کانگریس بے ہمت،بھاجپاباہمت:امت شاہ/سبھی کیلئے شہریت کو ثابت کرنا آسان نہیں :آزاد

  روہنگیا مسلمان غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث،اعداد و شمار جمع کر کے انہیں واپس بھیجا جائے گا: رججو

نئی دہلی//کے این این/پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا 9ویں دن منگل کے روز لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما ملکارجن کھڑگے سمیت کانگریس کے2 دیگر ارکان پارلیمنٹ نے این آر سی معاملہ پر بحث کیلئے تحریک التوا کا نوٹس پیش کیا۔ وہیں ٹی ایم سی نے اس معاملہ پر بحث کرانے کیلئے راجیہ سبھا میں تحریک التوا کا نوٹس پیش کیا۔ گذشتہ روز این آر سی معاملہ پر ہنگامہ کی وجہ سے راجیہ میں کام کاج پوری طرح ٹھپ رہا تھا۔راجیہ سبھا میں آج کی کارروائی کا آغاز ہونے پر بھی جب حزب اختلاف کے رہنما این آر سی پر بحث کرائے جانے کو لے کر بضد رہے تو آخر کار حکومت نے اس کی اجازت دے دی۔ کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق منگل کی صبح راجیہ سبھامیں بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہمارے ملک سے ذات-مذہب کی بنیاد پر کسی شخص کو باہر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ انسانی حقوق سے وابستہ ہے اور جن لوگوں کے نام این آر سی میں شامل نہیں ہیں, ان کی تعداد محض 40 لاکھ نہیں بلکہ یہ خاندانوں کی تعداد ہے۔ لوگوں کی تعداد کل ملا کرایک کروڑ2لاکھ نفوس پرمشتمل ہے۔آزاد نے کہا کہ این آر سی ثابت کرنے کی ذمہ داری صرف فرد پر نہیں بلکہ حکومت پر بھی ہونی چاہئے۔ سبھی کیلئے شہریت کو ثابت کرنا آسان نہیں ہے اور لوگوں کو اس کے لئے قانونی امداد بھی ملنی چاہئے۔ کسی کے ساتھ زبردستی نہیں ہونی چاہئے۔ 16 ثبوتوں میں سے کوئی ایک بھی مل جائے تو اسے قبول کر لینا چاہئے۔راجیہ سبھا میں امت شاہ کے بیان پر زبرست ہنگامہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ این آر سی بنانے کا کام پہلے سے طے تھا لیکن کانگریس میں جرات نہیں تھی، ہم نے ہمت دکھائی۔ امت شاہ کے اس بیان پر حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ نے ویل میں آکر نعرے بازی کی۔ جواب میں بی جے پی کے ارکان بھی شور و غل کرنے لگے۔ چیئرمین نے سبھی سے خاموش ہونے کی اپیل کی۔ آخر میں انہیں راجیہ سبھا کی کارروائی کو دن بھر کے لئے ملتوی کر دینا پڑا۔بی جے پی رکن پارلیمنٹ امیت شاہ نے کہا کہ کسی بھی رہنما نے این آر سی کا بنیادی ایشو نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں تحریک چلائی گئی اور1985میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے آسام اکورڈ بنایا تھا۔امت شاہ نے مزید کہا کہ غیر قانونی دراندازوں کو پہچان کر انہیں علیحدہ کرنے کے لئے این آر سی بنایا جائے گا ،یہ پہلے سے ہی طے تھا۔ انہوں نے کانگریس ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کرنے کی آپ میں ہمت نہیں تھی لیکن ہم میں ہمت ہے اور ہم نے یہ کر کے دکھا دیا۔ شاہ نے حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ سے پوچھا کہ40 لاکھ دراندازوں کو کون بچانا چاہتا ہے!۔شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ اروند ساونت نے لوک سبھا میں روہنگیا پناہ گزینوں اور مہاجروں کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ پہلے لوگوں کو ووٹنگ کا حق دیا گیا تھا اور اب ان سے چھینا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے سوال کیا کہ اب تک کتنے روہنگیا مسلمانوں کو واپس میانمار بھیجا گیا ہے۔اس سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ روہنگیا مسلمان پناہ گزین نہیں ہیں بلکہ غیر قانونی طرقہ سے سرحد پار کر کے آئے درانداز ہیں اور انہیں کوئی بھی حقوق حاصل نہیں ہیں، اعداد و شمار جمع کر کے انہیں واپس بھیجا جائے گا۔وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو نے کہاکہ ریاستوں سے کہا جا چکا ہے کہ روہنگیا کو کوئی بھی قانونی دستاویز فراہم نہ کیا جائے۔‘‘ رجیجو نے کہا کہ روہنگیا مسلمان غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں لیکن تفصیلی معلومات یہاں دینا مناسب نہیں ہے۔آسام شہریت معاملہ پر جاری این آر سی ڈرافٹ کو لے کر کانگریس اور ٹی ایم سی نے لوک سبھا میں تحریک التوا کا نوٹس پیش کیا ہے۔ کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری یہ نوٹس پیش کیا۔گذشتہ روز بھی حزب اختلاف نے یہ ایشو پارلیمنٹ میں اٹھایا تھا۔ اپوزیشن کا مطابلہ ہے کہ وزیر اعظم اس معاملہ پر جواب دیں۔ٹی ایم سی کی جانب سے رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے لوک سبھا میں تحریک التوا کا نوٹس پیش کیا اور اس پر بحث کرانے کا مطابلہ کیا۔اْدھرپارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے قبل بی جے پی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا گیا۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی، امت شاہ، لال کرشن اڈوانی، راج ناتھ سنگھ اور نتن گڈکری سمیت متعدد پارٹی ارکان پارلیمنٹ موجود رہے۔