کانگریس کا جموں میں حد بندی کمیشن کے خلاف احتجاج

جموں// جموں وکشمیر پردیش کانگریس کے سینئر لیڈروں اور کارکنان نے جموں میں حد بندی کمیشن کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کئے اور الزام لگایا کہ کمیشن کا دورہ جموں وکشمیر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
 
جموں وکشمیر کانگریس یونٹ نے حد بندی کمیشن کے خلاف یہاں احتجاجی مظاہرئے کئے اور دفتر کے باہر پُر امن دھرنا دیا۔
 
کانگریس کے جموں وکشمیر یونٹ کے صدر غلام احمد میر نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہا کہ جس طرح سے حد بندی کمیشن نے لوگوں کے اعتراضات کو درکنار کیا وہ ناقابل برداشت ہے اوراس کے خلاف آج ہم پُر امن احتجاج کر رہے ہیں۔
 
انہوں نے بتایا کہ کمیشن کی ڈرافٹ رپورٹ لوگوں کے توقعات کے برعکس ہے ۔
 
اُن کے مطابق حد بندی کمیشن نے دو سال کے عرصے میں ایک ڈرافٹ رپورٹ تیار کی حالانکہ سپریم کورٹ رولنگ کے مطابق اسمبلیوں کی حد بندی سال 2026 میں ہونا تھی ۔
 
انہوں نے کہاکہ دو سال کے بعد کمیشن نے جو رپورٹ تیار کی وہ سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ جموں وکشمیر کی جو تھوڑی سی پہچان بچی تھی کمیشن نے اُس کو بھی ختم کرنے کا کام کیا ہے۔
 
 
جی اے میر نے بتایا کہ حد بندی کمیشن کی جانب سے ایسو سی ایٹ ممبران کے ساتھ بھی میٹنگ کی گئی لیکن کمیشن نے بھاجپا کی ایماء پر رپورٹ تیار کی ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ پیر کے روز کمیشن کے اراکین جموں میں لوگوں کے وفود سے ملاقی ہو رہے ہیں لیکن حد تو یہ ہے کہ جموں کے سبھی اضلاع کے شہریوں اور سیاسی پارٹیوں کو اپنے اعتراضات پیش کرنے کی خاطر صرف دو گھنٹے کا وقت دیا گیا جو ناقابل برداشت ہے۔
 
انہوں نے کہاکہ دو گھنٹے میں کمیشن کس کس کی سنے گا ایسا لگ رہا ہے کہ کمیشن کے اراکین لوگوں کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔
 
جی اے میر کے مطابق کانگریس نے اس سے قبل بھی اپنے اعتراضات کمیشن کے سامنے پیش کئے لیکن اُن کی اور کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
 
انہوں نے بتایا کہ اس کمیشن نے جوڑنے کے بجائے ضلعوں کی توڑ پھوڑ کاکام کیا اور اس طرح سے جموں وکشمیر کی جو شناخت بچی ہوئی تھی اُس کو بھی ختم کیا گیا ۔
 
انہوں نے الزام لگایا کہ کمیشن بھاجپا کے اشاروں پر کام کر رہا ہے اور اُن ہی کے کہنے پر رپورٹ بھی تیار کی گئی ہے۔