کا دفتر ڈوڈہ سے اودھم پور منتقل NABARD

ڈودڈہ//نیشنل بنک آف ایگریکلچر اینڈ رولر ڈیولپمنٹ(نبارڈ) دفتر نے خطہ چناب کے صدرمقام ڈوڈہ میں تقریباً ۱۰ سال سے زائد عرصہ کام کیااوراس دوران اس دفتر کی کارکردگی خاصی اچھی رہی تاہم اچانک سے اس دفتر کو اودھمپور منتقل کردیاگیاہے ۔ڈوڈہ میں قیام کے دوران دفتر کی طرف سے پروجیکٹوں کی تعمیر میںبھرپور تعاون فراہم کیاگیااور سمال سکیل انڈسٹری کے تحت چھوٹے چھوٹے کاروباری افراد کو بھی مالی طور پر مدد دے کر انہیں روزگار کمانے کے قابل بنایاگیا ۔ سال 2008ء میں سابق ریاستی وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کے دور حکومت میںاس دفتر کو یہاں باضابطہ طورپر منظوری دے کر فعال بنایاگیااور اس دفتر نے باضابطہ طورپرایک عمارت کاانتخاب کرکے معاہدہ کیا مگر 11 سال کام کاج صحیح طرح سے انجام دینے کے بعد گذشتہ ہفتے یہ دفتر یہاں سے ادھم پور منتقل کیاگیا جس کے بارے میں کوئی آگاہی بھی نہیں دی گئی ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ سوال یہ ہے کہ اس دفتر کی یہاں زیادہ ضرورت تھی اس لئے کہ پورے خطہ چنا ب میں یہ دفتر کہیں موجود نہیں ہے اور جہاں اس کو لیا گیا وہاں پہلے سے ہی یہ دفتر قائم ہے ،اس دفتر کے منتقل کرنے سے یہاں چھوٹے بڑے تاجر پیشہ اور چھوٹے یونٹ قائم کرنے والے افراد مایوسی کے شکار ہیں، اس لئے کہ یہ دفتر انکے لئے مالی اعتبار سے بڑا اہم تھا۔ یہ لوگ اس دفتر سے مالی استفادہ کرتے تھے اور جس کی وجہ سے ان کا روزگار چلتاتھامگر نہ جانے کس سازش کے تحت اس کو یہاں سے ہٹالیا گیا اور کون لوگ اس کے درپرہ ہیں۔ عوامی حلقوں نے بتایا ہے کہ ایک افسرنے اس کو یہاں سے منتقل کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے جس سے کرایہ والی عمارت کے مالک مکان کے ساتھ معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔ NNBARDحکام کے اس فیصلے پر ڈودڈہ ویلفیئر سوسائٹی کے محمد اقبال بلوان، سٹیزن فورم کے محبوب احمد ٹاک ، سوشل فورم کے راجہ عنایت اللہ خان، بیوپار منڈل کے کرامت اللہ نہرو، شیڈول کاسٹ ایسوسی ایشن کے بھگت لال چند وماسٹر گیان چند، کیمسٹ ایسوسی ایشن کے شہزاد ٹاک ودیگر کئی تنظیموں نے اس پر شدید رد عمل کرتے ہوئے ناراضگی اظہار کیاہے اور معاملہ کی فوراً تحقیقات کاحکم اور ملوث افراد کے سخت کاروائی کرنے کی مانگ کی۔انہوں نے اس دفتر کو فوری طورپر ڈوڈہ واپس منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ ایک اور غیر سنجیدہ رویہ کی مثال ہے۔ اب اس تعلق سے سول سوسائٹی ممبران نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک سے اس میں ذاتی طوپر مداخلت کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیاکہ وہ اس جانب فوری طورپر توجہ مرکوز کریں اور اس دفتر کو دوبارہ ڈوڈہ منتقل کیاجائے نہیں تو یہاں کی عوام کے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہے گا۔