کانگریس پارٹی کی سرینگر میں سر جوڑ کر طویل مشاورت

 سرینگر//کانگریس نے حکومت سازی کی تمام قیاس آرائیوں کے غبارے سے ہوا نکالتے ہوئے پی ڈی پی کے ساتھکسی بھی طرح کے اتحادکو خارج ازامکان قرار دیا۔ریاست میں مخلوط سرکار کے خاتمے اور سیاسی چہ میہ گوئیوں کے بیچ کانگریس کے پالیسی ساز گروپ کی طرف سے پیر کو دہلی میں ہنگامی میٹنگ کے بعد منگل کو سرینگر میں پارتی لیڈران کی میٹنگ منعقد ہوئی،جس میں پارٹی کے قانون سازیہ ممبران کے علاوہ سابق وزراء،سابق ممبران قانون سازیہ،پارٹی کی اعلیٰ لیڈر شپ کے علاوہ غلام نبی آزاد،امبیکا سونی،پروفیسر سیف الدین سوز،غلام احمد میر کے علاوہ دیگر لوگوں نے شرکت کی،تاہم بتایا جاتا ہے کہ طارق حمید قرہ میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ ذرائع کے مطابق شام دیر گئے تک جاری میٹنگ کے دوران پارٹی لیڈران نے اعلیٰ لیڈرشپ کو اپنی آراء سے واقف کرایا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں مخلوط سرکار کے خاتمے کے بعد ریاست میں پیدہ شدہ صورتحال کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا،اور لیڈران سے انکی آراء حاصل کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ میں حکومت سازی کے تمام زاویوں پر غور کیا گیا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کانگریس کی مرکزی ہائی کمان ریاست لیڈروں سے زمینی صورتحال ،اور انکی آراء حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لینا چاہتی ہے۔ ادھر میٹنگ کے وسط میں ہی کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پارٹی کسی بھی صورت میں اس مرحلے پر حکومت سازی میں شریک نہیں ہوگی۔ میر کا کہناتھا ’’ موجودہ صورتحال میں کانگریس کے تعائون سے نئی حکومت سازی ممکن نہیں ‘‘ ۔انہوں نے کہا ’ کانگریس پارٹی جموں وکشمیر میں لمبے عرصے تک گور نر راج کے حق میں نہیں‘ ۔میرنے کہا کہ عوامی حکومت ریاستی عوام کا حق ہے ،تاہم زمینی سطح پر بہتر صورتحال ناگزیر ہے ،تاکہ سیاسی اور جمہوری عمل میں لوگ بہ آسانی حصہ لیں سکیں ۔ کا نگریس پارٹی کی جنرل سیکرٹری اور کشمیر امور کی انچارج امبیکا سونی نے سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ریاست میں 4برس تک اقتدار پر براجمان رہتے ہوئے کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا ’’ کانگریس پارٹی نے مرکزی و ریاستی سطح پر بی جے پی کو اپنی کارکردگی پیش کرنے کو کہا  ہے جس کا جواب ہمیں ابھی تک موصول نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کو واضح کردینا چاہیے کہ انہوں نے ریاست میں پی ڈی پی کے ساتھ کن نکات کے تحت اتحاد عمل میں لایا اور ان 4برسوں کے دوران انہوں نے لوگوں کے لیے کیا کچھ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پوچھنے کے باوجود بی جے پی مرکز اور ریاست میں اپنی کارکردگی کو پیش کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی۔ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل دیر شام گئے سرکٹ ہاوس سرینگر میں سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کی صدارت میں ایک اور میٹنگ بھی منعقد ہوئی،جس میں کچھ چنیدہ لیڈروں نے شرکت کی۔