کانگریس نے سوسال تک اقتدار میں نہ آنے کی ٹھان لی ہے

نئی دہلی//وزیراعظم نریندر مودی نے صدی کی سب سے شدید وبا کووڈ 19 میں اپوزیشن کے ذریعہ مسلسل منفی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کل کہا کہ کانگریس نے شاید ٹھان لیا ہے کہ آنے والے سو سال تک اقتدار میں نہیں لوٹنا ہے ۔مسٹر مودی نے لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تجویز کا جواب دیتے ہوئے اپوزیشن پر کورونا کے دور میں مسلسل حکومت کو بدنام کرنے کے لئے عوام کو بحران میں ڈالنے کا الزام لگایا۔سب سے پہلے لتا منگیشکر کے انتقال پر انہون نے خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہم دوسری جنگ عظیم کے بعد بنے جس عالمی نظام میں جی رہے ہیں لیکن دو سال سے دنیا اس وبا کا سامنا کررہی ہے ،اس میں دکھائی دے رہا ہے کہ ہم ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ایسے موڑ پر ہندوستان کو موقع گنوانا نہیں چاہئے اور ہندوستان کی آواز بلند رہنی چاہئے ۔وزیر اعظم مودی نے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران کانگریس پر جم کر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ انگریز چلے گئے لیکن کانگریس تقسیم کرو اور راج کرو کی پالیسی نہیں چھوڑ رہی ہے۔ تقسیم کی پالیسی اس کے ڈی این اے میں داخل گئی ہے۔ اس لئے کانگریس ٹکڑے ٹکڑے گینگ کی لیڈر بن گئی ہے۔ کانگریس نے تمل جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی۔ کانگریس کی روایت اب توڑو اور راج کرو کی ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس ایسے بیج بو رہی ہے جس سے علاحدگی پسندی کو تقویت ملے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ملک ایک تھا، ایک ہے اور ایک رہے گا اور اسی یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔آزادی کے 75 سال پورے ہونے کے بعد ملک جس امرت دور میں داخل ہورہا ہے ،اس کے بعد صد سالہ تقریب میں ملک کو اس مقام پر پہنچانا چاہئے ۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں ہندوستان نے کئی شعبوں میں مضبوطی کا تجربہ کیا ہے ۔ غریبوں کو گھر ملنے سے وہ اب لکھپتی کہلانے لگے ہیں۔ہندوستان کو فخر ہے کہ اس کے گاؤں کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہوگئے ہیں۔آزادی کے بعد غریب کے گھر بجلی کی روشنی سے ملنے والی خوشی ملک کو طاقت دے رہی ہے ۔غریب کے گھر گیس کنیکشن ،بینک کھاتہ،ہوگیا۔کھاتے میں سیدھے پیسہ آرہے ہیں۔انہوں نے اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے کہا،‘‘اگر آپ زمین سے جڑے ہوتے تو آپ کو یہ ضرور نظر آتا۔بدقسمتی ہے کہ آپ میں سے متعدد لوگون کا سوئی کانٹا ابھی تک 2014 پر اٹکا ہوا ہے ۔ باہر نہیں نکل رہا ہے ۔آپ خود میں ایسی ذہنیت میں جکڑے ہیں۔ کچھ لوگ آپ کو پہچان چکے ہیں ،کچھ جلد ہی پہچان لیں گے ۔جب آپ نصیحت دیتے ہیں تو آپ بھول جاتے ہیں کہ 50 سال آپ کو بھی اقتدار میں بیٹھنے کی خوش قسمتی ملی ہے ۔آپ سوچ نہیں پاتے ہیں کہ آخر ناگالینڈ میں 1998 کے بعد،اوڈیشہ نے 1995 کے بعد ،گوا میں 1994 کے بعد،تریپورہ میں 1988 کے بعد ،مغربی بنگال میں 1962 کے بعد ،اترپردیش بہار اور گجرات میں 1988 کے بعد سے آپ اقتدار میں کیوں نہیں لوٹے ۔انہوں نے کہا ،‘‘سوال نیت اور نیک دلی کا ہے ۔اتنے بڑے جمہوریت میں ملک کے عوام آپ کو ہمیشہ کے لئے مسترد کررہی ہے ۔اگر ہم (بی جے پی) ایک الیکشن ہار جائیں تو آپ کا ایکوسسٹم نا جانے کیا کیا نہیں کہہ جاتا ہے ۔لیکن آپ اتنے الیکشن ہارتے جارہے ہیں لیکن تکبر جاتا ہی نہیں۔ ایکوسسٹم جانے نہیں دیتا۔مسٹر مودی نے شاعری کا جواب شاعری سے دیتے ہوئے کہا‘‘وہ دن کو رات کہیں تو فوراً مان جاؤ،نہیں مانوگے تو دن میں نقاب اوڑھ لیں گے ’’ضرورت ہوئی تو حقیقت کو تھوڑا توڑمروڑ لیں گے وہ مغرور ہیں خو د کی سمجھ پر بے انتہا ،انہیں آئینہ مت دکھاؤ ،وہ آئینہ بھی توڑ ڈالیں گے وزیراعظم نے کہا کہ ہم سب تہذیب برتاؤ نظام سے صدیوں سے جمہوری کے تئیں عہد بستا ہیں۔تنقید جمہوریت کا زیور ہے ۔لیکن اندھی مخالفت ،جمہوریت کی توہین ہے ۔ سب کی کوشش سے ہندوستان نے جو حاصل کیا اسے کھل کر قبول کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے انسان سب سے بڑی وبا کو جھیل رہے ہیں۔کئی لوگ جو صرف ہندوستان کو نیچی نگاہ سے دیکھتے ہیں،انہیں لگتا تھا کہ شاید ہندوستان اتنی بڑی لڑائی نہیں لڑ پائے گا۔لیکن آج میڈ ان انڈیا کووڈ ٹیکے دنیا میں سب سے موثر ہیں۔ہندوستان صدفیصد پہلی خوراک کے قریب پہنچ گیا ہے اور 80 فیصد دوسری خوراک کے نشانے کو پار کرلیا گیا ہے ۔