کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: آج کل شہر و دیہات میں شادیوں کا سیزن جاری ہے۔ ہماری شادی بیاہ کی تقاریب میں جہاں درجنوں بلکہ سینکڑوں خرافات سے کام لیا جاتا ہے وہاں ایک انتہائی سنگین بدعت پٹاخوں کا استعمال ہے۔ شام کو جب دولہا برات لے کر اپنے گھر سے روانہ ہو جاتا ہے تو وہاں پر اور پھر سسرال پہنچ کر پٹاخوں کی ایسی شدید بارش کی جاتی ہے کہ سارا محلہ ہی نہیں بلکہ پورا علاقہ لرز اُٹھتاہے اور اکثر لوگ اسے فائرنگ اور دھماکے سمجھ کر سہم جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں، بزرگوں اور عام لوگوں کو پٹاخے سر کرنے سے جو انتہائی شدید کوفت اور پریشانی لاحق ہوجاتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔شرعی طور براہ کرم اس معاملے پر روشنی ڈالیں۔
خورشید احمد راتھر

شادی بیاہ پرپٹاخوں کا استعمال غیرشرعی

جواب:شادیوں میں پٹاخے  سر کرنا اُن غیر شرعی اور حرام کاموں میں سے ایک سنگین و مجرمانہ کام ہے جو طرح طرح کی خرابیوں کا مجموعہ ہے اورشادیوں میں شوق اور فخر سے کئے جاتے ہیں ۔یہ غیر مسلم اقوام کی رسوم کی نقالی ہے  اور وہی مشابہت ہے جس مشابہت سے مسلمانوں کو اجتناب کرنے کا حکم ہے۔ حدیث میں ارشاد ہے جو مسلمان کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے(ابو دائود) اس پٹاخے اُڑانے کے عمل میں مال کو ضائع کرنا بھی شامل ہے جبکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو قیل و قال کثرت سوال اور اضاعت مال سے منع کرتا ہے۔(بخاری و مسلم)
پٹاخے سو سو روپے تک کی قیمت کے بھی بلکہ اس سے زیادہ کے بھی ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کو آگ لگا کر دھماکے کی آواز اور چنگاریاں برساتی ہوئی روشنی نکل کر چند لمحوں میں ختم ہوتی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ تو یہ سراسر غیر شرعی جگہ اپنا پیسہ اڑانا ہے اس لئے بھی یہ حرام ہے پھر جب ان پٹاخوںسے ایسا دھماکہ ہوتا ہے جیسے کہیں فائرنگ ہورہی ہو۔اس سے چھوٹے بڑے سب سہم جاتے ہیں اور جن کو یہ معلوم نہ ہو کہ کہیں آس پاس میں شادی ہورہی ہے وہ سب فکر وتشویش اور پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیںاور کسی کو فکر و پریشانی میں ڈالنا بھی حرام ہے۔اس کی وجہ سے کسی کا سکون غارت ہو جائے، کسی کے آرام میں خلل پڑ جائے،کسی کو ذہنی تکلیف ہو جائے تو اس لئے بھی یہ غیر شرعی اور غیراخلاقی ہے۔
یہ صوتی آلودگی (Noise Pollution)کے اسباب میں بھی داخل ہے اس لئے کسی مہذب معاشرے کے خلاف بھی ۔لہٰذا غیر انسانی طرز عمل ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ بری بات کی اونچی آواز کوناپسند کرتا ہے۔یہ عقل اور حقیقت پسندی کے بھی خلاف ہے۔ آخر اس میں کیا معقولیت ہے کہ دولہے کے رخصت ہونے پر دھماکے کئے جائیں اور آتش بازیاں اور وہ بھی اس طرح کہ پورا علاقہ لرز جائے تو اس کا نفع کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ کچھ نہیں اس لئے جو کام دین، اخلاق، عقل اور عام تہذیب انسانی کے خلاف ہے وہ کیسے درست ہوسکتا ہے لہٰذا پٹاخوں اور بنگولوں کا یہ سلسلہ بند کرنا شریعت کا حکم ہے۔
سوال:۱-یہاں کشمیر میں ورتائو(گلہ میوٹھ) یا دست بوس کے نام سے جورسم جاری ہے جس میں مختلف اقسام کی اشیاء ،جن میں کچھ بہت قیمتی اور کبھی کچھ کھانے پینے کی چیزیں ہوتی ہیں ۔ اس ورتائو کے متعلق مفصل بحث اور تفصیلی حکم تحریر کرنے کی گذارش ہے۔اس میں یہاں کے علماء ،وکلاء اور محلہ کمیٹیوں کے ذمہ داران بھی کنفیوژن میں رہتے ہیں اور جب اس سلسلے میں فیصلہ کرنے بیٹھتے ہیں تو طرح طرح کے اختلافات سامنے آتے ہیں اور پھر یہ متعین نہیں ہوپاتا کہ اصل شرعی حکم کیا ہے ۔ اس لئے تفصیل کے ساتھ ’’کشمیرعظمیٰ‘‘ کے اس مقبول ومفید کالم میں جواب شائع فرمائیں۔
ریاض احمد بٹ قاسمی
 

ــــورتائو : ہدیہ، تحفہ یا امانت ؟

جواب:۲- داراصل ورتائو یا گلہ میوٹھ ایک ایسی رسم ہے جس کو شریعت کے کسی دائرے میں لانا ہی مشکل ہے ۔ اسے امانت نہیں کہہ سکتے ۔ اس لئے وہ استعمال کرنے ، خرچ کرنے یا کھانے کے لئے دیا جاتاہے ۔ جب تک امانت کو جوں کا توں واپس کرنا ضروری ہے ۔ اسے ہدیہ یا تحفہ کہنا بھی مشکل ہے ۔ اس لئے کہ اسے مزید اضافہ کے ساتھ واپس کرنا ضروری ہوتاہے اور اسی لئے اسے لکھ کر رکھنا ضروری سمجھا جاتاہے اور ادا نہ کریں یا اضافہ نہ کریں تو ناراضگی لازمی ہے جب کہ ہدیہ میں واپس لینے کی کوئی نیت ہی نہیں ہوتی وہ محبت پانے کے جذبہ سے دیا جاتاہے نہ کہ مادی عوض کی غرض سے تو یہ ہدیہ بھی نہیں ۔ اسے قرضہ کہنا بھی مشکل ہے اس لئے کہ یہ قرض کہہ کر نہ لیا جاتانہ دیا جاتاہے اور واپسی اگرچہ ضروری ہوتی مگر اس کے بدلے میں کوئی برتر چیز یا نسبتاً زیادہ رقم ۔لہٰذا یہ قرض بھی نہیں…اسے صدقہ بھی نہیں کہہ سکتے ۔اس لئے کہ صدقہ میں اجروثواب مقصود ہوتاہے اور واپس لینے کی نہ کوئی نیت ہوتی ہے نہ توقع اور صدقہ غریب سمجھ کر دیاجاتاہے۔جب یہاں ایسا بھی نہیں ہے ۔کیونکہ یہاں رشتہ داری کی وجہ سے دیا جاتا ہے نہ کہ غربت کی وجہ سے ۔اس صورتحال میں سب سے افضل یہ ہے کہ ورتائو کا یہ سلسلہ ختم کردیا جائے اور ہدیہ دینے کا سلسلہ شروع کیا جائے اور وہ یہ کہ اپنے اقارب احباب کو کسی بھی خوشی کے موقعہ پر اپنی وسعت کے بقدر کچھ بھی بطور ہدیہ دیں اور نہ تو اپنے ذہن میں رکھیں کہ یہ واپس نہیں ملیں گے اور نہ ہی بہی کھاتہ بنا کر رکھیں ۔ پھر وہ چاہیں تو کسی موقعہ پر ہدیہ دیں یا نہ دیں اور کم دیں یا زیادہ پہلے شخص کو نہ کوئی گلہ ہونہ شکوہ ۔ بس صرف یہ ایک شکل درست ہے ۔
lrrrrl
 

رشتہ قائم کرنے کی مجالس اور نکاح ورخصتی

سوال:- ہمارے علاقہ میں کئی برس پہلے ایک شخص نے اپنی دختر کا رشتہ ایک شخص کے ساتھ طے کیا، اس منگنی میں اُس لڑکی نے کپڑے قبول کئے ،نکاح کا اختیار بھی دیاجس کے گواہ موجود ہیں ۔ بات پکی ہوگئی ۔ اب پانچ سال کے بعد اس شخص نے اپنی اس لڑکی کا نکاح کرواکے اس کو رُخصت بھی کردیا ، اس لئے کتاب وسنت کے حوالے سے رہنمائی فرمائیے۔ کیا یہ دوسرا نکاح درست ہے ؟ہمارے علاقہ کے دو عالموں نے اس پر فتویٰ دیا ہے کہ پہلا نکاح صحیح ہے ، دوسرا نکاح صحیح نہیں ہے جب کہ وہ عورت دوسرے نکاح کے خاوند کے ساتھ ہے ۔اب پورے علاقہ میں انتشار ہے اس لئے بذریعہ کشمیرعظمیٰ بتائیں کہ اس میں صحیح کیاہے؟
 

یکے از مسلمین 

جواب:- رشتہ قائم کرنے کے لئے جو مجلس منعقد کی جاتی ہے اُس مجلس کی دو صورتیں ہوتی ہیں یا تو منگنی کے لئے مجلس منعقد کی جاتی ہے جس کا مقصد رشتہ کے لئے وعدہ کرنا ،رشتہ کی بات پختہ کرنااور آئندہ رشتہ برقرار رکھنے ، رشتہ قائم کرنے کا عہد پکا کرنا ہوتاہے ۔ اس غرض کے لئے قائم کی جانے والی مجلس کو مجلس نکاح نہیں کہہ سکتے ۔ یہ مجلس منگنی یا Engagement  کہلاتی ہے ۔ اس مجلس میں مہر طے ہوجائے ، زیورات دیئے جائیں ، کپڑے پہنائے جائیں اور رشتہ پختہ کرنے کے لئے ایجاب وقبول کے الفاظ دہرائے جائیں ۔ ان سب چیزوں کے باوجود یہ نکاح نہیں ہے ۔ اسی لئے اس طرح کے بعد آئندہ باقاعدہ نکاح پڑھایا جاتاہے ۔ اگر پہلی مجلس میں نکاح منعقد ہوگیا ہوتا تو پھر دوبارہ نکاح کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہ ہوتی ۔ دوسری مجلس ،مجلس نکاح ہوتی ہے جو نکاح کرنے کی غرض سے منعقد ہوتی ہے ،اس میں خطبہ پڑھاجاتاہے ، ایجاب وقبول ہوتاہے اور دونوں طرف کے تمام لوگ اس کو نکاح ہی سمجھتے ہیں ۔کبھی منگنی کی مجلس اور نکاح کی مجلس میں بظاہر کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا مگر درحقیقت دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے او روہ مقصد انعقاد وعدۂ نکاح ہے یا تکمیل ِنکاح ۔ اگر مجلس قائم کرنے کا مقصد وعدۂ نکاح ہے تو پھر اس میں نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ زیر نظر معاملے کو اسی اصول کی روشنی میں سمجھا جائے۔
 
سوال:-آج کل ہر جگہ رواج ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی والوں کے طرف سے بہت بڑی دعوت کا اہتمام کیا جاتاہے ۔دُلہا کے ساتھ کافی تعداد میں لوگ جاتے ہیں اور ان کے لئے قسم قسم کے پکوان پکائے جاتے ہیں ۔کئی لوگ اسے ضروری قراردیتے ہیں اوراُسے ولیمہ، جو سنت ہے، کے مترادف قرار دیتے ہیں ۔ براہِ کرم یہ فرمائیں کہ کیا لڑکی والے بھی ولیمہ کے نام پر دعوت کا اہتمام کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ کیا ایسی دعوت میں شرکت کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ نیز یہ بھی فرمائیں کہ سنت کے مطابق شادی کا طریقہ کیاہے ؟
منظور احمد میر
 

ولیمے کی دعوت اور اس کے شرعی لوازم

جواب:-ولیمہ اُس دعوت کو کہتے ہیں کہ جو شوہر اپنے گھر میں اپنے احباب ،اقارب اور ہمسایوں کو کھلائے ۔ یہ دعوت ولیمہ یقیناً مسنون ہے مگر اس میں کم از کم ان امور کی رعایت لازم ہے ۔ ۱۔کھانوں کا ایسا اسراف نہ ہوکہ کھانے والے اتنا کھا بھی نہ سکیں اور کھانا ضائع کیا جائے ۔۲۔ اس دعوت میں نام ونمود نہ ہو بلکہ ادائیگی سنت کی نیت ہو ۔۳۔ اس دعوت میں مردوزن کا غیر شرعی اختلاط نہ ہو۔ نہ غیر شرعی فوٹوگرافی یا ویڈیوگرافی ہو ۔۴۔اس دعوت میں حرام کمائی کی آمدنی شامل نہ ہو اور اگر کسی طرح سے یہ بات یقینی طور پر معلوم ہوجائے تو ایسی دعوت میں شریک ہونا جائز نہیں ۔۵ ۔دعوت کرنے والا اپنی مالی وسعت کی حدود میں رہ کر دعوت کرے ۔ ۶۔یہ دعوت فرائض کے چھوٹ جانے کا سبب نہ بنے ۔ مثلاً دعوت کی وجہ سے نمازیں چھوڑ دی جائیں جیساکہ مشاہدہ میں آیاہے ۔
 
 
 صدر مفتی دارالافتاء 
دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ