سے پرہیز کریں تو ٹریفک جام کا پریشان کن مسئلہ بہت حد تک ضرور حل ہوگا۔ورنہ اس پریشانی کا شکار سڑک کی ہر گاڑی ہوگی ۔شرعی طور اُس مسلمان پر، جو سڑک پر گاڑی لے کرچلے ،لازم ہے کہ وہ حقوق العباد کے دینی حکم پر عملی پیرا ہو اور اس کے لئے ٹریفک قوانین کی پابندی ضروری ہے ،ورنہ سڑک کا غلط  استعمال لازماً شرعی طور پر گناہ ہے۔
سوال:۔ میقات صلواۃ پر جو نماز کے اوقات درج ہے کیا ان وقتوں سے پہلے اُس وقت کی نماز پڑھی جاسکتی ہے خاص طور پر نماز عشاء مثلاً آج تاریخ29جون میں نماز عشاء کا وقت 9:31منٹ پر درج ہے کیا اس سے پہلے اذان دی جاسکتی ہے اورنماز کیلئے جماعت قائم کی جاسکتی ہے ، برائے مہربانی قرآن اور حدیث کی روشنی میں تفصیلاً جواب دیا جائے۔
خیر اندیش
غلام محمد ڈار سانبورہ
نماز عشاء……..شفقِ احمر اور شفقِ ابیض
جواب:۔ نماز عشاء کا وقت غروب شفق سے شروع ہو جاتا ہے شفق کے ایک معنی مغرب کی سمت میں پائی جانے والی سرخی ہے اور دوسرے معنیٰ سرخی کے بعد پائی جانے والی ہلکی سفید روشنی ہے، اسے شفق ابیض کہتے ہیں۔ میقات صلواۃ میں شروع عشاء شفق ابیض سے رکھا گیا ہے اب اگر کسی جگہ اُس سے پہلے نماز پڑھنے کی واقعی مجبوری ہے تو اس میں صرف اتنی گنجائش ہے کہ میقات صلواۃ میں درج عشا ء کے وقت سے دس بارہ منٹ پہلے اذان عشاء پڑھی جائے پھر جماعت کھڑی کی جائے۔
اگر میقات میں درج وقت سے دس بارہ منٹ کے بجائے ا س سے زیادہ جلدی اذان پڑھی گئی تو وہ اذان ادانہ ہوگی اور اگراذان و جماعت دونوں دس بارہ منٹ سے بھی پہلے پڑھی گئی تو نہ نماز ادا ہوگی تو ہی اذان ادا ہوگی ۔خلاصہ یہ کہ شفق ابیض کے بجائے شفق احمر سے آغاز عشاء ماننے کی گنجائش ہے ا س سے پہلے ہی فقہ حنفی کی فتویٰ کی مشہور کتاب شامی میںاس گنجائش کا بیان موجود ہے۔ لیکن جتنی گنجائش ہے اس میں مزید اضافہ کرنا اپنی نماز وقت سے پہلے پڑھنا ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص غروب آفتاب سے پہلے مغرب کی نماز پڑھے اور اس کا غلط ہونا بالکل واضح اور سب کو تسلیم ہے۔
سوال: ۔ بعض حضرات کہتے ہیںکہ مدرسہ کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ ایک امام صاحب کے ایسا کہنے پر بہت سارے لوگ انتشار میں پڑھ گئے آج تک ہم مدرسوں کو بھی زکوٰۃ دیتے آئے ہیں ۔اب پورا علاقہ جواب کا منتظر ہے؟
عمر ۔۔عید گاہ سرینگر
مدارس اور زکواۃ کا مصرف!
جواب : وہ اسلامی مدارس جن میں طلباء کے قیام و طعام اور تعلیم کا مکمل انتظام ہوتا ہے، اُن مدارس میں زکوٰۃ ، صدقات اور عطیات امدادی رقوم دینا نہ صرف درست ہے بلکہ دین کی اشاعت کے عظیم کام میں شرکت اور تعاون ہے۔ اس لئے ان مدارس سے علماء، حفاظ قرآن، ائمہ و خطباء پیدا ہوتے ہیں اور وہ پھر امت کی دینی ضروریات پورا کرنا اپنا مقصد حیات بناتے ہیں ۔چنانچہ یہاں کشمیر ہی نہیںپورے برصغیر کے ہزاروں مدار س ،جن سے لاکھوں علماء پیدا ہوئےاور آج بھی پیدا ہو رہے ہیں ،انہی مدارس کا ثمرہ ہیں۔ان مدارس کے مختلف خرچے ہوتے ہیں ان کے اہم خرچے مدرسین کی تنخواہیں ، عمارتوں کی تعمیر، مساجد، درسگاہیںہوسٹل ،دفاتر اور سٹیشنری وغیرہ یقیناً اُ ن مصارف میں زکوٰۃ خرچ کرنا درست نہیں ہے، جو مستند اہل علم اور حدود شریعت کی پابندی کرنے والے علماء و منتظمین ہیں وہ ان مدات میں زکوٰۃ ہر گز خرچ نہیں کرتے۔ ہاں مدرسہ میں طلباء کے طعام لباس ، ادویات  اور دوسری نجی ضروریات ہوتی ہیں ،ان پر زکوٰۃ خرچ کرنا درست ہے اور جب زکوٰۃ ا ن غریب طلباء پر خر چ کی جاتی ہے تو زکوٰۃ ادا بھی ہوجاتی ہے تو بلا شعبہ ایسے غریب شخص پر یہ زکوٰۃ صرف ہوئی جو آئند اُمت کی اہم ترین ضرورت پورا کرنے والا بنے گا ۔وہ مکاتب جن میں صبح و شام بچوں کو نماز ، قران کریم اور دوسری بنیادی اسلامی چیزیں سکھائی جاتی ہے اُن میں صرف دو خرچے ہوتے ہیں ایک مدرس کی تنخواہ او ردوسرے درسگاہ کی تعمیر اُن دونوں پر زکوٰۃ خرچ کرنا درست نہیں۔ لہٰذا مطلق طور پر یہ کہنا کہ مدرسوں میںزکوٰۃ کاخرچ کرنا درست نہیں غلط بھی ہے اور مدرسوں کی ضرورت اور اُن کے طریق کار اورمسائل زکوٰۃ سے ناواقفیت ہے۔
سوال:۔ حضور اکریم ﷺ کا نام مبارک سن کر صلی اللہ علیہ وسلم کہنا لازمی ہے اگر نمازکی حالت میں نام مبارک سنے تو کیا کرنا چاہئے ؟
نماز میں نبی پاک ؐ کا نامِ مبارک
جواب:۔ ذات رسالت مآب کا نام مبارک سن کر اہل ایمان کیلئے درود پڑھنے کا حکم ہے مگر چند حالتیں اُس حکم سے مستثنیٰ ہیں ا ن میں ایک حالت نماز بھی ہے کہ اگر کسی نے نماز پڑھنے کے دوران نام مبارک سنا تو اُس کو درود شریف پڑھنے کا حکم نہیں ہے۔
سوال:۔ کوئی شخص با جماعت نماز میں پہلے صف میں ہوتاہے تو اب دوسرا شخص اس با جماعت نماز میں شامل ہونے کیلئے کسی آدمی کو پیچھے سے کھینچتا ہے اور اپنے ساتھ دوسری صف میں ملاتا ہے۔ کیا اس سے نماز میں خلل نہیں ہوتا۔ یہ کہاں تک صحیح ہے اور کیا یہ ضروری ہے برائے مہربانی سنتوں کے حوالے سے رہبری کریں؟
منظور احمد بمنہ سرینگر
اگلی صف سے نمازی کو کھینچنا
جواب :۔ اگلی صف سے کسی نمازی کو پیچھے کھنچنا درست ہے مگر اس کیلئے تین شرطیں ہیں ۔اگلی صف میں مسئلہ جاننے والا شخص موجود ہو، دوسرے یہ کہ کسی اور نماز ی کے آنے کا گمان نہ ہو ، تیسرے جماعت سجدہ یا قعود میں نہ ہو۔ جب یہ تینوں شرطیں پائیں جائیں تو آخری صف میں کھڑے ہونے والے نما ز ی کیلئے جائز ہے کہ وہ اگلی صف سے کسی نمازی کو پیچھے کھینچ لے ورنہ اکیلے نماز ادا کرے اُس کی نماز درست ہوگی۔
سوال:۔ شب قدر میں امام صاحب نے دعا کے اوقات میں بجلی (Light)بند کرائی کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟
مراسلہ نگار :۔ مشتاق احمد جانبازسرینگر
دوران شب وقت ِ دُعا بجلی بند کرنا
جواب:۔ دعا کے وقت بجلی بند کرکے اندھیرا کرنا نہ تو ضروری ہے نہ ہی یہ ممنوع ہے ۔ البتہ عموماًاندھیرے میں دعا میں خشوع و خضو ع کی کیفیت میں اضافہ ہوتا ہے اور زیادہ دھیان کے ساتھ دعا مانگی جاتی ہے ۔اسلئے اس غرض کیلئے بجلی بند کر دی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں البتہ اس کو لازم سمجھنا بھی درست نہ ہوگا اور نہ اس کا ایسا احترام کرنا صحیح ہوگا جیسے کسی شرعی حکم پر احتراماً عمل کیا جاتا ہے ۔اسی طرح اندھیرا کرنے کو غلط یا بدعت سمجھنا بھی غلط ہے ۔
سوال:۱-نماز کے لئے صف درست کرتے وقت بزرگ یا بالغ لڑکے پہلے صف میں موجود نہ ہوںتو کیا چھوٹے بچوں کو پہلی صف میں کھڑا کرسکتے ہیں ۔
شبیر احمد  
نماز کی صف میں نابالغوں کو کہاں رکھا جائے 
جواب: جماعت کی نماز میں صف قائم کرنے کا اصول یہ ہے کہ بالغ مرد پہلی صف میں ہوں اور اس میں کوئی نابالغ نہ ہو ۔ نابالغ بچوں کی صف پیچھے کھڑی کی جائے اور اگر پہلی صف میں گنجائش بھی ہوتو بھی بچوں کی صف الگ قائم کی جائے ۔ ہاں اگر ایک ہی بچہ ہو تو اُس کو بالغ مردوں کی صف میں کھڑا کرسکتے ہیں لیکن کنارے پر کھڑا کیا جائے ۔ اگر کسی نماز میں صرف نابالغ بچے ہوں پھر امام اُن کو ایک ہی صف میں کھڑا کرکے نماز پڑھائے۔
سوال:۱-ذبح کرنے کا اسلامی طریقہ کار کیاہے؟ نیز یہ کہ اگر ذبح کرتے وقت جانور کا حلقوم پیچھے ہوجائے تو اس کے حلت میں کوئی کمی توواقع نہیں ہوگی یا حلقوم چاہے آگے ہوجائے یا پیچھے کوئی فرق نہیں ؟
محمدفاروق 
ذبح کرنے کا شرعی طریقہ
جواب:۱- ذبح کرنے کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ جانور کو روبقبلہ لٹا کر تیز چھری لے کر بسم اللہ اکبرپڑھ کر حلق پر چھری چلائیں۔ چار رگیں کٹ جائیں اور گردن جسم سے جدا نہ ہونے پائے ۔ 
بس سار اخون نکل جانے کے بعد جانور حلال ہوجائے گا۔
جانور کا حلقوم اوپر ہوجائے یا نیچے ہو جائے اس سے کوئی فرق نہ پڑے گا ۔ اگر چھری تیزی سے چلا دی گئی جس سے گردن بالکل جدا ہوگئی تو بھی جانور حلال ہی ہے۔ مگر عملاً ایسا کرنا مکروہ ہے ۔ چار رگیں یہ ہیں : کھانے کی نالی ،سانس کی نالی اور دو خون کی رگیں،جو حلق کے دائیں بائیں ہوتی ہیں ۔ 
 
 صدر مفتی دارالافتاء 
دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ