کامیاب معاشرے کے لئے’تعلیم ِنسواں‘ ضروری

مردوں کی تعلیم ضروری تو ہے مگر
  پڑھ جائے جو خاتون تو نسلیں سنوار دے
 مفکرین کی رائے میں ’’مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے،جبکہ عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہے۔‘‘  
میں اس رائے سے اتفاق رکھتی ہوںاور شاید آپ بھی۔مگر معاشرہ کے جولوگ اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتے،وہ خواتین کے لیے بد خواہی کاپیش خیمہ بن رہے ہیں۔عورت اس کائنات کا جمال و شاہکار اور دلکش وجود ہے۔وہ گردش لیل ونہار کا ایک حسین اور کیف آور نغمہ ہے، جس کے دم سے حیات قائم ہے ۔عورت کے بغیر انسانی نسل کا استحکام اور نشوونمانا ممکن ہے ۔بقائے حیات و معاشرے کا قیام واستحکام ،جسمانی وروحانی آسودگی عورت ہی کے باعث ہے۔عورت بیوی کی صورت میں خلوص ،وفاداری اور چاہت کا حسین افسانہ ہے ۔عورت بہن کی شکل میں اللہ تعا لیٰ کی بہترین نعمت ہے تو بیٹی کے روپ میں خدا کی رحمت ہے۔سچ تو یہ ہے کہ عورت انسانیت کی عزت ہے۔مذہب اسلام نے عورت کو برابر مقام و مرتبہ وعطا فرما کر اسکی حیثیت متعین کر دی ہے۔
      تاریخ مذاہب کے مطالعہ سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو تخلیق فرما کر جنت میں ٹھہرایا ۔حضرت آدم ؑ نے تمام نعمتوں کے موجود ہونے کے باوجود تنہائی و کمی محسوس کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت حواؑ کو پیدا فرمایا،گویا عورت کا وجود کائنات کی تکمیل کرتا ہے۔
      تعلیم نسواں ’’دو الفاظ کا مرکب ہے ،تعلیم اور نسواں‘‘ تعلیم کا مطلب ہے ’ علم حاصل کرنا ‘ ۔نسواں’نسا‘ سے ہے ،جس کا مطلب ہے عورتیں۔گویا تعلیم نسواں سے مراد عورتوں کی تعلیم ہے۔علم اور تعلیم دونوں کی اہمیت اپنی اپنی جگہ مسلم ہے۔احادیث میں ہےکہ ’’علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘اور ’’گود سے گور تک علم حاصل کرو‘‘۔                      
      علم دلکش داستان اور بے مثال کہانی ہے ،یہ لا محدود موضوع ہے،ایک جامع مضمون ہے جو ہر شے کے پہلو کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔یہ وہی طاقت و قوت ہے جس نے دربار خدا وندی میں انسان کی فضلیت فرشتوں پر ثابت کی ہے۔علم ایک لا زوال دولت ہے جوتقسیم کرنے سے کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہے۔یہ وہ روشنی ہے جو جہالت کی تاریکی کو مٹاتی ہے ۔یہ وہ زرخیز زمین ہے جس کے پھولوں اور پھلوںکی کوئی گنتی ،کوئی شمار نہیں ۔یہ وہ سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ۔یہ وہ طاقت ہے جوانسان کو خود شناسی اور خدا شناسی سکھاتی ہے۔علم کا عمل تعلیم سے مکمل ہوتا ہے،تعلیم کے ذریعے ایک نسل اپنا تہذیبی اور تمدنی ورثہ دوسری نسل کو منتقل کرتی ہے۔اس مقصد کے لیے ہر سوسائٹی اپنے تہذیبی مسائل اور تمدنی حالات کے مطابق ادارے قائم کرتی ہے اور ہر ادارے کی اپنی بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ وہ قوم اور ملک کی توقعات پر پورا اُترے ۔لیکن ایک چیز سب میں مشترک ہے کہ نہ صرف پچھلی نسل اگلی نسل کو اپنے سارے تجربات منتقل کرتی ہےبلکہ پوری انسانیت کے تجربات اور علوم پوری طرح منتقل کرتی ہے تاکہ ا قوام عالم کے شانہ بشانہ زندگی کی دوڑ میں شریک ہوا جا سکے۔مذہب ِاسلام کو دیگر مذاہب کے مقابلے میں ایک امتیاز یہ بھی حاصل ہے کہ حصول علم پر ہر ممکن زور دیتا ہےاور یہ مذہب مرد کی طرح عورت کے لیے بھی تعلیم کا حصول لازم قرار دیتا ہے۔’’  علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت  پر فرض ہے ‘‘۔ (صحیح بخاری)
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام فرمایا ہے۔ محمد صلی اللہ وعلیہ وسلمنے ایک دن عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی مخصوص فرما رکھا تھا ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ سے دین کی تعلیم عورتوں تک بھی پہنچتی رہی ۔
       بد قسمتی سے اسلامی تعلیمات کی ادھوری تفہیم اور انہی معاشرتی رسوم و رواج میں خلط ملط کرنے کے باعث خواتین کو ماضی میں علوم کے ذرائع تک آزادانہ رسائی کا حق حاصل نہیں رہا ۔جسکی وجہ سے وہ نسل در نسل زیور تعلیم سے محروم رہیں اور اگر انھیں گھر میں بھی دین کی تعلیم دی گئی تو وہ بھی اس معیار کی نہ تھی، جس سے دین اسلام کا صحیح مفہوم انہیں معلوم ہو سکے اور وہ نئی نسل کی تربیت صحیح انداز میں کر سکیں ۔
      درحقیقت تعلیم ہی وہ زیور ہے جس سے عورت اپنے مقام سے آگاہ ہو کر اپنا اور معاشرے کا مقدر سنوار سکتی ہے ۔لیکن افسوس یہ ہے کہ کچھ بزرگ تعلیم نسواں کے متعلق بڑی غلط فہمی میں مبتلاہیں ۔وہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم صرف لڑکوں ہی کو دینا ضروری ہےاورتعلیم صرف روزگار کے لئے چاہیےاس لئےاس میدان میں صرف مردوں کو آنا چاہیے۔عورتیں صرف باورچی خانے کے لیے پیدا ہوئی ہیں اور ان کی زندگی باورچی خانے سے شروع ہو کر دستر خوان پر ختم ہو جاتی ہے۔اس طرح کی سوچ اوراسطرح کی باتیں ہرگز درست نہیں ۔عورتیں بھی انسان ہیں ۔علم کی روشنی انسان کو جینا سکھاتی ہےاور عورتوں کو بھی جینے کا  پوراحق ہے۔
        تاریخ بتاتی ہے کہ خواتیں علم تفسیر ،حدیث ،فقہ اور دین میں مردوں سے کم نہیں رہیں ۔تاریخ میں عورتوں کے اہل علم ہونے کے حوالے سے جن صحابیات ؓکا ذکر آیا ہے ،اس میںسر فہرست میں امہات المومنین حضرت عائشہؓ وحضرت ام سلمہؓ ،فقہ و حدیث کے ساتھ ساتھ تفسیر میں بہت بلند مقام کی حامل خواتین تھیں ۔حضرت اـــ’م سلمہؓ کی بیٹی زینب بنت ابوسلمہؓ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہن دلدادہ تھیں،اُن کو ایک اعلیٰ درجے کی فقیہ اور عالمہ صحابیہ کا مقام حاصل ہوا تھا۔کسی دانا کا قول ہے کہ ’’ما ں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہے،بچہ جو کچھ اس درس گاہ سے سیکھتا ہے ،وہ اس کی آئندہ زندگی پر بہت اثر انداز ہوتا ہے،بچے کی بہترین تربیت کے لئے ماں کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔‘‘ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کی مجموعی طور پر دین سے روشناس کرانے ،تہذیب و ثقافت سے بہرہ ور کرنے  میں اس قوم کی خواتین کا اہم بلکہ مرکزی اور اساسی کردار ہوتا ہے اور قوم کے نونہالوں کی صحیح اٹھان اور نشوونما میں ان کی مائوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت کا ہونا بھی اس  باعث ہے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت میں ماں کا کردار بہ نسبت باپ سے زیادہ ہوتا ہے۔فرانس کے مشہور بادشاہ نیپولین کا قول ہے ’’ آپ مجھے اچھی مائیں دیں ،میں آپ کو بہترین قوم دوں گا‘‘۔
       موجودہ  دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ دنیا ایک عالمی گائوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔اب وہی قوم یا ملک اس جہاں پر حکمرانی کر سکتا ہے جو علم اور ٹیکنالوجی میں آگے ہے۔اگر کسی ملک کی نصف آبادی یعنی خواتین پسماندہ ہوں گی،تو وہ قوم کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی۔لہٰذا عورتوں کے لئے تعلیم کا حصول اور واقفیت عامہ یا معلومات عامہ سے آراستہ ہونا نہایت ضروری ہو چکا ہے۔آج کی دنیا نہایت تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی منازل طے کررہی ہے۔اس لئے ایک پڑھی لکھی عورت ہی اس نئے ماحول سے مطابقت پیدا کر سکتی ہے ۔ایک تعلیم یافتہ عورت اپنا ما فی الضمیرآسانی سے دوسروں تک پہنچا سکتی ہے ۔وہ اپنی رائے کا اظہار بہتر طریقے سے کر سکتی ہے۔ایک تعلیم یافتہ عورت ملک کی ترقی کے لئے اپنا کردار بہتر طریقے سے ادا کر سکتی ہے۔وہ اپنے خاندان اور معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوتی ہے۔ماں کے کردار کے علاوہ خواتین ڈاکٹر یا نرس ،ماہر امور خانہ داری ،ذمہ دار پولیس آفیسر اور وکیل ، اسکول ٹیچر یا پروفیسرکے طور پر معاشرے کی ترقی میں موثر کردار ادا کرتی رہی ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ کسی بھی کامیابی میں کسی عورت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے لیکن افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے مسلم گھرانے کے بعض لوگ اپنی بیٹیوں کو دینی اور دنیوی تعلیم سے دور رکھتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم کی طرف با لکل توجہ نہیں دیتے۔ آج اگر دیکھا جائے تو عورتیں مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ چلتی نظر آتی ہیں ۔امور خانہ داری کے ساتھ بچوں کی پرورش وپرداخت اور پھر شوہر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا ،خود اپنا کام کرنا الغرض مرد سے زیادہ بوجھ عورتوں پر پڑتا ہے، اس وجہ سے عورتوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا بالکل ضروری ہے۔کیونکہ تعلیم ہی انسان کو بہترین زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔آبادی کا تقریباً نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے جنکی متوازن شرکت کے بغیر مطلوبہ ترقی نہیں ہو سکتی، جو کہ صرف تعلیم نسواں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔اس وجہ سے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں اور لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کی جانب اپنی خصوصی توجہ فرمائیں ۔  
  وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
  اسی کے ساز سے ہے  زندگی  سوزدروں 
رابطہ۔9599752534