کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 س:- کیا عورت کی خودکمائی ہوئی جائداد شوہر کے نام پر رکھنی جائز ہے کہ نہیں ۔ اگر دونوں میاں بیوی کماتے ہوں تو بچوں کے بنیادی ضروریات پوراکرنا کس کا فرض بنتاہے ؟

ارجمند اقبال
اولاد اور زوجہ کاخرچہ کی تمام ذمہ داری شوہرپر
جواب:-اولاد کے تمام خرچے باپ پرلازم ہوتے ہیں چاہے زوجہ یعنی بچوں کی ماں کے پاس کافی جائیداد اور رقم ہو ۔ اورچاہے وہ خود بھی کماتی ہولیکن بچوں کانفقہ شریعت اسلامیہ نے بھی اور قانون میں بچو ں کے باپ پر ہی لازم ہے ۔اگریہ باپ مالی وسعت کے باوجود ادائیگی میں کوتاہی کرے تو یہ اولاد کی حق تلفی کرنے والا قرارپائے گا اور اگر باپ اپنی مالی وسعت کے بقدر خرچ کررہاہے مگر آج کے بہت سارے خرچے وہ ہیں جو صرف مقابلہ آرائی اور تنافس (Competition)کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ خرچے اگرباپ نہ کرے تو وہ نہ گنہگارہوگا اور نہ ہی حقوق العباد کے ضائع کرنے والا قرار پائے گا ۔
زوجہ کومجبورکرنا کہ وہ اپنی کمائی بچوں پر یا گھر پر ضرور کرے۔یہ شرعاً بھی غلط ہے ، غیرت کے بھی خلاف ہے اور عقل واخلاق سے بھی غلط ہے۔لیکن اگر کوئی خاتون اپنی خوشی ورضامندی سے اپنے گھریا اپنے بچوں پر اپنی آمدنی صرف کرے تو اُس میں نہ کوئی حرج ہے نہ یہ کوئی غیرشرعی چیزہے ۔کمائی ہوی آمدنی بہرحال کہیں نہ کہیں تو خرچ ہونی ہی ہے ۔ اگر اپنی اولاد پر خرچ ہو تو کیا مضائقہ ہے ۔
زوجہ کی کمائی پر شوہر کا کوئی حق نہیں ہے اور اگر شوہر زوجہ کو مجبورکرے کہ وہ اپنی کمائی ہوئی جائیداد کوشوہر کے نام پر ہی اندراج کرائے تو یہ سراسر غلط ہے اور عورت اگر اس کا انکار کرے تو شوہرجبر نہیںکرسکتااور عورت کا انکاربھی نہ غیر شرعی ہے نہ غیراخلاقی ہے۔لیکن اگرعورت برتر اخلاق کا مظاہرہ کر اور دُوراندیشی ،وسعت ظرفی ،دریادلی کامظاہرہ کرے ۔ اپنا اوراپنے بچوں کا مستقبل بچانے کے لئے اگر وہ جائیداد بچوں کے نام پر اندراج کرائے ،شوہر کی بے جا ضد کوصرف اپنی اور بچوں کی زندگی کو تلخیوں سے بچانے کے لئے قبول کرے اور جائیداد اُسی کے نام اندراج ہوجائے تو اس میں دینی ، دینوی طرح طرح کے فائدے ہوں گے ۔ سوچئے اگر یہ جائیداد عورت کے نام پر رہی تو آگے اس کا حق اولاد کا ہی ہوگا اور اگر جائیداد باپ کے نام پر رہی تو بھی یہ آئندہ اولاد ہی کا حق ہوگا۔لیکن شوہر کو بھی یہ بات ٹھنڈے دل سے سوچناچاہئے کہ اُس کے بچوں کی ماں نے آج تک اُس کے بچوں پر کتنا خرچ کیا اور یہ سب بہرحال اُس کا احسان،جس کا اعتراف نہ کرنا ناشکری ہے اور آگے یہ سوچیں کہ اگر کمائی زوجہ کی ہے تو یہ غلط اصرار کیسے دُرست ہوگاکہ یہ جائیداد شوہرکے نام پر اندراج ہو۔وہ ٹھنڈے دل سے یہ بھی سوچے کہ اگر وہ جائیداد زوجہ کے نام پر ہی اندراج ہو تو بھی آئندہ یہ اُس کے بچوں کا ہی حق ہوگا۔اس لئے اپنے گھرکوتلخیوں سے بچانے اور اپنی زوجہ وبچوں کو ذہنی وجسمانی سکون دینے کے لئے دُوراندیشی اوروسعت قلبی کا روّیہ اپنائے او رزوجہ پر بے جااصرار نہ کیا جائے ۔
خلاصہ یہ کہ زوجہ کی کمائی زوجہ کی ہے ۔ اگر وہ اپنی خوشی ورضامندی سے بچوں یا گھر پراپنی آمدنی صرف کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔اگر وہ خرچ نہ کرے تو شوہر کاجبر کرناغیرشرعی ہے۔
عورت اگراپنی رضامندی سے اپنی کمائی اپنے شوہر کے نام رکھے تو شرعاًاس میں کوئی حرج نہیں ۔ اگر وہ خوشی سے اس پر آمادہ نہ ہو تو اصرار وجبر کرنا غیر شرعی ہے ۔بچوں کا باپ اور ماں اگر دونوں کماتے ہوں تو بھی بچوں کا تمام تر خرچہ بچوں کے باپ پر لازم ہوگا۔ اگر ماں اپنی اپنی آمدنی میں سے اپنے بچوں پر خرچ کرے تو یہ بھی کوئی غیرشرعی نہیں ہے ۔٭٭

 س:-موسم سرما میں مساجد کے حمام گرم رکھنے کے لئے ،جن سے نمازیوں کے وضو کے لئے پانی بھی گرم ہوجاتاہے ، محکمہ جنگلات کی طرف سے سستے داموں ایندھن فراہم کیا جاتاہے ۔مگر اکثر یہ دیکھنے میں آتاہے کہ فراہم کئے جانے والے ایندھن کی مقدار پورے موسم سرما کے لئے نامکتفی ہوتی ہے ۔ کچھ مساجد کے منتظمین صلاح و مشورہ کرکے اس بالن کی چھانٹی کرکے کچھ ایسے ٹکڑے ، جو قدرے صاف ہوتے ہیں اور سستے قسم کا تعمیری میٹریل فراہم کرنے کے لائق ہوتے ہیں، الگ کرکے فروخت کرتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ اس کے عوض مسجد والوں کو قیمت خرید سے زیادہ رقم ملتی ہے ۔ چنانچہ اس رقم سے سستے قسم کا ایندھن خرید کر سرمائی ضروریات کو پورا کیا جاتاہے۔کیا شرعی اعتبار سے یہ عمل جائز ہے ؟

عبدالمجید شگو
مساجد کے حمام اور ایندھن کی ضروریات :ایک اہم مسئلہ
ج:ـ-مساجد میں گرمی کا انتظام کرنے کے لئے وادیٔ کشمیر میں گورنمنٹ کی طرف سے جو لکڑی بغرض ایندھن فراہم کی جاتی ہے اس لکڑی میں اگر کچھ تعمیراتی ضرورت میں استعمال ہونے کے قابل کچھ لکڑی ہو تو مساجد کے منتظمین کے لئے شرعاً یہ بات جائز ہے کہ وہ اُس لکڑی کو فروخت کریں اوراس کی قیمت سے مساجد کے لئے مزید ایندھن خریدیں۔
دراصل گورنمنٹ ایندھن کی غرض سے مساجد کے لئے جو لکڑی فراہم کرتی ہے تو مساجد بطور ایک ادارۂ وقف کے اُس کا مالک بن جاتی ہے۔ اس کے منتظمین جو درحقیقت متولی ہوتے ہیں جب اس لکڑی کو فروخت کرنے اور اس کے عوض میں دوسری زائد مقدار کی لکڑی حاصل کرنے میں بہتری سمجھتے ہیں تو یہ اسلامی وقف کا غلط استعمال نہیں بلکہ اس کا مفید اور نسبتاً زائدنفع بخش جائز تصرف ہے ۔
یہ ایسا ہی ہے کہ کسی شخص نے کسی غریب کو ایک ہزار کی رقم بصور صدقہ دی اوریہ کہا کہ اس سے اپنے لئے گرم بسترہ کا انتظام کرو اور اُس غریب شخص نے سوچا کہ اس رقم سے مشکلاً ایک گرم بستر بن سکے گا۔ جب میرے بچے گرم کپڑوں کے لئے محتاج ہیں لہٰذا اُس نے اُس رقم سے گرم بستر کے بجائے گرم کپڑے اپنے اہل وعیال کے لئے بنائے۔ اس صورت میں زیادہ افراد کو اس رقم کا فائدہ پہنچے گا ۔جیسے یہ جائز ہے ۔اسی طرح لکڑی کا مسئلہ ہے۔
یا مثلاً کسی شخص نے کسی مفلس کو مکان کی کھڑکیوںکے لئے پردہ لٹکانے کا کپڑا دیا جو پورے مکان کے لئے ناکافی تھا۔ اُس نے وہ کپڑا فروخت کردیا اور اس کی قیمت سے نسبتاً سستا کپڑا خریدا جو پورے مکان کی کھڑکیوں کے لئے کافی ہوگیا تو ایسا کرنا اُس کے لئے جائز ہے ۔ اسی طرح گورنمنٹ کی طرف سے فراہم کردہ لکڑی پورے سردی کے موسم کے لئے اگر ناکافی ہوا اس لئے مسجد کی انتظامیہ اس میں ایسی لکڑی جو قدرے بہتر ہونے کی وجہ سے تعمیری کام میں لائے اور بالن کے مقابلے میں بہتر قیمت وصول کرسکے ، اسے الگ کرکے فروخت کرکے اور اس کی قیمت سے اتنی زائد مقدار کی جلانے کی لکڑی حاصل کریںجو پورے موسم سرما کے لئے کافی ہوجائے تو یہ ہرگز غلط نہیں ہے۔
اس سلسلے میں کچھ اہم افسران سے جب یہ استفسار کیا گیا کہ آپ کو اس طرزِ عمل پر کوئی اعتراض ہے کہ مساجد کو دی جانے والی لکڑی کا بہتر حصہ فروخت کرکے اس کے عوض نسبتاً زائد مقدارکا ایندھن حاصل کیا جائے؟ تو ان کا جواب تھاکہ ہم کو اس پر کیا اعتراض ہوسکتاہے ۔اگر ہم ہی مسجد کے منتظم ہوں اور اس میں ایسا کرنے میں فائدہ محسوس ہو تو ہم خود ایسا کریں گے ۔ گورنمنٹ اپنے اصول کے مطابق جلانے کی لکڑی فراہم کرتی ہے اُس کے بعد مسجد کے منتظمین اور نمازی خود مختار ہیں کہ اس لکڑی کا استعمال کیسے کریں ۔ 
اس صورتحال میں خلاصہ یہ ہے کہ مسجد کے نمازیوں کو پورے موسم سرما میں گرم پانی اور صوفہ وحمام کوگرم رکھنے کے لئے اس لکڑی کو فروخت کرکے سستی لکڑی جو صرف ایندھن بن سکے ،خرید ناجائز ہے ۔اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے اور اگر کچھ رقم بچ جائے تو اس کو مسجد کی دوسری ضروریات کے لئے بھی استعمال کرنا درست ہے ۔ 
اسلئے کہ یہ مسجد کی ہی رقم ہے جواسی میں صرف کی جارہی ہے ۔Tl

س:-  لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ۔ دونوں ہی معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔لڑکی کا باپ لڑکے کی سرکاری نوکری کا نہ ہونے کا بہنانہ بناکررشتے سے انکار کررہاہے۔ لڑکی کی مرضی کے خلاف اس کو نکاح کے لئے دبائو ڈالاجارہاہے ۔کیا وہ نکاح دُرست ہوگا ؟

زبیر احمد
لڑکی یا لڑکے کی رضامندی کے خلاف رشتہ طے کرنا غیر دُرست
جواب:-نکاح پوری زندگی کے لئے ایک ایسا رشتہ ہے جو بہت وسیع اثرات لئے ہوئے ہوتاہے ۔ انسان کی دینی ،اخلاقی ،خانگی ، معاشی اور معاشرتی زندگی پر جتنے اثرات نکاح کی وجہ سے پڑتے ہیں ۔ اُتنے کسی اور چیز کے نہیں پڑتے۔ اس لئے اس رشتہ کو قائم کرنے کی ذمہ داری والدین کی ہے ۔ جولڑکے لڑکیاں از خود رشتوں کا انتخاب کرتے ہیں وہ ہرگز دُرست نہیں کرتے ۔اس کے انتخاب کے لئے جیسی دُور اندیشی ،بصیرت اور حزم واحتیاط کی ضرورت ہے وہ عموماً نوجوانی کی جذباتی اور ناتجربہ کاری کی عمر میں نہیں ہوتی ۔ اس لئے رشتہ کرنے کا حتمی فیصلہ والدین یعنی اولیاء کے ہاتھ میں ہے۔ اگرکسی لڑکے یا لڑکی کو کسی جگہ رشتہ مناسب لگ رہاہو تو بجائے اس کے کہ خود رشتہ کرنے کا عہدوپیمان کرنے کا اقدام اُٹھائیں ،اُن کو چاہئے کہ وہ والدین کو کہیں کہ فلاں جگہ میرا رشتہ کردیا جائے ۔اگروالدین رضامندہوگئے تو بہتر اگر رضامند نہ ہوئے تو فوراً بات ختم کردی جائے ۔اگر کسی لڑکے یا لڑکی نے یہ غیرشرعی اور احمقانہ حرکت کی کہ خود آپس میں تعلقات بڑھاکر اتنے پختہ کرلئے کہ اب یہ رشتہ نہ کرنے پر اُسی وقت یا آئندہ نقصان یا خرابی کا اندیشہ ہوتو ایسی صورت میں والدین کو اپنی ضد چھوڑ دینی چاہئے اور بچوں کے انتخاب کوچاہے بادل ناخواستہ ہی سہی قبول کرکے رشتہ آگے چلائیں۔ اگرکوئی معقول یا شرعی وجہ ہو تو والدین کا انکار بجاہے اور لڑکا یا لڑکی کا اصرار غلط ہے ۔
اگر لڑکا یا لڑکی رضامند نہ ہو اور والدین جبراً کسی جگہ اُن کا رشتہ کرائیں ۔ تو یہ نہ شرعاً درست ہے اور نہ ہی ایسے رشتوں کے کامیاب ہونے کی کوئی توقع ہوتی ہے بلکہ بسا اوقات یہی والدین بعد میں بہت ہی زیادہ افسوس کرتے رہ جاتے ہیں ۔اور زبردستی کئے ہوئے رشتہ کو تباہ حال دیکھ کر خود مجبور ہوکر اس کوختم کرنے کی تدبیر کرنے لگتے ہیں ۔
حضرت نبی کریم علیہ وسلم سے ایک خاتون نے عرض کیا کہ میرا باپ میرا رشتہ کسی ایسی جگہ کرناچاہتاہے جہاں کے لئے میں رضامند نہیں ، کیا وہ مجھ پر جبر کرسکتاہے ۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ باپ اپنی بیٹی کا رشتہ اُس شخص کے ساتھ جبراً نہیں کرسکتا جس سے رشتہ کرنے کے لئے خاتون رضامند نہ ہو۔(بخاری : نکاح کا بیان)۔
قارئین نوٹ فرمائیں!

سوال ارسال کرنے والے حضرات اپنا نام ومکمل پتہ اور فون نمبر تحریر کیا کریں ۔ ان کا نام وپتہ ، اگر ان کی خواہش ہو ، پوشیدہ بھی رکھا جا سکتا ہے ، تاہم ادارہ کے پاس مکمل نام و پتہ ہونا لازمی ہے ۔ ترکہ اور وراثت کے معاملات میں ، جو حضرات استفسار کرنے کے خواہاں ہوں ، وہ اپنے شناختی کارڈ کا فوٹو سٹیٹ خط کے ساتھ ضرور رکھیں ۔ بصورت دیگر ادارہ سوال کی اشاعت کا مکلف نہیں ہوگا۔    (ادارہ)