کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ درج زیل سوالا ت کے جوابات عنایت فرمائیں؟
(۱) اخبارات میں قرآن شریف کی آیات نقل کرنا کیسا ہے ۔ایک مقامی روزنامہ میں ایک اچھا مضمون شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ آیت عربی متن کے ساتھ نقل کی گئی ہے جس کا ترجمہ یہ لکھا ہے۔ اے ایمان والو اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان اور پتھروں ہونگے۔ اس پوری آیت کی عربی عبارت درج ہوئی۔یہی اخبار ردی میں ڈالا جائے گا تو لازماً قرآنی آیت کی توہین ہوگی۔ ابھی کچھ دنوں پہلے کسی کے موت کی خبر دی گئی۔ ا س میں قرآن کی آیت بھی نقل کی گئی، جس کا ترجمہ یہ ہے، ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ اخبار تمباکو والے کے پاس تھا اور اس نے تمباکو کی پڑیا بنائی۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے وہ تحریر فرمائیں؟
ایک      شہری
اخبارات میں قرآنی آیات اور احادیث کا ترجمہ شائع کرنے کی ضرورت
 
جواب:۔ اہل علم و اہل قلم مسلمانوں پر دین کی طرف سے جو علمی ذمہ داری ہے اُس کا ایک شعبہ اشاعت اسلام ہے اور دوسرا اہم شعبہ حفاظت اسلام، ان دونوں شعبوں کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے ہر دور کے موجود و سائل سے فائدہ اُٹھانا نہ صرف درست بلکہ بعض احوال میں لازم ہے۔ اسی بنیاد پر تصنیفات و تالیفات کا سلسلہ شروع ہوا۔ آج کے اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں میڈیا اہم ترین ذریعہ ہے اور میڈیا ،خصوصاً پرنٹ میڈیا، میں اخبارات ورسائل اشاعت اسلام کا مفید ترین او رمؤثر ترین ذریعہ ہے ۔ اسلئے دنیا بھر کے تمام مسلمان اپنے اخبارات کو اس کے لئے خوب استعمال کرتے ہیں۔ اخبارات میں قرآن و حدیث کے حوالے اور تشریحات اسلامی احکام کی تو ضیحات، سیرت نبوی، تاریخ اسلام، اسلام کے عقائد، مسائل، سوانح اور اسلامی علوم کے تمام شعبوں کی تحقیقات غرض کہ سب کچھ تحقیق و تفصیل سے ہوتا ہے۔
لہٰذا آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ کی توہین کے خدشہ کی بنا پر یہ تو کہا ہی نہیں جاسکتا کہ اخبارات میں اسلامی مضامین شامل نہ کئے جائیں۔ اس لئے کہ یہ اشاعت اسلام کے ایک اہم ذریعہ سے محروم ہونے پر منتج ہوگا اور جن لوگوں تک رسائی صرف انہی کے ذریعہ ہو وہ بھی محروم رہ جائیں گے ۔البتہ یہ طے ہے کہ اخبارات جو آگے چل کر ضائع ہوتے ہیں اُن میں نہ تو قرآن کریم کی آیات کا متن شائع کیا جائے اور نہ ہی احادیث شریفہ کا متن شائع کیا جائے۔ اور اگر آیات و احادیث کا حوالہ دینا ہو تو ترجمہ پر اکتفا کیا جائے۔ یہی محتاط ومتعدل طریقہ ہے۔ اس طرح یہ اہم ضرورت بھی پوری ہوگی اور آیات و احادیث کی توہین کا غیر شرعی ارتکاب بھی نہ ہوگا۔ اسلئے یہ اہل قلم حضرات اور اخبارات کے ایڈٹ کرنے والے دونوں طبقات کافریضہ ہے کہ وہ اپنے اس اہم کام کو توہین قرآن و حدیث کا ذریعہ نہ بننے دیں۔
 
سوال:۔ ماحولیاتی آلودگی کا ایک  عالمگیر مسئلہ ہے ۔اس آلودگی کی ایک قسم صوتی آلودگی بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس بارے میں تقریباً لاعلمی بھی ہے او رعملی طور پر بھی بڑی کوتائیاں ہو رہی ہیں؟ہماری مساجد کے لائوڈ اسپیکر مسلسل اس طرح چلتے رہتے ہیں کہ وہ لازماً صوتی آلودگی پیدا کرنے والی اشیاء کے زمرے میں آتے ہیں چنانچہ دیکھئے کہ جمعہ کے دین بعض مسجدوں میں پورے دن مائیک چلتے رہتے ہیںحالانکہ مسجد کے اندر بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔ ہمارے محلے کا حال یہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسجدوںمیں مائک کس کس مقصد کیلئے کتنی دیر تک استعمال کرسکتے ہیں ۔ا سلامی تعلیمات کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟
ریاض احمد میر
عید گاہ سرینگر
مساجد میں مائیک کا بے جا استعمال۔۔۔۔۔ اصلاح احوال کی ضرورت
 
جواب:۔ حدیث کی مشہو رکتاب سنن ابو دائود میں حدیث ہے کہ حضرت ابوسعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مسجد میں اعتکاف فرما رہے تھے۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کچھ لوگ اونچی آواز سے تلاو ت کررہے ہیں ۔تو آپ نے اپنے اعتکاف کے پردے کو ہٹا کر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا۔ لوگو تم لوگ اپنے رب کے ساتھ مناجات کر رہے ہو اس لئے کوئی کسی کو اپنی اونچی آوا ز سے اذیت نہ پہونچائے اور تلاوت میں کوئی شخص دوسرے سے اپنی آواز بلند نہ کرے(1332)حدیث کی دوسری کتاب مجمع الزوائد میں ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے مسجد نبوی میں ایک واعظ کو آداب وعظ سکھاتے ہوئے فرمایا کہ اپنی آواز صرف اُن لوگوں تک محدود رکھو جو تمہاری مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب دُرمختار میں ہے۔ جہری نمازوں میں امام کے لئے واجب ہے کہ وہ جماعت کی ضرورت کے بقدر آواز اونچی کرکے نما زپڑھائے۔ اگر اِس سے زیادہ اونچی آواز سے قرأت کرے گا تو اُس کو غلط کا ر کہا جائے گا۔ فقہ حنفی کی ایک دوسری کتاب خلاصقہ الفتاویٰ میں ہے۔
اگر کوئی شخص اپنے گھر کی چھت پر بلند آواز سے تلاوت کرے جس سے آس پاس کے گھروں میں سونے والوں کو خلل ہو تو وہ تلا وت کرنے والا گنہگار ہوگا۔ اس لئے کہ قرآن کی تلاوت سننے سے اعراض کا سبب یہی شخص بنے گا۔ اور اس لئے بھی گنہگار ہوگا کہ وہ اُن کی نیند خراب کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اوپر درج شدہ احادیث اور فقہی تصریحات کی روشنی میں طے ہے کہ مساجد کا مائک صرف اذان کیلئے استعمال کرنا درست ہے۔ اس لئے اذان کی آواز زیادہ سے زیادہ دور تک پہونچانا مطلوب ہے۔ اس کے علاوہ نمازوں کیلئے، وعظ کیلئے، ذکر واذکار کے لئے، نعت و مناجات کیلئے اوردینی جلسوں کیلئے صرف وہ مائک استعمال کرنے کی اجازت ہے جو مسجد کے اندر کے مسامعین کیلئے کافی ہو۔ اورمسجد سے باہر محلہ کے لئےیا جلسہ گاہ سے باہر کیلئے ہر گز مائک استعمال نہ کیا جائے اس میں کئی مفاسد ہیں۔ اگر چہ اس کو دینی ضرورت و افادیت کے خیال سے اختیار کیا جاتا ہے۔ کچھ حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد کے باہر بھی گھروں اور دکانوں میں بیٹھے ہوئے لوگ بذریعہ مائک وعظ سنتے ہیں یا تلاوت، نعت اور ذکر و اذکار سنتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ شدید قسم کا مغالطہ ہے ۔حق یہ ہے کہ ایک شخص بھی ایسا نہیں جو یہ کہے کہ میں مسجد سے ہو رہا بیان گھر یادکان میں سن کر مستفید ہوا۔ خود وہ لوگ جو باہر سننے کا گمان رکھتے ہیں اگر کبھی وہ بھی مسجد سے باہر ہوں تو وہ بھی سننے کا کام نہیں کرتے تو دوسروں کے متعلق یہ امید رکھنا سراسر غلط ہے کہ وہ سنتے ہیں۔
کبھی کہا جاتا ہے کہ گھروں میں عورتیں ضرور سنتی ہیں مگر یہ بھی خوش فہمی ہے ۔ گھروں کی خواتین اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوتی ہیں اور اُن کو خیال بھی نہیں رہتا کہ مسجد کے مائک سے کیا نشر ہو رہا ہے۔ اس پر بھی غور کیا جائے کہ اذان کے علاوہ دوسرے امور وعظ، تلاوت، مناجات اور ذکر و اذکار کیلئے مائک  کےاستعمال کا رواج صرف یہاں وادی کشمیر میں ہے، اس کے علاوہ یہ دنیا میں کہیں نہیں ہے۔ ہاں کعبہ شریف او رمسجد نبویؐ میں نمازیوں کی کثرت کی ضرورت کی بنا پر مسجد کے باہر کے لئے مائک ضرور استعمال ہوتا ہے لیکن اور کہیں نہیں ۔اس لئے اس معاملہ میں شریعت کا حکم جاننا بھی ضروری ہے اور اپنی اصلاح بھی ضروری ہے کہ مسجد کے باہر کا مائک صرف اذان کیلئے استعمال کیا جائے۔
 اس سلسلے میں مساجد کے ائمہ حضرات، جمعہ کے خطاب کرنے والے، اور مساجد کے منتظمین ذمہ دار ہیں کہ وہ مائک کے غیر شرعی استعمال سے اجتناب کریں۔ اس لئے کہ مساجد کے مائک کے اذان کے علاوہ دیگر تکلیف دہ استعمال کیخلاف زبان کھولنے سے عام مسلمان اس لئے ہچکچا تا ہے کہ اس مخالفت کو دین کی مخالفت سمجھا جائے گا۔ اس لئے اندر اندر تکدر و انقباض لے کر اور کبھی دبے لفظوں میں اور کبھی اپنی نجی مجالس میں اس پر اپنی ناراضگی اور اذیت رسانی کا اظہار کرتے رہتے ہیں لہٰذا اس کی اصلاح کی سخت ضرور ت ہے۔
……………………………….
سوال:۱-بہت سارے نوجوانوں کی حالت یہ ہے کہ اُنہیں بہت بُرے بُرے خیالات آتے ہیں ۔ میرا حال بھی ایسا ہی ہے۔ یہ خیالات اللہ کی ذات کے بارے میں ،حضرت نبی علیہ السلام کے متعلق ، ازواج مطہراتؓ کے متعلق ،قرآن کے متعلق ہوتے ہیں۔اُن خیالات کوزبان پر لانا بھی مشکل ہے ،اُن خیالات کو دفع کرنے کے جتنی بھی کوشش کرتے ہیں اتنا ہی وہ دل میں ،دماغ میں مسلط ہوتے ہیں ۔اب کیا یا جائے ؟
کامران شوکت 
بُرے خیالات: شیطان وہیں حملہ کرتاہے جہاں ایمان کی دولت ہو
جواب:۱-بُرے خیالات آنا دراصل شیطان کا حملہ ہے۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صحابیؒ نے یہی صورتحال عرض کرکے کہاکہ یا رسول اللہ ؐ میرے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں کہ اگر میں اُن کو ظاہر کروں تو آپؐ ہم کو کافر یا منافق قرار دیں گے ۔اس پر حضرت ؐ نے ارشاد فرمایا کہ واقعتاً تمہارے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں ؟ عرض کیا گیا کہ ہاں ایسے خیالات آتے ہیں۔ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ایمان کی علامت ہے ۔ عرض کیا گیا کیسے ؟تو ارشاد فرمایاچور وہاں ہی آتاہے کہ جہاں مال ہوتاہے ۔ جب ایسابُرے خیال آئیں تو باربار استغفار اور لاحول پڑھنے کا اہتمام کریں اور اپنے آپ کو مطمئن رکھیں کہ یہ آپ کا اپنا خیال ہے ہی نہیں ۔ آپ کاخیال تو وہ ہے جو آپ کی پسند کے مطابق ہو ۔ یہ خیال آپ کو نہ پسند ہے نہ قبول ہے تو اس کا وبال بھی آپ کے سر پر نہیں ہے ۔