کانگریس اور پی ڈی پی کو بانہال کے لوگوں نے مسترد کر دیا

 بانہال // سینئر نیشنل کانفرنس لیڈراورضلع صدررام بن سجاد شاہین نے بانہال میں پارٹی دفتر پر ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جہاں درجنوں کی تعداد میں سینئر لیڈر اور کامیاب ہوئے کئی سرپنچ موجود تھے۔ اس موقع پر سجاد شاہین نے کہا کہ پنچایتی انتخابات کے بعد کانگریس اور پی ڈی پی پنچایتی انتخابات میں اپنی ہار کو جھوٹ اور فریب کے ذریعے جیت میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر وہ حیرت زدہ ہیں اور اس جھوٹ کو للکارنے اور عوام کو باخبر بنانے کیلئے ہی وہ پریس سے مخاطب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دس بارہ سالوں سے سیاسی نا انصافیوں اورعدم توجہی کا شکار ہوئے لوگوں نے پنچایتی انتخابات میں کانگریس اور پی ڈی پی کو حلقہ انتخاب بانہال میں یکسر مسترد کردیا ہے اور نیشنل کانفرنس کیلئے عوام کی حمایت میں بھاری اضافہ ہوا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس کے سابقہ ممبر اسمبلی وقار رسول اور پی ڈی پی لیڈر بشیر احمد رونیال میڈیا اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپگنڈہ کرکے اپنی ناکامی کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور انہیں لوگوں نے مسترد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ کے باوجود بھی نیشنل کانفرنس کے بنیادی حمایتیوں اور مظلوم عوام نے کانگریس اور پی ڈی پی کے خلاف ووٹ دیکر حلقہ انتخاب بانہال سے اْن کا صفایا کیا ہے اور اگر نیشنل کانفرنس میدان میں ہوتی تو ان کی حالت مزید خراب ہوتی۔ انہوں نے دعویٰ کہا کہ ہارے ہوئے امیدواروں کو مالائیں ڈال کر زمینی حقائق کو بدلا نہیں جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی انتخابات میں کانگریس کی طرف سے بانہال ، کھڑی ، پوگل پرستان ، اور رامسو بلاکوں میں سرکاری مشینری اور رقومات کا بے تحاشہ استعمال کرنے کے باوجود ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور گنڈ عدلکوٹ بانہال سے ممبر اسمبلی کے دست راست اور کانگریس لیڈر محمد امتیاز کھانڈے کا بھائی ہار گیا ہے جبکہ اپنے آبائی علاقہ پوگل پرستان میں پی ڈی پی لیڈر بشیر احمد رونیال کو سولہ سیٹوں میں سے محض ایک سیٹ پر بہت کم ووٹوں سے کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانہال ، کھڑی ، رامسو، نیل اور پوگل پرستان میں کانگریس اور پی ڈی پی کو چند سیٹیں ہی ملی ہیں جبکہ پوگل پرستان میں نیشنل کانفرنس کا مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے تھا اور وہاں کانگریس تیسرے نمبر پر رہی۔ انہوں نے کہ بانہال ، کھڑی ، رامسو بشمول نیل اور پوگل پرستان میں کانگریس سمٹ کر بیشتر سیٹیں ہار گئی ہے جبکہ پی ڈی پی پورے حلقہ انتخاب سے محض چند سیٹوں پر کامیاب ہوکر بیشتر جگہوں سے مکمل طور سے ختم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ کانگریس اور پی ڈی پی کا بانہال حلقہ انتخاب سے صفایا ہوگیا ہے جبکہ نیشنل کانفرنس بڑی جماعت کی صورت میں ابھرآئی ہے اور نیشنل کانفرنس کے حامیوں اور عام لوگوں نے دونوں جماعتوں کی زیادتیوں اور نا انصافیوں کے بدلے میں انکو سبق سکھایا ہے جس کی جانکاری خفیہ ایجنسیوں کے پاس بھی ہے۔ سجاد شاہین نے کہا کہ کانگریس کی طرف سے لوگوں میں سرکاری پائپیں ، بجلی کے کھمبے اور واٹر ٹینکیاں تقسیم کرنے کے باوجود بھی کانگریس بیشتر جگہوں سے ہار گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو اپنے جھوٹ اور فریب سے گمراہ کر رہے ہیں لیکن پچھلے بارہ سالوں سے ظلم وستم سہنے والے لوگ اب اس بہکاوے میں انے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی آزاد امیدوار جیت کر سامنے آئے ہیں جن میں بانہال ، رامسو وغیرہ سے کئی پڑھے لکھے اور باصلاحیت افراد سرپنچ اور پنچ بن کر ابھرے ہیں جنہیں نیشنل کانفرنس کی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ آنیو الے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نہ صرف بانہال میں بلکہ پوری ریاست میں اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی اور اس کی تصدیق ایگزیٹ پول میں اْن ٹیلویڑن چینلوں نے کی ہے جو صدا نیشنل کانفرنس کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔