کانگریس کیساتھ اتحاد سے جموں وکشمیر کا سیاسی منظر نامہ مستحکم ہوگا نشستوں کی تقسیم پر کانگریس کے ساتھ رابطے میں:ڈاکٹر فاروق

یو این آئی

 

سری نگر// نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی انڈیا الائنس کے ایک حصے کے طور پر لوک سبھا انتخابات لڑے گی۔انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ جموں و کشمیر میں سیٹوں کی تقسیم پر کانگریس کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ان کا کہنا تھا: ‘ ملک کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے انڈیا الائنس کو مضبوط بنانا ضروری ہے’۔منگل کویہاں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ‘اگر انڈیا الائنس کو مضبوط نہیں کیا گیا تو ہم خود ملک کو مشکل میں ڈالیں گے’۔

 

انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ساتھ سیٹ شیئرنگ کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور کچھ دنوں کے اندر ہی لوگوں کو اس کے متعلق لئے جانے والے فیصلے کے بارے میں مطلع کیا جائے گا۔موصوف صدر نے کہا: ‘اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمیں کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنا ہے، عمر صاحب کانگریس کے ساتھ رابطے میں ہیں اور آنے والے کچھ دنوں کے اندر ہی فیصلہ لئے جانے کا امکان ہے’۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد سے جموں وکشمیر کا سیاسی منظر نامہ مستحکم ہوگا۔نیشنل کانفرنس کے کچھ سینئر لیڈروں کے بی جے پی میں ممکنہ طور پر شامل ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا: ‘لوگ آتے جاتے رہیں گے یہ کوئی نئی بات نیں ہے،کچھ بی جے پی میں شامل ہوں گے کچھ بی جے پی کو چھوڑ دیں گے، یہ الیکشن کا ایک حصہ ہے اس سے ہماری پارٹی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا’۔بی جے پی کے اس دعوے کہ نیشنل کانفرنس آنے والے لوک سبھا انتخابات میں تمام تین سیٹوں جن پر ان کا قبضہ ہے، کو ہارے گی، کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا: ‘یہ لوگوں پر منحصر ہے’۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کو بھی جلدی منعقد کیا جائے۔انہوں نے کہا: ‘بد قسمتی کی بات ہے کہ پارلیمانی انتخابات منعقد کئے جا رہے ہیں لیکن اسمبلی انتخابات نہیں’۔اس موقع پر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ سیٹوں کی تقسیم کے بارے میں دہلی میں کانگریس کے ساتھ بات چیت کا ایک مرحلہ ہوا۔انہوں نے کہا: ‘پہلے مرحلے میں کانگریس نے کچھ تجاویز پیش کی تھیں جن پر ہماری پارٹی کے اندر بحث کرنے کی ضرورت تھی، ان تجاویز میں سے ایک تجویز کو پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے قبول نہیں کیا، لہذا اب کانگریس کے ساتھ بات چیت کا دوسرا دور ہوگا’۔عمر عبداللہ نے کہا: ‘جیسا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ تین سیٹیں نیشنل کانفرنس کے پاس ہی ہیں اس لئے صرف تین سیٹوں جموں، اودھم پور اور لداخ پر بات کرنی ہے’۔انہوں نے کہا: ‘ان سیٹوں پر بات کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے مجھے یقین ہے بات چیت کے دوسرے دور میں ہم ایک نتیجے پر پہنچیں گے’۔بتادیں کہ سال 2019 میں دفعہ 370 کی تنسیخ اور جموں وکشمیر کو دو یونین ٹریٹریوں میں منقسم کرنے سے قبل جموں وکشمیر کو 6 لوک سبھا سیٹیں تھیں۔اب جموں وکشمیر کو 5 جبکہ لداخ یونین ٹریٹری کو ایک لوک سبھا سیٹ ہے۔گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے 3 سیٹیں جبکہ بی جے پی نے بھی تین سیٹیں حاصل کی تھیں۔