کانگریس کی تنظیم نو | مسلمانوں کونظراندازکرناافسوسناک:ساجد ملک

یواین آئی

نئی دہلی// کانگریس کی تنظیم نو میں مسلمانوں اور شیڈولڈ ٹرائب کو نظر انداز کرنے کے فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے سماجی کارکن اور کانگریس کے سینئر لیڈر ساجد ملک نے کہاکہ کانگریس اعلی کمان کا یہ فیصلہ کانگریس کو2024 کے پارلیمنٹ کے عام انتخابات میں فتح دلانے میں کوئی مدد نہیں کرے گا ۔انہوں نے یہاں اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اور درج فہرست ذات و قبائل ہمیشہ سے کانگریس کے ووٹ بینک رہے ہیں، کرناٹک اور تلنگانہ میں کانگریس کی کامیابی میں مسلم ووٹوں کا اہم کردار رہا ہے۔ جہاں جہاں مسلمانوں کے ووٹ کانگریس کو کم پڑے وہاں کانگریس بری طرح ہار گئی۔ اس لئے کانگریس اعلی کمان کو اپنے آفس بریئر اور عہدیداروں کے انتخاب اور تقرری میں شیڈولڈ کاسٹ اور مسلمانوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس اعلی کمان نے جن 24لیڈروں کو کانگریس کی اعلی ذمہ داری سپرد کی ہے اس میں سے ایک صرف ایک کشمیری مسلمان ہے جن کا کشمیر کے علاوہ پورے ہندوستان میں کوئی خاص اثر نہیں ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ کانگریس نے ان لوگوں پر زیادہ انحصار کیا ہے کہ جن کے لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے روایتی ووٹ بینک بن چکے ہیں اور کانگریس کولوٹیا ڈبونے میں ان طبقوں کا اہم کردار رہا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کانگریس نے ان طبقوں پر زیادہ توجہ دی ہے جنہوں نے کانگریس سے بہت کچھ لیا لیکن دیا کچھ نہیں اور آڑے وقت میں کانگریس کا ساتھ چھوڑ کر فرقہ پرست پارٹیوں کے ساتھ کانگریس کی قبر کھودنے میں لگ گئے۔انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ کانگریس اعلی کمان کو عہدیداروں کی تقرر ی میں ان طبقات پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے جو ہر حال میں کانگریس سے وابستہ رہے ہیں اور آڑے وقت میں کانگریس کا ساتھ دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ تین چار فیصد آبادی والو ں کو پوری کانگریس سونپ دینا کہاں کی دانش مندی ہے اور وہ طبقہ جو مکمل طور پر کانگریس کو ووٹ دیتا ہے اسے 24میں صرف ایک جگہ دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس کے اس رویے سے ایسا لگتا ہے کہ کانگریس صرف مسلمانوں کا ووٹ تو چاہتی ہے لیکن ان کو ان کا حصہ دینا نہیں چاہتی۔