کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال:۱-ماہ مبارک کا نزول ہوتے ہی مسلمان مرد وزن نوافل نمازوں کا بھرپور اہتمام کرتے ہیں۔کیا ہم نوافل نمازوں کے بجائے قضاء￿  شدہ نمازیں نہیں پڑھ سکتے ؟ اور جب دیکھا جائے تو ہزار میں سے ایک فرد ایسا ہوگا جس نے واقعی دس سال کی عمر سے نماز پنجگانہ پابندی کے ادا کی ہو۔

سوال:۲-اکثر مشاہدے میں آیاہے کہ اس بابرکت مہینے میں لوگ اذان فجر سے پہلے نوافل کے علاوہ نماز تہجد بھی پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں جب کہ ان میں سے اکثریت ایسے حضرات کی ہوتی ہے جو غیر رمضان میں نماز فجر کیا نماز عشاء￿  کے لئے بھی مسجد میں نہیں آتے۔ 

برائے کرم آپ بتائیں کہ مسلسل نماز تہجد اداکرنے سے یا کوئی بھی نفلی کام مسلسل کرنے سے ہم پر فرض تو نہیں بنتا۔ اگر بنتاہے تو کتنے دنوں تک کوئی بھی نفلی امر اپنانے سے وہ عمل ہم پر فرص بن جاتاہے ؟
سوال :۳-کیا روزے داروں کی وہ شخص ،جو خود روزہ دار نہ ہو، امامت کرسکتاہے ؟اسی طرح کوئی روزے دار کسی غیر مسلم ا?فیسر کے لئے چائے بناسکتاہے یا کوئی بھی غیر مسلم کاری گر کام پر لگایا ہواس کے لئے کھانا پینا تیار کرنا جائز ہے یا یہ کام غیر رمضان میں ان سے کروالیں ؟
سوال :۴-ماہِ مبارک میں اکثر لوگ اپنی جامع مسجد کو چھوڑ کر نماز جمعہ یا عید نماز کے لئے دور دور جاکر دوسری جامع مسجدوں میں نماز ادا کرلیتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ثواب پالیں جب کہ اپنی جامع مسجد میں نمازیوں کی تعداد کافی کم ہوجاتی ہے اور جمعہ اور عیدین پر مسجد کے لئے جمع کردہ رقم میں  بھی واضح کمی واقع ہوتی ہے۔ کیا یہ خلافِ تقدسِ مسجد شریف تو نہیں ؟
سوال:۵-اس بابرکت مہینے میں پڑھے لکھے مسلمان زیادہ سے زیادہ وقت تلاوت کلام اللہ میں گزارتے ہیں جس کی حدیث میں تاکید بھی فرمائی گئی لیکن ایک ان پڑھ شخص اس کے برعکس کون ساعمل اپنائے کہ اْسے بھی بھرپور ثواب ملے۔کیا وہ فرصت میں نعت نبیؐ سن کر اس کمی کو پورا کرسکتاہے ؟
سوال نمبر:۶- کیا فرض نماز کی پہلی رکعت میں تین آیت والی سورت اور دوسری میں چار ا?یت والی جیسے پہلی میں سورہ عصر یا کوثر یا نصر پڑھ لی پھر دوسری رکعت میں سورۂ اخلاص پڑھا کیا یہ جائز ہے ؟ خاص کر ا?ج کل نماز تروایح میں اسے روز دہرایا جاتاہے۔ برائے مہربانی اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
سوال :۷-کچھ حضرات آذان فجر کے بعد بھی نوافل پڑھتے رہتے ہیں۔حتیٰ کہ نماز فرض کا وقت قریب تر ہوتاہے اور ہماری مسجد شریف میں یہ عمل کچھ علم دین رکھنے والے حضرات بھی اپناتے ہیں۔براہ کرم آگاہی فرمائیں۔
سوال :۸- کسی مسلمان عورت نے سال بھر ایک لاکھ کا سونا پہناہے اور یہ ہمیشہ کے لئے پہنتی رہی۔ کیا اس رقم پر بھی زکوٰۃ واجب ہے ؟ اسی طرح کسی مرد نے اپنی سواری کے لئے دس لاکھ روپیہ کی گاڑی رکھی ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی آمدن نہیں آتی۔ کیا یہ رقم زکوٰۃ سے مبرہ ہے ؟
سوال :۹- کیا شوال کے چھ نفلی روزے دو شوال سے لے کر متواتر سات شوال تک رکھنے لازم ہیں یا پورے مہینے میں وقفہ وقفہ سے چھ روزے رکھ سکیں؟نیز یہ بھی فرمائیں کہ کتنے سالوں تک شوال کے نفلی روزے متواتر رکھنے سے ہم پر یہ فرص بن جائیں تاکہ اس کی فرضیت سے بچنے کے لئے بیچ بیچ میں یہ روزے چھوڑدئیے جائیں۔ 
عاصی نذیر احمد…راہ پورہ 

تہجد کے وقت قضا نمازیں 

ادا کرنے سے تہجد ادا ہوتا ہے 

جواب:۱-رمضان میں ایک فرض کا درجہ 70فرضوں کے برابر اور ایک نفل نماز کا درجہ ایک فرض کے برابر ہوتاہے۔ اس لئے رمضان شریف میں نوافل کا اہتمام نہایت پسندیدہ عمل ہے۔ نوافل میں تہجد، اشراق ، اوابین ، تحی? المسجد اور تحی? الوضو ہے۔ ا گر کوئی شخص تہجد کے وقت قضا نماز یں اداکرے اسی طرح اشراق کے وقت بھی قضا نماز ادا کرے توا سے خود بخود تہجد اور اشراق کا ثواب بھی ملے گا اور تہجد و اشراق کے وقت نماز پڑھنے پر تہجد و اشراق کا اجر بھی ملے گا۔اسلئے یہ بہتر ہے کہ ان اوقات میں نمازوں کا ضرور اہتمام کیا جائے۔نوافل پڑھیں تو نوافل کا اجرہوگا ، اگر قضاپڑھیں تو تہجد واشراق کا اجر بھی ہوگا اور قضا کافرض سر سے اْتر جائے گا۔

نفل کبھی فرض نہیں بنتا 

جواب:۲-رمضان میں تہجد اداکرنا بے انتہا شرف کی بات ہے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں قیام کی بے انتہا فضیلت بیان فرمائی ہے۔ یہ قیام رمضان تراویح اور تہجد کے ذریعہ ادا ہوگا۔ حضرت نبی علیہ السلام نے تو پوری رات نماز میں گزار دی حتیٰ کہ لوگ سوچنے لگے شاید سحری کھانے کا بھی موقعہ نہ مل سکے گا۔ اس لئے تہجد ضرور اداکیا جائے اسی تہجد میں اس کا عزم بھی کیا جائے اور اللہ سے گڑ گڑا کردعابھی کی جائے کہ رمضان کے بعد فجر وعشاء￿  کی توفیق ملے۔ غیر رمضان میں فجر وعشاء￿  کو ترک کرنا یقینا جرم عظیم ہے مگر اس کا علاج یہ نہیں کہ رمضان میں اگر تہجد پڑھنے کا موقعہ ملے تو اسے بھی کھو دیں۔
مسلسل تہجد پڑھنے سے یقیناً یہ نماز فرض نہیں ہوتی۔ اسلام میں ایسی کوئی نفلی نماز نہیں جس کو مسلسل پڑھنے کی بناء￿  پر فرض قرار دیا جائے۔جتنے دن بھی تہجد پڑھنے کی توفیق ملے جاری رکھا جائے۔

عذر شرعی پر روزہ چھوڑنے والے کی امامت جائز 

جواب:۳-جس نے عذر شرعی کی بناء پر روزہ چھوڑا ہو وہ روزے داروں کی امامت کرسکتاہے اور جس نے بلاعذر روزہ ترک کردیا ہووہ فاسق ہے۔ اس کا امامت کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ کسی غیر مسلم افسر کے لئے چائے پانی کا انتظام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اسی طرح غیر مسلم کاریگروں کے لئے کھانے کا انتظام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔جیسے کسی بیمار کے لئے کھانے اور دوا کا انتظام کرنا درست ہے۔ دراصل جس پر روز ہ فرض نہ ہو اْس کو کھلانا پلانا درست ہے جیسے نابالغ بچے۔

اپنی مساجد کی ضروریات کا خیال رکھیں

جواب:۴-نماز جمعہ کا اجروثواب ہر جامع مسجد میں مساوی ہے۔ البتہ جتنی دور نماز پڑھنے جائیں۔ اتنا اجرزیادہ ہوجائے گا۔اس لئے مرکزی جامع میں نماز جمعہ یا کھلے میدان میں عید پڑھنے کے لئے جانا درست ہے۔ اس لئے کہ جتنا زیادہ فاصلہ طے کریں اتنا ہی اجربڑھ جائے گا۔اپنی مساجد کے لئے چندہ اور تعاون ہر حال میں لازم ہے چاہے نماز جمعہ دوسری مساجد میں ہی ادا کیوں نہ کریں اس لئے اپنی مساجد کی ضروریات پورا کرنا اس مسجد کے نمازیوں پر ہرحال میں لازم وضروری ہے۔ اب اگر کوئی شخص شہر کی بڑی مسجد میں جمعہ بھی پڑھے اور اپنی مسجد کا تعاون اپنا فریضہ جان کر کے تو دونوں خوبیاں جمع ہو جائیں گی۔ 

رمضان میں قرآن پڑھنے کا اہتمام کریں

جواب :۵-یقیناً اس بابرکت مہینے میں جتنی زیادہ سے زیادہ تلاوت ہوسکے وہ بہت بہتر ہے۔ امام اعظمؒ ایک قرآن دن میں ایک رات میں اور ایک تراویح میں پڑھتے تھے۔ امام بخاری ایک قرآن دن میں ، دس پارے تہجدمیں اور ایک قرآن تراویں میں پڑھتے تھے۔ اسی طرح امت کی دیگر بے شمار شخصیات کا عمل رہا ہے۔ ہمارے عہد میں بھی ایسے ہستیاں پائی گئیں جو رمضان میں روزانہ ایک ختم قرآن کرتے ہیں لیکن جو شخص تلاوت نہ کرسکے وہ کثرت سے بڑی مقدار میں سورۂ فاتحہ ، آیت الکرسی اور سورہ اخلاص اور دیگر وہ سورتیں پڑھے جو اْسے یاد ہوں۔ اس طر ح ذکر واذکار کا کلمہ تمجید ،کلمہ توحید ، درود شریف ، کلمہ استغفار پڑھنے کا معمول بنائے۔ صرف نعت شریف سننے سے تلاوت یا ذکر و اذکار کا حق ادا نہیں ہوگا۔ ہاں نعت سننے سے محبت نبوی? میں بھی اور شوق وجذبہ میں بھی اضافہ ہوسکتاہے۔

تراویح میں پورا قران 

پڑھنا اور سننا سنت 

جواب:۶-تراویح میں پورا قرا?ن پڑھنا اور سننا سنت ہے اور پورے عالم کے مسلمان ہمیشہ سے اسی پر عمل کرتے ا?رہے ہیں۔ ا?ج بھی پوری دنیا میں جتنی یورپ وامریکہ میں بھی تراویح کے اندر پورا قرا?ن پڑھنے کا عمل رائج ہے یہ بڑی محرومی ہے کہ کسی جگہ کے مسلمان خرافات اور کھانے پینے میں تو وقت صرف کریں مگر عبادت میں کم سے کم وقت دیں۔اب اگر پورا قرا?ن نہ ہو سکے تو الم تر سے تراویح پڑھیں۔ اگر کسی نے تراویح کی پہلی رکعت میں بڑی سورت اور ہردوسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھا تو یہ بھی دْرست ہے۔

اذان فجر کے بعد نفل پڑھنا درست نہیں

جواب:۷-اذان فجر کے بعد صرف دو رکعت سنت پڑھنا دْرست ہے اس کے علاوہ کوئی نفل پڑھنا درست نہیں ہے۔ ہاں قضا نماز پڑھ سکتے ہیں۔ فقہ کی تمام کتابوں میں صراحت اور تفصیل سے یہ درج ہے۔

زیر استعمال گاڑی پر زکوٰہ نہیں

جواب:۸- استعمال کی گاڑی چاہے جتنی بھی قیمتی کیوں نہ ہو ،اْس پر زکوٰ? لازم نہیں ہے۔ البتہ سونے پر بہرحال زکوٰ? لازم ہے چاہے استعمال میں ہو یا بند کرکے رکھا گیا ہو۔ اس لئے سونا بہرحال ایسا مال ہے جس کی قیمت ہر حال میں بڑھنی ہے چاہے استعمال کریں یا نہ کریں اس لئے اس میں ہر حال میں زکوٰ? لازم ہوتی ہے۔

شوال کے روزوں میں تواترضروری نہیں

سوال :۹- شوال کے روزے مسلسل رکھنا ضروری نہیں ہے۔ وقفہ وقفہ سے بھی یہ روزے رکھ سکتے ہیں۔ سالہا سال تک شوال کے نفلی روزے رکھنے کے باوجود یہ روزے نفلی ہی رہیں گے فرض نہ ہوں گے۔  ان روزوں کے متعلق احادیث میں بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے اور اگر یہ روزے شوال میں مسلسل بھی رکھے گئے تو بھی یہ فرض نہ ہوں گے یہ غلط فہمی ہے کہ نفلی عبادت تسلسل سے کرنے پر فرض ہوجاتی ہے۔
………………

متفرق سوالات

گذارش ہے کہ مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات ’کشمیر عظمیٰ‘ کے ذریعے عنایت فرمائیں ، آپ کی نوازش ہوگی۔
سوال :۱- نمازتراویح کی ہر چار رکعت کے بعد جو تسبیح پڑھی جاتی ہے ، اسکا کیا حکم ہے ؟اسی طرح نماز تراویح مکمل کرنے کے بعد مسجدوں میں اجتماعی طور جو دعا مانگی جاتی ہے یہ سنت سے ثابت ہے کہ نہیں ؟
سوال :۲-نمازوتر کے بعد کچھ لوگ بیٹھ کر دو رکعت نماز پڑھتے ہیں۔ یہ کونسی نماز ہوتی ہے اور کیا اسکا معمول بنانا جائز ہے ؟
سوال :۳-نماز تراویح اگر مسجد کے بجائے گھر پر ہی پڑھیں تو کیا ثواب میں کمی واقع ہوگی ؟
سوال :۴-کیاسکول کے صحن میں کرسی پر بیٹھ کر اور جوتے پہن کر قرا?ن کی تلاوت کرسکتے ہیں۔جبکہ اندر کمرے میں سردی لگتی ہو؟
سوال :۵-کیا قبلہ رو ہو کر قرا?ن کی تلاوت کرنا لازمی ہے۔ یا کسی بھی سمت منھ کرکے تلاوت کی جاسکتی ہے ؟
سوال :۶-ہمارے امام صاحبان مقتدیوں کے اصرار پر نمازِتراویح روزانہ سورہ الم ترکیف سے شروع کرکے ا?خری دس سورتیں دہراتے رہتے ہیں ، کیا صرف انہی دس سورتوں کو نمازتراویح کے لئے مخصوص کرنا جائز ہے ؟
سوال :۷-تراویح صرف مردوں کے لئے سنت ہے یا عورتوں کے لئے بھی سنت ہے ؟

محمد اقبال ملک ادھم پوری

جواب:۱-تراویح کے ہر چار رکعت کے بعد تسبیح تراویح،  سبحان الملک القدس… الخ پڑھنا درست ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اس وقت درود شریف پڑھنا چاہے یا استغفار کرنا چاہے یا نفل نمازپڑھنا چاہئے یا خاموش ہی رہنا چاہئے تو اس کی بھی اجازت ہے۔اس تسبیح کے پڑھنے کی صراحت رد المختار (شامی) میں ہے اور اردو کے متعدد کتب فتاویٰ میں موجود ہے۔ ملاحظہ ہو ، فتاویٰ رحمیہ، متعلقہ باب البتہ اصرار کرنا بھی لازم نہیں اور پڑھنے میں اجتماعیت پیداکرنا بھی شرعی حکم نہیں ہے۔ نماز کے ا?خر میں معمول کے مطابق دعا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ اس مقدس مہینے میں تراویح کی عظیم عبادت کے بعد دعائوں کا خوب اہتمام ہونا چاہئے۔ لیکن اگر کوئی دعا کئے بغیر کبھی کبھار چلا جائے تو اسے مطعون بھی نہ کیا جائے۔ 
جواب:۲-وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا درست ہے ، چاہے بیٹھ کر پڑھیں یا کھڑے ہوکر ، دونوں طریقے درست ہیں۔ چنانچہ ترمذی میں اسکی حدیث موجودہے۔ البتہ بیٹھ کر پڑھیں تو کھڑے ہوکرپڑھنے کے مقابلے میں نصف اجر ہوگا لہٰذا وتروں کے بعد اگر نوافل کامعمول بنائیں تو کوئی حر ج نہیں کیونکہ حدیث سے ثابت ہے۔
جواب:۳-مسجد میں تراویح کا اجر گھر کی تراویح سے بہت زیادہ ہے۔ مسجد میں نماز پڑھنا ، پھر جماعت سے پڑھنااور نماز کے لئے چل کرجانا وغیرہ متعددوجوہات ہیں کہ جن کی بناء￿  پر یہ بات طے ہے کہ گھر کی تراویح مسجد کی تراویح سے اجر وثواب میں بہت کم درجہ رکھتی ہے۔ لہٰذا بلاعذر مسجد میں تراویح پڑھنا نہ چھوڑی جائے۔لیکن کوئی مسجد نہ جاسکے تو گھر میں تراویح پڑھ سکتاہے۔
جواب:۴-کرسی پر بیٹھ کر تلاوت کرنے کی اجازت ہے۔البتہ جوتا نکال دیا جائے اور پائوں جوتے پر رکھ لئے جائیں ، پھر دل میں احساسِ عظمت کیساتھ تلاوت کرسکتے ہیں۔ اسلئے کہ تلاوت میں جتنا ادب ہوسکے ،کرنا قرا?ن کا حق ہے۔
جواب:۵-تلاوت کے ا?داب میں ہے کہ مو?دب ہوکر بیٹھیں ، قرا?ن کریم کسی اونچی جگہ رکھیں۔ مثلاً رحل پر اور روبقبلہ ہو کر خشوع وخضوع سے تلاوت کریں۔ باوضو ہونا شرط ہے۔ ہاں اگر کبھی روبقبلہ نہ ہوپائے تو بھی تلاوت درست ہے اور تلاوت کا پورا اجر ہوگا۔
جواب:۶-تراویح میں الم تر سے اخیر تک دس سورتیں پڑھنا درست ہے۔ تراویح میں اصل تو یہ ہے کہ پورا قرا?ن کریم پڑھا جائے یہ نہ ہوسکا تو پھر یہی ا?خری دس سورتیں پڑھیں جائیں تاکہ مقتدی بھی سن سکیں۔ اور ان کو بھی درست یاد کرنے کا موقع ملے۔ چنانچہ امت کا معمول یہی رہاہے ، ملاحظہ ہوفتاویٰ رشیدیہ۔
جواب:۷-تراویح عورتوں کے لئے بھی سنت ہے لہٰذا وہ بھی اپنے گھروں میں اہتمام سے تراویح پڑھا کریں  اس طرح  رمضان شریف کی رات کے قیام کا حکم پورا ہوجائیگا۔ یہ حکم مردوں اور عورتوں ، دونوں کیلئے ہے۔lll