کاچہامہ کپوارہ میں2مکان اورشیڈ خاکستر

 

اشرف چراغ

کپوارہ// کپوارہ کے ڈوبن کاچہامہ کرالہ پورہ میں آگ کی ایک تباہ کن واردات میں دو مکانو ں سمیت 3ڈھانچے جل کر خاکستر ہوئے جسمیں لاکھو ں کی املاک راکھ کی ڈھیر میں تبدیل ہو گئی ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح ایک رہائشی مکان سے آگ نمو دار ہو ئی جس نے اپنے ساتھ ایک اور مکان اور گائو ں شیڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔دونو ں مکان لکڑی کے تھے اور انہیں خاکستر ہونے میں دیر نہیں لگی ۔

 

کرالہ پورہ سے اگر چہ فائر اینڈ ایمر جنسی کی گا ڑی آگ بجھانے کے لئے کاچہامہ پہنچ گئی تاہم بہتر سڑک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے گا ڑی وہا ں پہننچ نہ سکی جس کی وجہ سے آگ بجھانے کے کام میں کافی دقتو ں کا سامنا کرنا پڑا ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ ڈوبن تک اگرچہ سڑک رابطہ ہے لیکن وہ نہ ہونے کے برابر ہے اورجو بھی سڑکیں یہا ں تعمیر ہوئی ہیں ان کو کشادہ اور پختہ بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ سے حادثو ں کے دوران بروقت کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔آگ کی اس واردات میں دو بھائیو ں منظور احمد حجام اور محمد یو سف حجام کے لکڑی کے دو مکانات جل کر خاکستر ہوئے اور ان میں لاکھو ں روپے کی جائیدد جل کر خاکستر ہوئی ۔

 

 

آتشزدگان میں عبوری امداد تقسیم

اشرف چراغ

کپوارہ// ضلع انتظامیہ کپواڑہ نے ڈوبن کاچہامہ کرالہ پورہ کے آگ سے متاثرہ تین خاندانوں کو فوری عبوری امداد فراہم کی ہے ۔ڈپٹی کمشنر کپواڑہ ڈاکٹرڈوئیفوڈ ساگر دتاترے کی ہدایت پر انتظامیہ کی ایک ٹیم تحصیلدار کرالپورہ فردوس قادری کی سربراہی میں کاچہامہ کا دورہ کیااورمتاثرہ خاندان کو 25000 روپے کی فوری عبوری امداد کے علاوہ 3 کچن سیٹ، 3 تروپلین، 15 کمبل، 6 کپڑوں کے جوڑے، 6 بستروں کے جوڑے اور دیگر ضروری اشیا فراہم کیں۔ ڈپٹی کمشنر کپواڑہ نے املاک کے نقصان پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور انتظامیہ کی طرف سے آگ متاثرین کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔

 

ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ تحصیلدار کو جائیداد کے نقصان کا اندازہ لگانے اور ایس ڈی آر ایف کے اصولوں کے تحت راحت کے لیے کیس کی سفارش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس دوران ڈپٹی کمشنر کپواڑہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آتش گیر گھریلو اشیا، الیکٹرانک، ایل پی جی سلنڈر اور کھانا پکانے کے مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے دیگر آلات کو سنبھالتے ہوئے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تاکہ آتشزدگی کے ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔