کانگریس کا این سی ، پی ڈی پی اور بھاجپا کو شکست دینے کا دعویٰ

بانہال // سینئر کانگریس لیڈرو سابقہ وزیر مملکت وقار رسول نے حلقہ انتخاب بانہال کے چار بلاکوں میں اختتام پر پہنچے پنچایتی الیکشنوں کے بعد بانہال میں واقع اپنی رہائشی دفتر پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس جماعت حلقہ انتخاب بانہال کے بانہال ، کھڑی ، ا±کڑال پوگل پرستان اور رامسو بلاکوں میں سب سے بڑی جماعت ابھر کر پھر سامنے آئی ہے اوراب تک 66 سرپنچوں میں سے کانگریس کے 44 سرپنچوں نے کامیابی درج کی ہے جبکہ سنگلدان بلاک کے سمبڑھ کی تین پنچایتوں پر یکم دسمبر کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں اور وہاں بھی تینوں سیٹوں پر کانگریس کو کامیابی کی پختہ امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کا نفرنس اور پی ڈی پی کے مقامی لیڈر سوشل میڈیا پراسمبلی حلقہ بانہال سے بھاری جیت کا دعویٰ کرکے لوگوں کوگمراہ کر رہے ہیں اسی معاملہ کو مدنظر رکھ کر کانگریس پنچایتی الیکشن کے مکمل ہونے کے بعد تمام سرپنچوں کو لیکر بانہال میں ایک جلسہ عام کرنے والی ہے تاکہ کانگریس اپنے دعوے کو پچاس سے زائد سرپنچوں اورسینکڑوں پنچوں کی موجودگی میں صیح ثابت کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ہی بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کا چیئرمین بنائے گی اور آنے والے انتخابات میں کانگریس کی بڑی جیت درج ہوگی۔ ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی اور بھاجپا کی ملی بھگت اور گٹھ جوڑ کے باوجود بھی ان کے حمایتی پنچوں اور سرپنچوں کو کانگریس کے ہاتھوں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور لوگوں نے میونسپل صدر سے لیکر اب تک ا±ن کی طرف سے بانہال حلقہ انتخاب کے تمام علاقوں اور شہر و گام کی یکساں تعمیر ترقی کو مد نظر رکھ کر لوگوں نے کانگریس کوبھاری اکثریت میں ووٹ دیکر کامیاب کیا ہے اور کانگریس نے ستر فیصدی سے زائد ووٹ حاصل کئے ہیں ، جبکہ کچھ گنڈ عدلکوٹ ، لامبر سمیت کئی پنچایتوں میں ہمارے سرپنچ چند ووٹوں کے فرق سے ہارے ہیں جبکہ ہماری لاپرواہی کی وجہ سے چند سیٹیں ہم ہار گئے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے لیڈران بلدیاتی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے حمایتی تھے لیکن وہ بانہال میں اپنے وارڈوں کو بھی نہ بچا سکے جبکہ نیشنل کانفرنس کا بلاک صدر ا±کڑال اپنی اہلیہ کی سرپنچ سیٹ کل ہی کانگریس کے امیدوار سے ہار گئے ۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل انتخابات میں تمام سات وارڈوں پر کانگریس کی طرف سے کامیابی کےساتھ شروع کیا گیا کامیابیوں کا سفر پنچایتی الیکشنوں میں لوگوں کی مدد سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بانہال ، کھڑی ، رامسو اور پوگل پرستان بلاکوں میں کانگریس نے عام لوگوں اور کارکنوں کی انتھک محنت اور مدد سے زبردست کامیابی حاصل کی ہے اور اب تک 69 سرپنچوں میں سے 66 پر الیکشن ہوچکے ہیں اور ان 66 میں سے 44 پر کانگریس کے سرپنچ جیت گئے ہیں ( ان میں سے ایک پنچایت نرتھیال رام بن کا حصہ ہے جبکہ سمبڑھ کی تین پر ابھی الیکشن ہونے ہیں )۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کئی آزاد سرپنچ ان کی پارٹی میں آنا چاہتے ہیں اور کام کرنے والوں کو کانگریس میں لیا جا ئیگا اور یہ تعداد پچاس سے تجاوز کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ میو نسپل ،پنچایتی الیکشنوں کے بعد کانگریس کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگانے والی نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو زبردست شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے اور انہیں چلینج دیا جاتا ہے کہ وہ بھی اپنے فیس بک اور انٹرنیٹ پر دکھائے جارہی تعداد کوعملی طور ظاہر کریں جیسا کہ کانگریس ہفتہ دس دن میں اپنے دعوے کو سچ ثابت کرکنے کیلئے کامیاب سرپنچوں کا ایک اجلاس بانہال میں طلب کرنے والی ہے۔ ایک سوال کے وجواب میں انہوں نے کہا کہ بھاجپا ، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے بھی بانہال ، کھڑی اور پوگل پرستان میں کئی سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے لیکن کانگریس کے مقابلے تین چار سیٹیں حاصل کرنے والی یہ جماعتیں کانگریس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتی ہیں اور وہ تینوں جماعتیں دس سیٹوں تک محدود ہو کر رہ گئیں اور دو بلاکوں میں نیشنل اور پی ڈی کھاتہ نہیں کھول سکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئیندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس ہیٹ ٹرک کرکے کامیابی حاصل کرے گی اور نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی اور بھاجپا کا صفایا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تینوں پارٹیاں اب زمینی سطح کے بجائے سوشل میڈیا تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہیں اور لوگوں کو جھوٹے پروپگنڈے سے گمراہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوگل پرستان اور بانہال کے چند علاقوں میں پچھلے اسمبلی الیکشن میں کانگریس کو کم لوگوں نے سپورٹ کیا تھا لیکن اس بار بنگارہ ،پوگل اور بانہال سمیت کئی بڑے علاقوں نے کانگریس کو اپنا اعتماد دیا ہے اور کانگریس ان کمزور جگہوں پر کامیاب ابھری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا ایجنڈا ملکی سطح کا ہے اور میرا اپنا منشور تعمیر وترقی کے دور کو آگے بڑھانا ہے اور ان کاموں کو مکمل کرنا ہے جو ابھی تک مکمل نہیں کئے جا سکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ غریب علاقوں ، غریب عوام ، بیواووں ، یتیموں اور محتاجوں کی تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کا سلسلہ جاری رہے گا اور یہ آئندہ بھی ترجیحات میں شامل رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل چیئرمین کے بعد اب پنچایتی انتخابات میں بھی کانگریس ہی بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کا چیئرمین بنائے گی اور پوری ریاست میں کانگریس بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی۔